مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
818. حَدِيثُ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 20299
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ عَوْفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيُّ ، قَالَ: سَأَلْتُ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ عَنِ الشَّرَابِ، فَقَالَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَتْ كَثِيرَةَ التَّمْرِ، " فَحَرَّمَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَضِيخَ" , وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ أُمٍّ لَهُ عَجُوزٍ كَبِيرَةٍ: أَنَسْقِيهَا النَّبِيذَ، فَإِنَّهَا لَا تَأْكُلُ الطَّعَامَ؟ فَنَهَاهُ مَعْقِلٌ.
ابو عبداللہ جسری کہتے ہیں میں نے حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مشروبات کے حوالے سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ مدینہ منوہ میں رہتے تھے جہاں کھجوریں کثرت سے ہوتی تھیں وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر فضیح نامی شراب کو حرام قرار دے دیا تھا پھر ایک آدمی نے آکر حضرت معقل بن سیار سے اپنی بوڑھی والدہ کے متعلق پوچھا کہ کیا انہیں نبیذ پلائی جاسکتی ہے کیونکہ وہ کھانے کی کوئی چیز نہیں کھاسکتی تو حضرت معقل نے اس سے منع فرمایا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20299]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20300
حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْبَقَرَةُ سَنَامُ الْقُرْآنِ وَذُرْوَتُهُ، نَزَلَ مَعَ كُلِّ آيَةٍ مِنْهَا ثَمَانُونَ مَلَكًا، وَاسْتُخْرِجَتْ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ سورة البقرة آية 255 مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ، فَوُصِلَتْ بِهَا، أَوْ فَوُصِلَتْ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، وَيس قَلْبُ الْقُرْآنِ، لَا يَقْرَؤُهَا رَجُلٌ يُرِيدُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَالدَّارَ الْآخِرَةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ، وَاقْرَءُوهَا عَلَى مَوْتَاكُمْ" .
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورت بقرہ قرآن کریم کا کوہان اور اس کی بلندی ہے اس کی ہر آیت کے ساتھ اسی فرشتے نازل ہوئے اور آیت الکرسی عرش کے نیچے سے نکال کر لائی گئی جسے بعد میں سورت بقرہ سے ملا دیا گیا اور سورت یسین قرآن کریم کا دل ہے جو شخص بھی اسے اللہ کو اور راہ آخرت کو حاصل کرنے کے لئے بڑھتا ہے اس کی بخشش کردی جاتی ہے اور اسے اپنے مردوں پر پڑھا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20300]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة الرجل وأبيه
حدیث نمبر: 20301
حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، وَلَيْسَ بِالنَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَءُوهَا عَلَى مَوْتَاكُمْ" يَعْنِي: يس .
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورت یسین کو اپنے مردوں پر پڑھا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20301]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة الرجل وأبيه
حدیث نمبر: 20302
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي الرَّبَابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ , يَقُولُ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ، فَنَزَلْنَا فِي مَكَانٍ كَثِيرِ الثُّومِ، وَإِنَّ أُنَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَصَابُوا مِنْهُ، ثُمَّ جَاءُوا إِلَى الْمُصَلَّى يُصَلُّونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَاهُمْ عَنْهَا، ثُمَّ جَاءُوا بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى الْمُصَلَّى، فَنَهَاهُمْ عَنْهَا، ثُمَّ جَاءُوا بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى الْمُصَلَّى، فَنَهَاهُمْ عَنْهَا، ثُمَّ جَاءُوا بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى الْمُصَلَّى فَوَجَدَ رِيحَهَا مِنْهُمْ، فَقَالَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، فَلَا يَقْرَبْنَا فِي مَسْجِدِنَا" ..
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے ہم نے ایک ایسی جگہ پڑاؤ کیا جہاں لہسن کی کثرت موجود تھی کچھ مسلمانوں نے اسے کھایا پھر مسجد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لہسن کچا کھانے سے منع فرمایا دوبارہ ایسا ہوا تو دوبارہ منع کیا اور تیسری مرتبہ ایسا ہونے پر فرمایا جو شخص اس درخت سے کچھ کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20302]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف الجهالة ابي الرباب، وأخطأ محمد بن عبدالله فى تسمية الحكم بن عطية، وانما هو: الحكم بن طهمان
حدیث نمبر: 20303
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبِي الْقَاسِمِ الْحَنَفِيُّ أَبُو عَزَّةَ الدَّبَّاغُ ، عَنْ أَبِي الرَّبَابِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ , قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ..
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الرباب
حدیث نمبر: 20304
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ يَعْنِي إِسْحَاقَ بْنَ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي حُمْرَانُ أو حَمْدَانُ مَوْلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: صَحِبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا وَكَذَا.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اتنا عرصہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم نشینی کا شرف حاصل کیا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20304]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حمران مولى معقل
حدیث نمبر: 20305
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي شَيْبَةَ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ نُفَيْعِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مَعْقِلٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ: أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَ قَوْمٍ، فَقُلْتُ: مَا أَحْسَنَ أَنْ أَقْضِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " اللَّهُ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَحِفْ عَمْدًا" .
حضرت معقل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا میں اپنی قوم میں فیصلے کیا کروں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اچھی طرح فیصلہ نہیں کرنا جانتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قاضی کے ساتھ اللہ ہوتا ہے جب تک وہ جان بوجھ کر ظلم نہ کرے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20305]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، نفيع بن الحارث متروك متهم
حدیث نمبر: 20306
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ أَبُو الْعَلَاءِ الْخَفَّافُ ، حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ أَبِي نَافِعٍ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، وَقَرَأَ الثَّلَاثَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْحَشْرِ، وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ حَتَّى يُمْسِيَ، إِنْ مَاتَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مَاتَ شَهِيدًا، وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي كَانَ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ" .
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت تین مرتبہ اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم پڑھ کر سورت حشر کی آخری تین آیات پڑھ لے اللہ اس پر ستر ہزار فرشتے مقرر فرما دیتا ہے جو شام تک اس کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں اور اگر وہ اسی دن فوت ہوجائے تو شہادت کی موت مرے گا اور جو شخص شام کو یہ کلمات کہے تو اس کا بھی یہی مرتبہ ہوگا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20306]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، خالد بن طهمان ضعيف مختلط، ونافع بن أبى نافع إن كان هو نفيع بن الحارث أبا داود فهو متروك ، وإن كان غيره فهو مجهول
حدیث نمبر: 20307
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: " هَلْ لَكَ فِي فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَعُودُهَا؟" فَقُلْتُ: نَعَمْ , فَقَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَيَّ، فَقَالَ:" أَمَا إِنَّهُ سَيَحْمِلُ ثِقَلَهَا غَيْرُكَ، وَيَكُونُ أَجْرُهَا لَكَ" قَالَ: فَكَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيَّ شَيْءٌ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام , فَقَالَ لَهَا:" كَيْفَ تَجِدِينَكِ؟" قَالَتْ: وَاللَّهِ، لَقَدْ اشْتَدَّ حُزْنِي، وَاشْتَدَّتْ فَاقَتِي، وَطَالَ سَقَمِي ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ:" أَوَ مَا تَرْضَيْنَ أَنِّي زَوَّجْتُكِ أَقْدَمَ أُمَّتِي سِلْمَا، وَأَكْثَرَهُمْ عِلْمًا، وَأَعْظَمَهُمْ حِلْمًا".
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرایا وضو کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم فاطمہ کے یہاں چلو گے کہ ان کی عیادت کرلیں میں نے عرض کی جی بالکل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر سہارا لیا اور کھڑے ہوئے اور فرمایا عنقریب اس کا بوجھ تمہارے علاوہ کوئی اور اٹھائے گا اور تمہیں بھی اجر ملے گا راوی کہتے ہیں کہ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے مجھ پر کچھ بھی نہیں ہے یہاں تک کہ ہم لوگ حضرت فاطمہ کے گھر پہنچ گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے انہوں نے کہا واللہ میرا غم بڑھ گیا ہے اور فاقہ شدید ہوگیا اور بیماری لمبی ہوگئی ہے۔ عبداللہ بن احمد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کی کتاب میں ان کی لکھائی میں اس حدیث کے بعد یہ اضافہ بھی پایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ میں نے تمہارا نکاح اپنی امت میں سے اس شخص کے ساتھ کیا ہے جو اسلام لانے میں سب سے مقدم، علم میں سب سے زیادہ اور حلم میں سب سے عظیم ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20307]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 20308
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَلْبَثُ الْجَوْرُ بَعْدِي إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى يَطْلُعَ، فَكُلَّمَا طَلَعَ مِنَ الْجَوْرِ شَيْءٌ ذَهَبَ مِنَ الْعَدْلِ مِثْلُهُ، حَتَّى يُولَدَ فِي الْجَوْرِ مَنْ لَا يَعْرِفُ غَيْرَهُ، ثُمَّ يَأْتِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِالْعَدْلِ، فَكُلَّمَا جَاءَ مِنَ الْعَدْلِ شَيْءٌ ذَهَبَ مِنَ الْجَوْرِ مِثْلُهُ، حَتَّى يُولَدَ فِي الْعَدْلِ مَنْ لَا يَعْرِفُ غَيْرَهُ" .
حضرت معقل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پیچھے تھو ڑے ہی عرصہ کے بعد ظلم نمودار ہونا شروع ہوجائے جتنا ظلم نمودار ہوتا جائے گا اتنا ہی عدل جاتا رہے گا حتی کہ ظلم میں جو بچہ بھی پیدا ہوگا اس کے علاوہ کچھ نہیں جانتا ہوگا پھر اللہ دوبارہ عدل کو لائے گا جتنا عدل آتاجائے گا اتنا ہی ظلم جاتا رہے گا حتی کہ عدل میں جو بچہ پیدا ہوگا وہ اس کے علاوہ کچھ نہیں جانتا ہوگا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20308]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، راجع ما قبله