🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

307. حَدِیث طَلقِ بنِ عَلِیّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16293
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ: وَفَدْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا وَدَّعَنَا أَمَرَنِي، فَأَتَيْتُهُ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ، فَحَثَا مِنْهَا، ثُمَّ مَجَّ فِيهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ أَوْكَأَهَا، ثُمَّ قَالَ:" اذْهَبْ بِهَا، وَانْضَحْ مَسْجِدَ قَوْمِكَ، وَأْمُرْهُمْ يَرْفَعُوا بِرُءُوسِهِمْ أَنْ رَفَعَهَا اللَّهُ" قُلْتُ: إِنَّ الْأَرْضَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ بَعِيدَةٌ وَإِنَّهَا تَيْبَسُ، قَالَ:" فَإِذَا يَبِسَتْ فَمُدَّهَا".
سیدنا طلق بن علی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ وفد کی صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے واپسی کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں آپ کے پاس پانی کا برتن لے کر آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پانی پیا اور تین مرتبہ اسی پانی میں کلی کی پھر اس برتن کا منہ باندھ دیا اور فرمایا: اس برتن کو لے جاؤ اور اس کا پانی اپنی قوم کی مسجد میں چھڑک دینا اور انہیں حکم دینا کہ اپنا سربلند رکھیں اور اللہ نے انہیں رفعت عطا فرمائی ہے میں نے عرض کیا: کہ ہمارے اور آپ کے درمیان کافی طویل فاصلہ ہے اس برتن کا پانی ہمارے علاقے تک پہنچتے پہنچتے خشک ہو جائے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب خشک ہو نے لگے تو اس میں مزید پانی ملا لینا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16293]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف بهذه السياقة ، محمد بن جابر ضعيف، وعبدالله بن بدر لم يسمع من طلق بن علي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16294
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ هَذِهِ الْأَهِلَّةَ مَوَاقِيتَ لِلنَّاسِ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا الْعِدَّةَ".
سیدنا طلق سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے چاند کو لوگوں کے لئے اوقات کا ذریعہ بتایا ہے لہذاجب چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید مناؤ اگر بادل چھائے ہوئے ہوں تو تیس کا عدد پورا کر و۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16294]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن جابر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16295
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَتَوَضَّأُ أَحَدُنَا إِذَا مَسَّ ذَكَرَهُ فِي الصَّلَاةِ؟، قَالَ:" هَلْ هُوَ إِلَّا مِنْكَ، أَوْ بَضْعَةٌ مِنْكَ؟".
سیدنا طلق سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ہم میں سے اگر کوئی شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے تو وضو کر ے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شرمگاہ بھی تمہارے جسم کا ایک حصہ ہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16295]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن جابر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16296
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو السُّحَيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي سِرَاجُ بْنُ عُقْبَةَ ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ طَلْقٍ حَدَّثَهُمَا، أَنَّ أَبَاهُ طَلْقَ بْنَ عَلِيٍّ أَتَانَا فِي رَمَضَانَ، وَكَانَ عِنْدَنَا حَتَّى أَمْسَى، فَصَلَّى بِنَا الْقِيَامَ فِي رَمَضَانَ، وَأَوْتَرَ بِنَا، ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدِ رَيْمَانَ، فَصَلَّى بِهِمْ حَتَّى بَقِيَ الْوَتْرُ، فَقَدَّمَ رَجُلًا فَأَوْتَرَ بِهِمْ، وَقَالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ".
قیس بن طلق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مارہ رمضان میں ہمارے والد سیدنا طلق بن علی ہمارے پاس آئے رات تک وہ ہمارے پاس ہی رہے انہوں نے ہمیں نماز تروایح پڑھائی اور وتر بھی پڑھائے پھر وہ مسجد ریحان چلے گئے اور انہیں بھی نماز پڑھائی جب وتر بچ گئے تو انہوں نے ان ہی میں سے ایک آدمی کو آگے کر دیا اور اس نے انہیں وتر پڑھا دیئے پھر سیدنا طلق نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک رات میں دو مرتبہ وتر نہیں ہوتے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16296]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں