🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

777. حَدِيثُ الصُّنَابِحِيِّ الْأَحْمُسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19083
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَوَكِيعٌ ، قَالَا: حدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ الْأَحْمَسِيِّ . قَالَ وَكِيعٌ فِي حَدِيثِهِ: الصُّنَابِحِيّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ الْأُمَمَ فَلَا تَقْتَتِلُنَّ بَعْدِي" .
حضرت صنابحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا اور تمہاری کثرت کے ذریعے دوسری امتوں پر فخر کروں گا، لہٰذا میرے بعد ایک دوسرے کو قتل نہ کرنے لگ جانا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19083]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح على خطأ فى اسم صحابيه، وهو الصنابح بن الأعسر الأحمسي. فقوله: الصنابحي خطاء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19084
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الصُّنَابِحِيَّ الْبَجَلِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَمُكَاثِرٌ بِكُمْ الْأُمَمَ" قَالَ شُعْبَةُ: أَوْ قَالَ" النَّاسَ، فَلَا تَقْتَتِلُنَّ بَعْدِي" ..
حضرت صنابحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا اور تمہاری کثرت کے ذریعے دوسری امتوں پر فخر کروں گا، لہٰذا میرے بعد ایک دوسرے کو قتل نہ کرنے لگ جانا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19084]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح على خطأ فى اسم صحابيه، راجع ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19085

حکم دارالسلام: إسناده صحيح على خطأ فى اسم صحابيه، راجع ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19086
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ الْمُهَلَّبِيِّ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الصُّنَابِحِيّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ الْأُمَمَ، فَلَا تَرْجِعُنَّ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ" ..
حضرت صنابحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہاری کثرت کے ذریعے دوسری امتوں پر فخر کروں گا، لہٰذا میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19086]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف بهذه السياقة لضعف مجالد بن سعيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19087
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، وَرُبَّمَا قَالَ: الصُّنَابِحِ.

حکم دارالسلام: إسناده موصول بالإسناد الذى قبله، وهو ضعيف لضعف مجالد بن سعيد. والصواب فى اسم صحابيه : هو الصنابح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19088
قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ وَأَنَا شَاهِدٌ، سَمِعْتُ مَعْمَرًا يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ ، قَالَ: جُرِحَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ عَنْ رَحْلِهِ، قُلْتُ وَأَنَا غُلَامٌ: " مَنْ يَدُلُّ عَلَى رَحْلِ خَالِدٍ" فَأَتَاهُ وَهُوَ مَجْرُوحٌ، فَجَلَسَ عِنْدَهُ .
حضرت عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ حنین کے موقع پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ زخمی ہوگئے تھے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے درمیان " جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے چلتے جارہے ہیں اور فرماتے جارہے ہیں کہ خالد بن ولید کے خیمے کا پتہ کون بتائے گا؟ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے اور ان کے قریب جا کر بیٹھ گئے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19088]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، الزهري لم يسمع من عبدالرحمن بن أزهر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19089
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَزْهَرَ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَهُوَ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَسْأَلُ عَنْ رَحْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَأُتِيَ بِسَكْرَانَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ أَنْ يَضْرِبُوهُ بِمَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ، وَحَثَي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ" ..
حضرت عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے غزوہ حنین کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان سے راستہ بنا کر گذرتے جارہے ہیں اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ٹھکانے کا پتہ پوچھتے جارہے ہیں تھوڑی دیر میں ایک آدمی کو نشے کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوگ لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ آنے والوں کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھ میں جو کچھ ہے وہ اسی سے اس شخص کو ماریں۔ چناچہ کسی نے اسے لاٹھی سے مارا اور کسی نے کوڑے سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مٹی پھینکی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19089]

حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، الزهري لم يسمع من عبدالرحمن، وتصريح الزهري بسماعه من عبدالرحمن خطأ ، أخطأ فيه أسامة بن زيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19090
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَزْهَرَ الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَذَكَرَهُ..

حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، راجع ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19091
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ . وحدََّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، فَذَكَرَهُ. قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: الصُّنَابِحِيُّ رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ مِنْ أَحْمَسَ..

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده الثاني صحيح، وفي السند الأول محمد بن إسحاق وهو مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں