مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
794. حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 19442
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو دَوْسٍ الْيَحْصَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَائِذٍ الثُّمَالِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شَرُّ قَبِيلَتَيْنِ فِي الْعَرَبِ: نَجْرَانُ، وَبَنُو تَغْلِبَ" .
حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عرب کے دوسب سے بدترین قبیلے نجران اور بنو تغلب ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19442]
حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 19443
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِم ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مَوْهَبٍ الْأَمْلُوكِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّكُونِ، وَالسَّكَاسِكِ، وَعَلَى خَوْلَانَ خَوْلَان الْعَالِيَةِ، وَعَلَى الْأَمْلُوكِ أَمْلُوكِ رَدْمَانِ" .
حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قبیلہ سکون، سکاسک، خولان عالیہ اور املوک ردمان پر نزول رحمت کی دعاء فرمائی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19443]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن يزيد
حدیث نمبر: 19444
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فُوَاقَ نَاقَةٍ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ النَّارَ" .
حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک اونٹنی کے تھن میں دودھ اترنے کی مقدار کے برابر بھی اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہے اللہ اس کے چہرے پر جہنم کی آگ کو حرام قرار دے دیتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19444]
حکم دارالسلام: حديث قوي لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبدالعزيز بن عبيد الله ضعيف
حدیث نمبر: 19445
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدة ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ يَوْمًا خَيْلًا، وَعِنْدَهُ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا أَفْرَسُ بِالْخَيْلِ مِنْكَ"، فَقَالَ عُيَيْنَةُ: وَأَنَا أَفْرَسُ بِالرِّجَالِ مِنْكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَكَيْفَ ذَاكَ؟" قَالَ: خَيْرُ الرِّجَالِ رِجَالٌ يَحْمِلُونَ سُيُوفَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ، جَاعِلِينَ رِمَاحَهُمْ عَلَى مَنَاسِجِ خُيُولِهِمْ، لَابِسُو الْبُرُودِ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَذَبْتَ، بَلْ خَيْرُ الرِّجَالِ رِجَالُ أَهْلِ الْيَمَنِ، وَالْإِيمَانُ يَمَانٍ إِلَى لَخْمٍ، وَجُذَامَ، وَعَامِلَةَ، وَمَأْكُولُ حِمْيَرَ خَيْرٌ مِنْ آكِلِهَا، وَحَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ، وَقَبِيلَةٌ خَيْرٌ مِنْ قَبِيلَةٍ، وَقَبِيلَةٌ شَرٌّ مِنْ قَبِيلَةٍ، وَاللَّهِ مَا أُبَالِي أَنْ يَهْلِكَ الْحَارِثَانِ كِلَاهُمَا، لَعَنَ اللَّهُ الْمُلُوكَ الْأَرْبَعَةَ: جَمَدَاءَ، وَمِخْوَسًَا، وَمِشْرَحًا، وَأَبْضَعَةَ، وَأُخْتَهُمْ الْعَمَرَّدَةَ"، ثُمَّ قَالَ:" أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ أَلْعَنَ قُرَيْشًا مَرَّتَيْنِ، فَلَعَنْتُهُمْ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ مَرَّتَيْنِ، فَصَلَّيْتُ عَلَيْهِمْ مَرَّتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ:" عُصَيَّةُ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ غَيْرَ قَيْسٍ، وَجَعْدَةَ، وَعُصَيَّةَ"، ثُمَّ قَالَ:" لَأَسْلَمُ، وَغِفَارُ، وَمُزَيْنَةُ، وَأَخْلَاطُهُمْ مِنْ جُهَيْنَةَ، خَيْرٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، وَتَمِيمٍ، وَغَطَفَانَ، وَهَوَازِنَ، عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، ثُمَّ قَالَ:" شَرُّ قَبِيلَتَيْنِ فِي الْعَرَبِ: نَجْرَانُ، وَبَنُو تَغْلِبَ، وَأَكْثَرُ الْقَبَائِلِ فِي الْجَنَّةِ مَذْحِجٌ"، قَالَ: قَالَ أَبُو الْمُغِيرَةِ: قَالَ صَفْوَانُ:" وَمَأْكُولُ حِمْيَرَ خَيْرٌ مِنْ آكِلِهَا"، قَالَ: مَنْ مَضَى خَيْرٌ مِمَّنْ بَقِيَ .
حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گھوڑے پیش کئے جارہے تھے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عیینہ بن حصن بھی تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا میں تم سے زیادہ عمدہ گھوڑے پہچانتا ہوں اس نے کہا کہ میں آپ سے بہتر، مردوں کو پہچانتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کیسے؟ اس نے کہا کہ بہترین مرد وہ ہوتے ہیں جو کندھوں پر تلوار رکھتے ہوں، گھوڑوں کی گردنوں پر نیزے رکھتے ہوں اور اہل نجد کی چادریں پہنتے ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم غلط کہتے ہو، بلکہ بہترین لوگ یمن کے ہیں، ایمان یمنی ہے لخم، جذام اور عاملہ تک یہی حکم ہے حمیر کے گذرے ہوئے لوگ باقی رہ جانے والوں سے بہتر ہیں حضرموت بنوحارث سے بہتر ہے ایک قبیلہ دوسرے سے بہتر اور ایک قبیلہ دوسرے سے بدتر ہوسکتا ہے بخدا! مجھے کوئی پرواہ نہیں اگر دونوں حارث ہلاک ہوجائیں، چار قسم کے بادشاہوں پر اللہ کی لعنت ہو، (١) بخیل (٢) بدعہد (٣) بدمزاج (٤) کمزور لاغر اور انہیں میں بدخلق بھی شامل ہیں۔ پھر فرمایا کہ میرے رب نے مجھے دو مرتبہ قریش پر لعنت کرنے کا حکم دیا ہے چناچہ میں نے ان پر لعنت کردی پھر مجھے ان کے لئے دعاء رحمت کرنے کا دو مرتبہ حکم دیا تو میں نے ان کے لئے دعا کردی اور فرمایا کہ قبیلہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے سوائے قیس، جعدہ اور عصیہ کے نیز فرمایا کہ قبیلہ اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ میں ان کے مشترکہ خاندان قبیلے نجران اور بنوتغلب ہیں اور جنت میں سب سے زیادہ اکثریت والے قبیلے مذحج اور ماکول ہوں گے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19445]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
یہ حدیث کتاب میں موجود نہیں ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19446]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19447
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَجَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَجْوَبُهُ دَعْوَةً"، قُلْتُ: أَوْجَبُهُ؟ قَالَ: لَا، بَلْ أَجْوَبُهُ، يَعْنِي بِذَلِكَ الْإِجَابَةَ ..
حضرت عمروبن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کی نماز دو رکعتیں کرکے پڑھی جائے اور رات کے آخری پہر میں دعاء سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19447]
حکم دارالسلام: قوله منه :جوف الليل أجوبه دعوة صحيح، وقوله منه: صلاة الليل مثنى مثنى صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر بن عبد الله، وقد اضطرب فى متن هذا الحديث
حدیث نمبر: 19448
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَ ذَلِكَ.
حکم دارالسلام: هو مكرر ماقبله
حدیث نمبر: 19449
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَجَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَوْجَبُهُ دَعْوَةً"، قَالَ: فَقُلْتُ: أَجوبُه؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أَوْجَبُهُ، يَعْنِي بِذَلِكَ الْإِجَابَةَ .
حضرت عمروبن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کی نماز دو رکعتیں کرکے پڑھی جائے اور رات کے آخری پہر میں دعاء سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19449]
حکم دارالسلام: بعضه صحيح، و بعضه الآخر صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، راجع ماقبله
حدیث نمبر: 19450
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ابْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ خَيْلًا، وَعِنْدَهُ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ، فَقَالَ لِعُيَيْنَةَ:" أَنَا أَبْصَرُ بِالْخَيْلِ مِنْكَ"، فَقَالَ عُيَيْنَةُ: وَأَنَا أَبْصَرُ بِالرِّجَالِ مِنْكَ، قَالَ:" فَكَيْفَ ذَاكَ؟" قَالَ: خِيَارُ الرِّجَالِ الَّذِينَ يَضَعُونَ أَسْيَافَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ، وَيَعْرِضُونَ رِمَاحَهُمْ عَلَى مَنَاسِجِ خُيُولِهِمْ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ، قَالَ:" كَذَبْتَ، خِيَارُ الرِّجَالِ رِجَالُ أَهْلِ الْيَمَنِ، وَالْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَأَنَا يَمَانٍ، وَأَكْثَرُ الْقَبَائِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الْجَنَّةِ مَذْحِجٌ، وحَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ، وَمَا أُبَالِي أَنْ يَهْلِكَ الْحَيَّانِ كِلَاهُمَا، فَلَا قِيلَ وَلَا مُلْكَ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، لَعَنَ اللَّهُ الْمُلُوكَ الْأَرْبَعَةَ: جَمَدًَا، وَمِشْرَحًا، وَمِخْوَسًَا، وَأَبْضَعَةَ، وَأُخْتَهُمْ الْعَمَرَّدَةَ" .
حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گھوڑے پیش کئے جارہے تھے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عیینہ بن حصن بھی تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا میں تم سے زیادہ عمدہ گھوڑے پہچانتا ہوں اس نے کہا کہ میں آپ سے بہتر، مردوں کو پہچانتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کیسے؟ اس نے کہا کہ بہترین مرد وہ ہوتے ہیں جو کندھوں پر تلوار رکھتے ہوں، گھوڑوں کی گردنوں پر نیزے رکھتے ہوں اور اہل نجد کی چادریں پہنتے ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم غلط کہتے ہو، بلکہ بہترین لوگ یمن کے ہیں، ایمان یمنی ہے لخم، جذام اور عاملہ تک یہی حکم ہے حمیر کے گذرے ہوئے لوگ باقی رہ جانے والوں سے بہتر ہیں حضرموت بنوحارث سے بہتر ہے ایک قبیلہ دوسرے سے بہتر اور ایک قبیلہ دوسرے سے بدتر ہوسکتا ہے بخدا! مجھے کوئی پرواہ نہیں اگر دونوں حارث ہلاک ہوجائیں، چار قسم کے بادشاہوں پر اللہ کی لعنت ہو، (١) بخیل (٢) بدعہد (٣) بدمزاج (٤) کمزور لاغر اور انہیں میں بدخلق بھی شامل ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19450]
حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن عمرو بن عبسة