مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
151. حَدِيثُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15703
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا شُعْبَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، أَنَّ رَجُلًا لَطَمَ جَارِيَةً لِآلِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، فَقَالَ لَهُ سُوَيْدٌ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصُّورَةَ مُحَرَّمَةٌ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ إِخْوَتِي، وَمَا لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدٌ، فَلَطَمَهُ أَحَدُنَا، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ نُعْتِقَهُ".
سیدنا سوید بن مقرن کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آل سوید کی ایک باندی کو تھپڑ مارا سیدنا سوید نے اس سے فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ چہرے پر مارنا حرام ہے ہم لوگ سات بھائی تھے ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا ہم میں سے کسی نے ایک مرتبہ اسے تھپڑ ماردیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اسے آزاد کر دیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15703]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1658، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى شعبة
حدیث نمبر: 15704
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ هلالا رَجُلًا مِنْ بَنِي مَازِنٍ يُحَدِّثُ , عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ , قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَبِيذٍ فِي جَرٍّ، فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ،" فَنَهَانِي عَنْهُ، فَأَخَذْتُ الْجَرَّةَ فَكَسَرْتُهَا.
سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مٹکے میں نبیذ لے کر آیا اور اس کے متعلق حکم دریافت کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس سے منع فرما دیا، چنانچہ میں نے وہ مٹکا پکڑا اور توڑ ڈالا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15704]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال أبى حمزة
حدیث نمبر: 15705
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ , قَالَ: لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا، ثُمَّ جِئْتُ وَأَبِي فِي الظُّهْرِ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِي، فَقَالَ: امتثل مِنْهُ , فَعَفَا، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُ , قَالَ: كُنَّا وَلَدَ مُقَرِّنٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَةً لَيْسَ لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدَةٌ، فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَعْتِقُوهَا" , فَقَالُوا: لَيْسَ لَنَا خَادِمٌ غَيْرُهَا، قَالَ:"، فَإِذَا اسْتَغْنَوْا فَلْيُخَلُّوا سَبِيلَهَا".
سیدنا سوید بن مقرن کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آل سوید کی ایک باندی کو تھپڑ مارا سیدنا سوید نے اس سے فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ چہرے پر مارنا حرام ہے ہم لوگ سات بھائی تھے ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا ہم میں سے کسی نے ایک مرتبہ اسے تھپڑ ماردیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اسے آزاد کر دیں۔ بھائیوں نے عرض کیا: کہ ہمارے پاس تو اس کے علاوہ کوئی اور خادم نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس سے خدمت لیتے رہواور جب اس سے بےنیاز ہو جائیں تو اس کا راستہ چھوڑ دیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15705]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1658