🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

664. حَدِيثُ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18453
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا " أَصْحَابُهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِهِمْ الطَّيْرُ" .
حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ایسے بیٹھے ہوئے تھے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18453]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18454
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابُهُ عِنْدَهُ، كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِهِمْ الطَّيْرُ، قَالَ: فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَقَعَدْتُ، قَالَ: فَجَاءَتْ الْأَعْرَابُ، فَسَأَلُوهُ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَتَدَاوَى؟ قَالَ:" نَعَمْ، تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ دَوَاءً غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ الْهَرَمُ" . قَال وَكَانَ أُسَامَةُ حِينَ كَبِرَ يَقُولُ: هَلْ تَرَوْنَ لِي مِنْ دَوَاءٍ الْآنَ؟! قَال: وَسَأَلُوهُ عَنْ أَشْيَاءَ، هَلْ عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا وَكَذَا. قَالَ:" عِبَادَ اللَّهِ، وَضَعَ اللَّهُ الْحَرَجَ إِلَّا امْرَأً اقْتَرضَ امْرَأً مُسْلِمًا ظُلْمًا، فَذَلِكَ حَرَجٌ وَهُلْكٌ" . قَالُوا: مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ النَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " خُلُقٌ حَسَنٌ" .
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ایسے بیٹھے ہوئے تھے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرکے بیٹھ گیا اسی دوران کچھ دیہاتی لوگ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا ہم علاج معالجہ کرسکتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! علاج کیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں رکھی جس کا علاج نہ رکھا ہو سوائے ایک بیماری ' بڑھاپے " کے اسی وجہ سے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ اپنے بڑھاپے میں لوگوں سے کہتے تھے کہ اب تمہیں میرے لئے کوئی دوا مل سکتی ہے؟ پھر ان آنے والوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ چیزوں کے متعلق دریافت کیا کہ کیا فلاں فلاں چیز میں ہم پر کوئی حرج تو نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندگان خدا! اللہ نے حرج کو ختم فرمادیا ہے سوائے اس شخص کے جو کسی مسلمان کی ظلماً آبروریزی کرتا ہے کہ یہ گناہ اور باعث ہلاکت ہے، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! انسان کو سب سے بہترین کون سی چیز دی گئی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن اخلاق۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18454]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18455
حَدَّثَنَا ابْنُ زِيَادٍ يَعْنِي الْمُطَّلِبَ بْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَدَاوَوْا عِبَادَ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنَزِّلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ مَعَهُ شِفَاءً، إِلَّا الْمَوْتَ وَالْهَرَمَ" .
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بندو! علاج کیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں رکھی جس کا علاج نہ رکھا ہو سوائے ایک بیماری ' بڑھاپے " کے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18455]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18456
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا" . ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَتَدَاوَى؟ قَالَ: " تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً، عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ" .
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا ہم علاج معالجہ کرسکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! علاج کیا کرو کیونکہ اللہ نے کوئی ایسی بیماری نہیں رکھی جس کا علاج نہ رکھا ہو جو جان لیتا ہے وہ جان لیتا ہے اور جو ناواقف رہتا ہے وہ ناواقف رہتا ہے اس نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے بہترین انسان کون ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے اخلاق اچھے ہوں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18456]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل مصعب بن سلام
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں