صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. بَابُ طُولِ النَّجْوَى:
باب: دیر تک سرگوشی کرنا۔
حدیث نمبر: Q6292
وَقَوْلُهُ: وَإِذْ هُمْ نَجْوَى مَصْدَرٌ مِنْ نَاجَيْتُ، فَوَصَفَهُمْ بِهَا وَالْمَعْنَى: يَتَنَاجَوْنَ"
(سورۃ بنی اسرائیل میں فرمایا) «وإذ هم نجوى» تو «نجوى»، «ناجيت» کا مصدر ہے یعنی وہ لوگ سرگوشی کر رہے ہیں یہاں یہ ان لوگوں کی صفت واقع ہو رہا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ/حدیث: Q6292]
حدیث نمبر: 6292
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَرَجُلٌ يُنَاجِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا زَالَ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَامَ أَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نماز کی تکبیر کہی گئی اور ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کرتے رہے، پھر وہ دیر تک سرگوشی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کے صحابہ سونے لگے اس کے بعد آپ اٹھے اور نماز پڑھائی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ/حدیث: 6292]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة