🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

242. حَدِيثُ صُحَارٍ الْعَبْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15956
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صُحَارٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُخْسَفَ بِقَبَائِلَ، فَيُقَالُ: مَنْ بَقِيَ مِنْ بَنِي فُلَانٍ"، قَالَ: فَعَرَفْتُ حِينَ قَالَ: قَبَائِلَ أَنَّهَا الْعَرَبُ، لِأَنَّ الْعَجَمَ تُنْسَبُ إِلَى قُرَاهَا.
سیدنا صحار عبدی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کچھ قبائل کو زمین میں دھنسا نہ دیا جائے اور لوگ پوچھنے لگیں فلاں قبیلے میں سے کتنے لوگ باقی بچے ہیں میں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبائل کا ذکر کرتے ہوئے سنا تو میں سمجھ گیا کہ اس سے مراد اہل عرب ہیں کیونکہ عجمیوں کو ان کے شہروں کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15956]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عبدالرحمن بن صحار مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15957
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صُحَارٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْذَنَ لِي فِي جَرَّةٍ أَنْتَبِذُ فِيهَا،" فَرَخَّصَ لِي فِيهَا"، أَوْ أَذِنَ لِي فِيهَا.
سیدنا صحار عبدی سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی مجھے مٹکے میں نبیذ بنانے کی اجازت دیدو چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دیدی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15957]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال عبدالرحمن بن صحار ، والضحاك بن يسار مختلف فيه، ضعفه غير واحد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں