مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
343. بَقِیَّة حَدِیثِ ابنِ الاَكوَعِ فِی المضَافِ مِنَ الاَصلِ
حدیث نمبر: 16529
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْحَمُكَ اللَّهُ" ثُمَّ عَطَسَ الثَّانِيَةَ أَوْ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ مَزْكُومٌ".
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ کی خدمت اقدس میں ایک مرتبہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی کو چھنک آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یرحمک اللہ کہہ کر اسے جواب دیا، اس نے دوبارہ چھینک ماری تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کو زکام ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16529]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 16530
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، فَقَالَ:" كُلْ بِيَمِينِكَ" قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ:" لَا اسْتَطَعْتَ"، قَالَ: فَمَا وَصَلَتْ إِلَى فِيهِ بَعْدُ.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اس نے کہا کہ میں دائیں ہاتھ سے کھانے کی طاقت نہیں رکھتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے اس کی توفیق نہ ہو، چنانچہ اس کے بعد اس کا داہنا ہاتھ اس کے منہ تک نہیں جاسکا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16530]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2021
حدیث نمبر: 16531
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَ عَيْنٌ لِلْمُشْرِكِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا طَعِمَ، انْسَلَّ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيَّ الرَّجُلَ، اقْتُلُوا"، قَالَ: فَابْتَدَرَ الْقَوْمُ، قَالَ: وَكَانَ أَبِي يَسْبِقُ الْفَرَسَ شَدًّا، قَالَ: فَسَبَقَهُمْ إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَخَذَ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِخِطَامِهَا، قَالَ: ثُمَّ قَتَلَهُ، قَالَ: فَنَفَّلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مقام پر پڑاؤ کیا، مشرکین کا ایک جاسوس خبر لینے کے لئے آیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ صبح کا ناشتہ کر رہے تھے، انہوں نے اسے بھی (مہمان ظاہر کر کے) کھانے کی دعوت دے دی، جب وہ آدمی کھانے سے فارغ ہوا تو اپنی سواری پر سوار ہو کر واپس روانہ ہو تاکہ اپنے ساتھیوں کو خبردار کر سکے، میں نے اس کا پیچھا کر کے اس کی سواری کو بٹھایا اور اس کی گردن اڑادی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سازوسامان مجھے بطور انعام کے دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16531]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16532
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي الْمَغْرِبَ سَاعَةَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ إِذَا غَابَ حَاجِبُهَا".
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز غروب آفتاب کے بعد اس وقت پڑھتے جب اس کا کنارہ غروب ہو جاتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16532]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 636
حدیث نمبر: 16533
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ :" عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ؟، قَالَ: بَايَعْنَاهُ عَلَى الْمَوْتِ".
یزید بن ابوعبید کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حدیبیہ کے دن آپ نے کس چیز پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی؟ انہوں نے فرمایا: موت پر بیعت کی تھی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16533]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2960، م: 1860
حدیث نمبر: 16534
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَا:" خَرَجَ عَلَيْنَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَى أِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَذِنَ لَكُمْ فَاسْتَمْتِعُوا يَعْنِي مُتْعَةَ النِّسَاءِ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی جہاد میں شریک تھے، اسی دوران ہمارے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قاصد آیا اور کہنے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے تم عورتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16534]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5117، م: 1405
حدیث نمبر: 16535
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ:" كُنْتُ أُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا رَأَيْتُهُ صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ، وَلَا بَعْدَ الصُّبْحِ قَطُّ".
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کرتا رہا ہوں میں نے آپ کو نماز عصر یا فجر کے بعد کبھی بھی نوافل پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16535]
حکم دارالسلام: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 16536
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ، وَغَطَفَانَ فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، فَانْتَزَعَ شَيْئًا مِنْ حَقَبِ الْبَعِيرِ، فَقَيَّدَ بِهِ الْبَعِيرَ، ثُمَّ جَاءَ يَمْشِي حَتَّى قَعَدَ مَعَنَا يَتَغَدَّى، قَالَ: فَنَظَرَ فِي الْقَوْمِ، فَإِذَا ظَهْرُهُمْ فِيهِ قِلَّةٌ، وَأَكْثَرُهُمْ مُشَاةٌ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى الْقَوْمِ، خَرَجَ يَعْدُو، قَالَ: فَأَتَى بَعِيرَهُ، فَقَعَدَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَخَرَجَ يُرْكُضُهُ، وَهُوَ طَلِيعَةٌ لِلْكُفَّارِ، فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَّا مِنْ أَسْلَمَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ وَرْقَاءَ، قَالَ إِيَاسٌ: قَالَ أَبِي: فَاتَّبَعْتُهُ أَعْدُو عَلَى رِجْلَيَّ، قَالَ: وَرَأْسُ النَّاقَةِ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ، قَالَ: وَلَحِقْتُهُ فَكُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ النَّاقَةِ، وَتَقَدَّمْتُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ، فَقُلْتُ لَهُ: أخْ، فَلَمَّا وَضْعَ ركبتَهُ الْجَمَلُ إِلَى الْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي، فَضَرَبْتُ رَأْسَهُ، فَنَدَرَ، ثُمَّ جِئْتُ بِرَاحِلَتِهِ أَقُودُهَا، فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ، قَالَ:" مَنْ قَتَلَ هَذَا الرَّجُلَ؟"، قَالُوا: ابْنُ الْأَكْوَعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَهُ سَلَبُهُ أَجْمَعُ".
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ہوازن کے خلاف جہاد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مقام پر پڑاؤ کیا، مشرکین کا ایک جاسوس خبر لینے کے لئے آیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ صبح کا ناشتہ کر رہے تھے، انہوں نے اسے بھی مہمان ظاہر کر کے کھانے کی دعوت دے دی، جب وہ آدمی کھانے سے فارغ ہوا تو اپنی سواری پر سوار ہو کر واپس روانہ ہوا تاکہ اپنے ساتھیوں کو خبردار کر سکے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے قبیلہ اسلم کا ایک آدمی بہترین قسم کی خاکستیری اونٹنی پر سوار ہو کر اس کے پیچھے لگ گیا، میں بھی دوڑتا ہوا نکلا اور اسے پکڑ لیا، اونٹنی کا سر اونٹ کے سرین کے پاس تھا اور میں اونٹنی کے سرین کے پاس، میں تھوڑا سا آگے بڑھ کر اونٹ کے سرین کے قریب ہو گیا، پھر تھوڑا سا قریب ہو کر اس کے اونٹ کی لگام پکڑ لی، میں نے اس کی سواری کو بٹھایا اور جب وہ بیٹھ گئی تو میں نے اس کی گردن اڑادی، میں اس کی سواری اور اس کے سازوسامان کو لے کر ہانکتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوا، راستہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آمنا سامنا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کو کس نے قتل کیا؟ لوگوں نے کہا ابن اکوع نے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا سازوسامان بھی اسی کا ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16536]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م:1754
حدیث نمبر: 16537
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى فَزَارَةَ، وَخَرَجْتُ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنَ الْمَاءِ عَرَّسَ أَبُو بَكْرٍ، حَتَّى إِذَا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ، أَمَرَنَا فَشَنَنَّا الْغَارَةَ، فَوَرَدْنَا الْمَاءَ، فَقَتَلَ أَبُو بَكْرٍ مَنْ قَتَلَ وَنَحْنُ مَعَهُ، قَالَ سَلَمَةُ: فَرَأَيْتُ عُنُقًا مِنَ النَّاسِ فِيهِمْ الذَّرَارِيُّ، فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِي إِلَى الْجَبَلِ، فَأَدْرَكْتُهُمْ، فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ، فَلَمَّا رَأَوْا السَّهْمَ قَامُوا، فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنْ فَزَارَةَ عَلَيْهَا قَشْعٌ مِنْ أَدَمٍ مَعَهَا ابْنَةٌ مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ، فَجِئْتُ أَسُوقُهُنَّ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا، فَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، ثُمَّ بَاتَتْ عِنْدِي، فَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ، فَقَالَ:" يَا سَلَمَةُ، هَبْ لِي الْمَرْأَةَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي، وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ، لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ، وَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا، فَقَالَ:" يَا سَلَمَةُ، هَبْ لِي الْمَرْأَةَ، لِلَّهِ أَبُوكَ"، قَالَ: قُلْتُ: هِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَبَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ، فَفَدَى بِهَا أُسَرَاءَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا فِي أَيْدِي الْمُشْرِكِينَ.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا صدیق اکبر کے ساتھ نکلے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا امیر مقرر کیا تھا، ہم بنو فزارہ سے جہاد کے لئے جا رہے تھے، جب ہم ایسی جگہ پر پہنچے جو پانی کے قریب تھی تو سیدنا صدیق اکبر نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے پڑاؤ ڈال دیا، فجر کی نماز پڑھ کر انہوں نے ہمیں دشمن پر حملہ کا حکم دیا اور ہم ان پر ٹوٹ پڑے اور اس ندی کے قریب بیشمار لوگوں کو قتل کر دیا، اچانک میری نظر ایک تیز رفتار گروہ پر پڑی جو پہاڑ کی طرف چلا جا رہا تھا اس میں عورتیں اور بچے تھے، میں ان کے پیچھے روانہ ہو گیا، لیکن پھر خطرہ ہوا کہ کہیں وہ مجھ سے پہلے ہی پہاڑ تک نہ پہنچ جائیں اس لئے میں نے ان کی طرف ایک تیر پھینکا جو ان کے اور پہاڑ کے درمیان جا گرا۔ پھر میں انہیں ہانکتا ہوا سیدنا صدیق اکبر کے پہ اس لے آیا اور اسی ندی کے پاس پہنچ گیا، ان میں بنو فزارہ کی ایک عورت بھی تھی جس نے چمڑے کی پوستین پہن رکھی تھی، اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی جو عرب کی انتہائی حسین و جمیل لڑکی تھی، اس کی وہ بیٹی سیدنا صدیق اکبر نے مجھے انعام کے طور پر بخش دی، میں نے مدینہ منورہ پہنچنے تک اس کا گھونگھٹ بھی کھول کر نہیں دیکھا، پھر رات ہوئی تب بھی میں نے اس کا گھونگھٹ نہیں ہٹایا، اگلے دن سر بازار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہو گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرمانے لگے سلمہ! وہ عورت مجھے ہبہ کر دو، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!! مجھے وہ اچھی لگی ہے اور میں اب تک اس کا گھونگھٹ بھی نہیں ہٹایا، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور مجھے چھوڑ کر چلے گئے، اگلے دن پھر سر بازار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات دہرائی اور مجھے میرے باپ کی قسم دی، میں نے قسم کھا کر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے وہ اچھی لگی ہے اور میں نے اب تک اس کا گھونگھٹ بھی نہیں ہٹایا ہے، لیکن یا رسول اللہ!! اب میں وہ آپ کو دیتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لڑکی اہل مکہ کے پاس بھجوادی جن کے قبضے میں بہت سے مسلمان قیدی تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے فدیئے میں اس لڑکی کو پیش کر کے ان سے قیدیوں کو چھڑا لیا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16537]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1755
حدیث نمبر: 16538
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِيَاسُ ابْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ: بَارَزَ عَمِّي يَوْمَ خَيْبَرَ مَرْحَبًا الْيَهُودِيُّ، فَقَالَ مَرْحَبٌ: قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ، فَقَالَ عَمِّي عَامِرٌ: قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرُ شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُغَامِرُ فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ، فَوَقَعَ سَيْفُ مَرْحَبٍ فِي تُرْسِ عَامِرٍ، وَذَهَبَ يَسْفُلُ لَهُ، فَرَجَعَ السَّيْفُ عَلَى سَاقِهِ، فقَطَعَ أَكْحَلَهُ، فَكَانَتْ فِيهَا نَفْسُهُ، قَالَ: سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ فلَقِيتُ نَاسًا مِنْ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ، قَتَلَ نَفْسَهُ، قَالَ سَلَمَةُ: فَجِئْتُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْكِي، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ، قَالَ:" مَنْ قَالَ ذَاكَ؟"، قُلْتُ: نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَذَبَ مَنْ قَالَ ذَاكَ، بَلْ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ"، إِنَّهُ حِينَ خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ، جَعَلَ يَرْجُزُ بِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِيهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسُوقُ الرِّكَابَ، وَهُوَ يَقُولُ: تَالَلَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا إِنَّ الَّذِينَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِكَ مَا اسْتَغْنَيْنَا فَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ هَذَا؟"، قَالَ عَامِرٌ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" غَفَرَ لَكَ رَبُّكَ"، قَالَ: وَمَا اسْتَغْفَرَ لِإِنْسَانٍ قَطُّ يَخُصُّهُ إِلَّا اسْتُشْهِدَ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ مَتَّعْتَنَا بِعَامِرٍ، فَقَدِمَ فَاسْتُشْهِدَ، قَالَ سَلَمَةُ: ثُمَّ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَنِي إِلَى عَلِيٍّ، فَقَالَ:" لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، أَوْ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ"، قَالَ: فَجِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ أَرْمَدَ، فَبَصَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنِهِ، ثُمَّ أَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَخَرَجَ مَرْحَبٌ يَخْطِرُ بِسَيْفِهِ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رضي الله عنه: أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ أُوفِيهِمُ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ، فَفَلَقَ رَأْسَ مَرْحَبٍ بِالسَّيْفِ، وَكَانَ الْفَتْحُ عَلَى يَدَيْهِ.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر میرے چچا نے مرحب یہو دی کو مقابلے کی دعوت دی، مرحب کہنے لگا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ سے مسلح، بہادر، تجربہ کار ہوں جس وقت جنگ کی آگ بھڑکنے لگتی ہے، میرے چچا عامر نے بھی یہ رجزیہ اشعار پڑھے خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہوں اسلحہ سے مسلح اور بےخوف جنگ میں گھسنے والا ہوں۔ سیدنا سلمہ کہتے ہیں کہ عامر اور مرحب دونوں ضربیں مختلف طور پر پڑنے لگیں۔ مرحب کی تلوار عامر کی ڈھال پر لگی اور عامر نے نیچے سے مرحب کو تلوار ماری تو سیدنا عامر کی اپنی تلوار خود انہی کو لگ گئی جس سے ان کی شہ رگ کٹ گئی اور اس کے نتیجہ میں وہ شہید ہو گئے، سیدنا سلمہ کہتے ہیں کہ میں نکلا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کر یم کے چند صحابہ کو دیکھا وہ کہنے لگے سیدنا عامر کا عمل ضائع ہو گیا۔ انہوں نے اپنے آپ کو خود مار ڈالا ہے، سیدنا سلمہ کہتے ہیں کہ میں یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روتا ہوا آیا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! عامر کا عمل ضائع ہو گیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کس نے کہا ہے؟ میں نے عرض کیا: آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا ہے۔ آپ نے فرمایا: جس نے بھی کہا ہے غلط کہا ہے بلکہ عامر کے لئے دگنا اجر ہے۔ جس وقت عامر، رسول اللہ کے ساتھ خیبر کی طرف نکل پڑے، انہوں نے رجزیہ اشعار پڑھنے شروع کر دیئے۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ کی مدد نہ ہو تی تو ہمیں ہدایت نہ ملتی اور نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ ہی ہم نماز پڑھتے، یہ لوگ ہم پر سرکشی کا ارادہ رکھتے ہیں، لیکن یہ جب بھی کسی فتنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم اس کا حصہ بننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ اور ہم (اے اللہ) تیرے فضل سے مستغنی نہیں ہیں اور تو ہمیں ثابت قدم رکھ جب ہم دشمن سے ملیں اور (اے اللہ) ہم پر سکینت نازل فرما۔ (جب یہ رجزیہ اشعار سنے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!! میں عامر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا رب تیری مغفت فرمائے، راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ جب کسی انسان کے لئے خاص طور پر مغفرت کی دعا فرماتے تو وہ ضرور شہادت کا درجہ حاصل کرتا، سیدنا سلمہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب اپنے اونٹ پر تھے انہوں نے یہ سن کر بلند آواز سے پکارا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ہمیں عامر سے کیوں نہ فائدہ حاصل کرنے دیا، پھر عامر آگے بڑھ کر شہید ہو گئے۔ پھر آپ نے مجھے سیدنا علی کی طرف بھیجا۔ آپ نے فرمایا: میں جھنڈا ایک ایسے آدمی کو دوں گا کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہواور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت رکھتے ہوں۔ سیدنا سلمہ کہتے ہیں کہ میں علی کو پکڑ کر (سہارا دے کر) آپ کی خدمت میں لے آیا کیونکہ علی کی آنکھیں دکھ رہی تھیں، آپ نے سیدنا علی کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا تو ان کی آنکھیں اسی وقت ٹھیک ہو گئیں۔ آپ نے ان کو جھنڈا عطا فرمایا: اور مرحب یہ کہتا ہوا نکلا۔ خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ سے مسلح، بہادر، تجربہ کار ہوں جب جنگ کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ پھر سیدنا علی نے بھی جواب میں کہا کہ میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے اس شیر کی طرف جو جنگلوں میں ڈرانی صورت ہوتا ہے میں لوگوں کو ایک صاع کے بدلہ، اس سے بڑا پیمانہ دیتا ہوں۔ سیدنا سلمہ کہتے ہیں کہ پھر سیدنا علی نے مرحب کے سر پر ایک ضرب لگائی تو وہ قتل ہو گیا اور خیبر سیدنا علی کے ہاتھوں فتح ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16538]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2975، م: 1807