مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
551. حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 17761
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَدْخُلَ عَلَى الْمُغَيَّبَاتِ" .
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسی عورتوں کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے جن کے شوہر موجود نہ ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17761]
حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، أبو صالح لم يصرح بسماعه لهذا الحديث من عمرو بن العاص
حدیث نمبر: 17762
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فَصْلَ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أهل الكتاب، أَكْلَةُ السَّحَرِ" .
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق سحری کھانا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17762]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1096
حدیث نمبر: 17763
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، يَقُولُ: بَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " خُذْ عَلَيْكَ ثِيَابَكَ وَسِلَاحَكَ، ثُمَّ ائْتِنِي". فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ ثُمَّ طَأْطَأَهُ، فَقَالَ:" إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ عَلَى جَيْشٍ فَيُسَلِّمَكَ اللَّهُ وَيُغْنِمَكَ، وَأَزْغَبُ لَكَ مِنَ الْمَالِ زَغْبَةً صَالِحَةً". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَسْلَمْتُ مِنْ أَجْلِ الْمَالِ، وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ، وَأَنْ أَكُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: يَا عَمْرُو، نِعِمَّا بِالْمَالُ الصَّالِحُ لِلْمَرْءِ الصَّالِحِ" . حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى ، سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، يَقُولُ: فَذَكَرَهُ، وَقَالَ: صَعَّدَ فِيَّ البَصَرَ.
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس پیغام بھیجا کہ اپنے کپڑے اور اسلحہ زیب تن کر کے میرے پاس آؤ، میں جس وقت حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرما رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے نیچے سے اوپر تک دیکھا پھر نظریں جھکا کر فرمایا میرا ارادہ ہے کہ تمہیں ایک لشکر کا امیر بنا کر روانہ کروں، اللہ تمہیں صحیح سالم اور مال غنیمت کے ساتھ واپس لائے گا اور میں تمہارے لئے مال کی اچھی رغبت رکھتا ہوں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں نے مال و دولت کی خاطر اسلام قبول نہیں کیا، میں نے دلی رغبت کے ساتھ اسلام قبول کیا ہے اور اس مقصد کے لئے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت حاصل ہوجائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیک آدمی کے لئے حلال مال کیا ہی خوب ہوتا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17763]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
یہ حدیث کتاب میں موجود نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17764]
حدیث نمبر: 17765
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ، قَالَ: أُسِرَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، فَأَبَى قَالَ: فَجَعَلَ عَمْرٌو يَسْأَلُهُ يُعْجِبُهُ أَنْ يَدَّعِيَ أَمَانًا، قَالَ: فَقَالَ عَمْرٌو: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَدْنَاهُمْ" .
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ محمد بن ابی بکر قیدی بنا کر لائے گئے، عمرو نے ان سے سوالات پوچھنا شروع کردیئے، ان کی خواہش تھی کہ وہ ان سے امان طلب کریں، چنانچہ وہ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے تمام مسلمانوں کے سامنے ایک ادنیٰ مسلمان بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے (اور پھر اس کی حفاظت تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہوگی)۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17765]
حکم دارالسلام: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل المصري
حدیث نمبر: 17766
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثّنّا. وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ يُحَدِّثُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ أَهْدَى إِلَى نَاسٍ هَدَايَا، فَفَضَّلَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ" .
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ کچھ لوگوں کو ہدایا اور تحائف بھیجے، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو سب سے زیادہ بڑھا کر پیش کیا، کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عمار کو ایک باغی گروہ قتل کر دے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17766]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل المصري
حدیث نمبر: 17767
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مَوْلًى لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ أَرْسَلَهُ إِلَى عَلِيٍّ يَسْتَأْذِنُهُ عَلَى امْرَأَتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، فَأَذِنَ لَهُ، فَتَكَلَّمَا فِي حَاجَةٍ، فَلَمَّا خَرَجَ سَأَلَهُ الْمَوْلَى عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ عَمْرٌو :" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَأْذِنَ عَلَى النِّسَاءِ إِلَّا بِإِذْنِ أَزْوَاجِهِنَّ" .
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے غلام کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی زوجہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ سے ملنے کی اجازت لینے کے لئے بھیجا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دے دی، انہوں نے کسی معاملے میں ان سے بات چیت کی اور واپس آگئے، باہر نکل کر غلام نے ان سے اجازت لینے کی وجہ پوچھی تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر عورتوں کے پاس نہ جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17767]
حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، مولي عمرو بن العاص لم يبين
حدیث نمبر: 17768
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَلَى أَبِيهِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَقَرَّبَ إِلَيْهِمَا طَعَامًا، فَقَالَ: كُلْ. قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. قَالَ عَمْرٌو: كُلْ، فَهَذِهِ الْأَيَّامُ الَّتِي" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِفِطْرِهَا، وَيَنْهَى عَنْ صِيَامِهَا" . قَالَ مَالِكٌ: وَهِيَ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ.
ابو مرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے والد حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے یہاں آئے، انہوں نے دونوں کے سامنے کھانا لا کر رکھا اور فرمایا کھائیے، انہوں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کھاؤ، کہ ان ایام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کھانے پینے کا حکم دیتے تھے اور روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے، مراد ایام تشریق ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17768]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17769
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ دَخَلَ عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَدَعَاهُ إِلَى الْغَدَاءِ، فَقَالَ:" إِنِّي صَائِمٌ". ثُمَّ الثَّانِيَةَ كَذَلِكَ، ثُمَّ الثَّالِثَةَ كَذَلِكَ، فَقَالَ:" لَا، إِلَّا أَنْ تَكُونَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اپنے والد حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے اپنے بیٹے کو کھانے کی دعوت دی، لیکن انہوں نے جواب دیا کہ میں روزے سے ہوں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سنی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17769]
حکم دارالسلام: إسناده حسن فى المتابعات والشواهد من أجل سعيد بن كثير
حدیث نمبر: 17770
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ مَعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، فَقَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الشِّعْبِ إِذْ قَالَ:" انْظُرُوا، هَلْ تَرَوْنَ شَيْئًا؟" فَقُلْنَا: نَرَى غِرْبَانًا فِيهَا غُرَابٌ أَعْصَمُ أَحْمَرُ الْمِنْقَارِ وَالرِّجْلَيْنِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنَ النِّسَاءِ، إِلَّا مَنْ كَانَ مِنْهُنَّ مِثْلَ هَذَا الْغُرَابِ فِي الْغِرْبَانِ" .
عمارہ بن خزیمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حج یا عمرہ کے سفر میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ اسی جگہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو! تمہیں کچھ دکھائی دے رہا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ چند کوے نظر آ رہے ہیں جن میں ایک سفید کوا بھی ہے جس کی چونچ اور دونوں پاؤں سرخ رنگ کے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں صرف وہی عورتیں داخل ہو سکیں گی جو کو وں کی اس جماعت میں اس کوے کی طرح ہوں گی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17770]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح