مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
606. حَدِيثُ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 18008
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ أَخِي بَنِي فِهْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَمِثْلِ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ هَذِهِ فِي الْيَمِّ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ"، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ .
حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا کو آخرت کے ساتھ صرف اتنی ہی نسبت ہے جتنی تم میں سے کسی شخص کی انگلی سمندر میں ڈوبنے پر قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے، کہ جب وہ یہ انگلی ڈبوتا ہے تو باہر نکال کر دیکھے کہ اس پر کتنا پانی لگا ہے، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18008]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2858
حدیث نمبر: 18009
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ . وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ أَخَا بَنِي فِهْرٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ هَذِهِ فِي الْيَمِّ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ" ، يَعْنِي: الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ.
حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا کو آخرت کے ساتھ صرف اتنی ہی نسبت ہے جتنی تم میں سے کسی شخص کی انگلی سمندر میں ڈوبنے پر قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے، کہ جب وہ یہ انگلی ڈبوتا ہے تو باہر نکال کر دیکھے کہ اس پر کتنا پانی لگا ہے، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18009]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2858
حدیث نمبر: 18010
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ بِخِنْصَرِهِ" .
حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے تو اپنی انگلیوں کا خلال چھنگلیا سے فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18010]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن رواه عنه غير واحد ممن حدث عنه قديماً، ورواية هؤلاء عنه صالحة
حدیث نمبر: 18011
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا وَقَّاصُ بْنُ رَبِيعَةَ ، أَنَّ الْمُسْتَوْرِدَ حَدَّثَهُمْ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَكَلَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْلَةً، وَقَالَ مَرَّةً: أُكْلَةً فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُطْعِمُهُ مِثْلَهَا مِنْ جَهَنَّمَ، وَمَنْ اكْتَسَى بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ ثَوْبًا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَكْسُوهُ مِثْلَهُ مِنْ جَهَنَّمَ، وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ مَقَامَ سُمْعَةٍ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُومُ بِهِ مَقَامَ سُمْعَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے کسی مسلمان کا کوئی لقمہ زبردستی کھالیا تو اللہ تعالیٰ اسے اتنا ہی کھانا جہنم سے کھلائے گا، جس شخص نے کسی مسلمان کے کپڑے (زبردستی چھین کر) پہن لئے، اللہ تعالیٰ اسے ویسا ہی جہنمی لباس پہنائے گا اور جو شخص کسی مسلمان کو مقام ریاء و شہرت پر کھڑا کرے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے مقام شہرت (تشہیر) پر کھڑا کرے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18011]
حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، وقاص بن ربيعة مستور، وفيه تدليس ابن جريج لكنه توبع
حدیث نمبر: 18012
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ أَخَا بَنِي فِهْرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ إِلَيْهِ" .
حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا کو آخرت کے ساتھ صرف اتنی ہی نسبت ہے جتنی تم میں سے کسی شخص کی انگلی سمندر میں ڈوبنے پر قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے، کہ جب وہ یہ انگلی ڈبوتا ہے تو باہر نکال کر دیکھے کہ اس پر کتنا پانی لگا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18012]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2858
حدیث نمبر: 18013
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: كُنْتُ فِي رَكْبٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّ بِسَخْلَةٍ مَيْتَةٍ مَنْبُوذَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا؟" فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِنْ هَوَانِهَا أَلْقَوْهَا. قَالَ:" فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمِّدٍ بِيَدِهِ، لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا" .
حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قافلے میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک مردار بکری پر ہوا جس کی کھال اتار کر اسے پھینک دیا گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارا یہی خیال ہے کہ اس بکری کو اس کے مالک حقیر سمجھتے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! حقیر سمجھ کر ہی تو اسے انہوں نے پھینک دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے جتنی حقیر یہ بکری اپنے مالک کی نظر میں ہے، دنیا اللہ کی نظروں میں اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18013]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
حدیث نمبر: 18014
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ أَخَا بَنِي فِهْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ إِلَيْهِ" .
حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا کو آخرت کے ساتھ صرف اتنی ہی نسبت ہے جتنی تم میں سے کسی شخص کی انگلی سمندر میں ڈوبنے پر قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے، کہ جب وہ یہ انگلی ڈبوتا ہے تو باہر نکال کر دیکھے کہ اس پر کتنا پانی لگا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18014]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2858
حدیث نمبر: 18015
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ ، والْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ بْنَ شَدَّادٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ وَلِيَ لَنَا عَمَلًا وَلَيْسَ لَهُ مَنْزِلٌ، فَلْيَتَّخِذْ مَنْزِلًا، أَوْ لَيْسَتْ لَهُ زَوْجَةٌ فَلْيَتَزَوَّجْ، أَوْ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ فَلْيَتَّخِذْ خَادِمًا، أَوْ لَيْسَتْ لَهُ دَابَّةٌ، فَلْيَتَّخِذْ دَابَّةً، وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ غَالٌّ" .
حضرت مستورد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص ہماری طرف سے گورنر نامزد ہو اور اس کے پاس متعلقہ شہر میں کوئی گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو شادی کرسکتا ہے، خادم نہ ہو تو رکھ سکتا ہے، سواری نہ ہو تو رکھ سکتا ہے لیکن اس کے علاوہ جو کچھ لے گا، وہ اللہ کے یہاں خائن شمار ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18015]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد تابعه الأوزاعي، لكن لم تذكر الجملة الأخيرة عنده متصلة، وهى «ومن أصاب شيئا…...»
حدیث نمبر: 18016
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَابْنُ دَاوُدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ يُخَلِّلُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ بِخِنْصَرِهِ" .
حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے تو اپنی انگلیوں کا خلال چھنگلیا سے فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18016]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، ابن لهيعة سيئ الحفظ ، لكن رواه عنه غير واحد ممن حدث عنه قديماً ، رواية هؤلاء عنه صالحة
حدیث نمبر: 18017
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ الْمُسْتَوْرِدُ بْنُ شَدَّادٍ، وَعَمْرُو بْنُ غَيْلَانَ بْنِ سَلَمَةَ، فَسَمِعَ الْمُسْتَوْرِدَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ وَلِيَ عَمَلًا فَلَمْ يَكُنْ لَهُ زَوْجَةً فَلْيَتَزَوَّجْ، أَوْ خَادِمًا فَلْيَتَّخِذْ خَادِمًا، أَوْ مَسْكَنًا، أَوْ دَابَّةً فَلْيَتَّخِذْ دَابَّةً، فَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا سِوَى ذَلِكَ، فَهُوَ غَالٌّ سَارِقٌ" ..
حضرت مستورد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص ہماری طرف سے گورنر نامزد ہو اور اس کے پاس متعلقہ شہر میں کوئی گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو شادی کرسکتا ہے، خادم نہ ہو تو رکھ سکتا ہے، سواری نہ ہو تو رکھ سکتا ہے لیکن اس کے علاوہ جو کچھ لے گا، وہ اللہ کے یہاں خائن اور چور شمار ہوگا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18017]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع بدون الجملة: «فمن أصاب….»