🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

43. بَابُ الدُّعَاءِ بِرَفْعِ الْوَبَاءِ وَالْوَجَعِ:
باب: دعا سے وبا اور پریشانی دور ہو جاتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6372
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ، كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ، أَوْ أَشَدَّ وَانْقُلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا".
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اللهم حبب إلينا المدينة،‏‏‏‏ كما حببت إلينا مكة أو أشد،‏‏‏‏ وانقل حماها إلى الجحفة،‏‏‏‏ اللهم بارك لنا في مدنا وصاعنا» اے اللہ! ہمارے دل میں مدینہ کی ایسی ہی محبت پیدا کر دے جیسی تو نے مکہ کی محبت ہمارے دل میں پیدا کی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور اس کے بخار کو جحفہ میں منتقل کر دے، اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے مد اور صاع میں برکت عطا فرما۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6372]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا بیان کی): «اللّٰهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِيْنَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، وَانْقُلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ، اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا» اے اللہ! مدینہ طیبہ کی ایسی ہی محبت (ہمارے دلوں میں) پیدا کر دے جیسے تو نے مکہ مکرمہ کی محبت ہمارے دلوں میں پیدا کی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ، اور اس کے بخار کو مقام جحفہ میں منتقل کر دے۔ اے اللہ! ہمارے لیے مد اور ہمارے صاع میں برکت فرما۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6372]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6373
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ شَكْوَى أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَلَغَ بِي مَا تَرَى مِنَ الْوَجَعِ وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةٌ، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي، قَالَ:" لَا"، قُلْتُ: فَبِشَطْرِهِ، قَالَ:" الثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ، إِلَّا أُجِرْتَ حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ"، قُلْتُ: أَأُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي، قَالَ:" إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ، فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ، إِلَّا ازْدَدْتَ دَرَجَةً وَرِفْعَةً وَلَعَلَّكَ تُخَلَّفُ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ، وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ"، لَكِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ، قَالَ: سَعْدٌ رَثَى لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَنْ تُوُفِّيَ بِمَكَّةَ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے، کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی، انہیں عامر بن سعد نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ میری اس بیماری نے مجھے موت سے قریب کر دیا تھا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ خود مشاہدہ فرما رہے ہیں کہ بیماری نے مجھے کہاں پہنچا دیا ہے اور میرے پاس مال و دولت ہے اور سوا ایک لڑکی کے اس کا اور کوئی وارث نہیں، کیا میں اپنی دولت کا دو تہائی صدقہ کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا پھر آدھی کا کر دوں؟ فرمایا کہ ایک تہائی بہت ہے اگر تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور یقین رکھو کہ تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے اور اس سے مقصود اللہ کی خوشنودی ہوئی تمہیں تو اس پر ثواب ملے گا، یہاں تک کہ اگر تم اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ رکھو (تو اس پر بھی ثواب ملے گا) میں نے عرض کیا میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے چھوڑ دیا جاؤں گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم پیچھے چھوڑ دئیے جاؤ اور پھر کوئی عمل کرو جس سے مقصود اللہ کی رضا ہو تو تمہارا مرتبہ بلند ہو گا اور امید ہے کہ تم ابھی زندہ رہو گے اور کچھ قومیں تم سے فائدہ اٹھائیں گی اور کچھ نقصان اٹھائیں گی۔ اے اللہ! میرے صحابہ کی ہجرت کو کامیاب فرما اور انہیں الٹے پاؤں واپس نہ کر، البتہ افسوس سعد بن خولہ کا ہے۔ سعد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر افسوس کا اظہار اس وجہ سے کیا تھا کہ ان کا انتقال مکہ معظمہ میں ہو گیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6373]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر میری عیادت کے لیے تشریف لائے، میری اس بیماری نے مجھے موت کے قریب کر دیا تھا۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ خود مشاہدہ فرما رہے ہیں کہ بیماری نے مجھے کہاں تک پہنچا دیا ہے، میں صاحبِ ثروت ہوں اور میری ایک ہی بیٹی میری وارث ہے، کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کی: اپنا نصف مال دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کی: ایک تہائی دے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک تہائی بہت ہے، اگر تم ورثاء کو مال دار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم ان کو محتاج چھوڑو کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں، یقیناً تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے اگر اس سے مقصود اللہ کی رضا ہوئی تو تمہیں اس پر ثواب ملے گا یہاں تک کہ اگر تم اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ رکھو گے تو اس پر بھی ثواب ملے گا۔ میں نے پوچھا: کیا میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے چھوڑ دیا جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم پیچھے چھوڑ دیے جاؤ اور پھر کوئی عمل کرو جس سے مقصود اللہ کی رضا ہو تو تمہارا مرتبہ اور درجہ مزید بلند ہوگا، امید ہے کہ تم ابھی زندہ رہو گے اور کچھ قومیں تم سے نفع حاصل کریں گی جبکہ کچھ لوگ تمہاری وجہ سے نقصان میں رہیں گے۔ «اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ» اے اللہ! میرے صحابہ کی ہجرت کو بار آور کر دے اور انہیں الٹے پاؤں نہ پھیرنا۔ البتہ مجھے سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کا بہت افسوس ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر اظہارِ افسوس اس لیے کیا تھا کہ ان کا انتقال مکہ مکرمہ میں ہو گیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6373]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں