مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
842. حَدِيثُ أَبِي بَكْرَةَ نُفَيْعِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ كَلَدَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 20373
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ مَرَّار ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرَةَ ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذَ بِيَدِي وَرَجُلٌ عَنْ يَسَارِهِ، فَإِذَا نَحْنُ بِقَبْرَيْنِ أَمَامَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، وَبَلَى، فَأَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِجَرِيدَةٍ؟" فَاسْتَبَقْنَا، فَسَبَقْتُهُ، فَأَتَيْتُهُ بِجَرِيدَةٍ، فَكَسَرَهَا نِصْفَيْنِ، فَأَلْقَى عَلَى ذَا الْقَبْرِ قِطْعَةً، وَعَلَى ذَا الْقَبْرِ قِطْعَةً، وَقَالَ:" إِنَّهُ يُهَوَّنُ عَلَيْهِمَا مَا كَانَتَا رَطْبَتَيْنِ وَمَا يُعَذَّبَانِ إِلَّا فِي الْبَوْلِ وَالْغِيبَةِ" .
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ تھاما ہوا تھا اور ایک آدمی بائیں جانب بھی تھا اچانک ہمارے سامنے دو قبریں آگئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دونوں مردوں کو عذاب ہورہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہورہا۔ تم میں سے کون میرے پاس ایک ٹہنی لے کر آئے گا ہم دوڑ پڑے میں اس پر سبقت کرگیا اور ایک ٹہنی لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دو حصوں میں تقسیم کردیا اور ہر قبر پر ایک ایک ٹکڑا رکھ دیا اور فرمایا جب تک یہ دونوں سرسبز رہیں گے ان پر عذاب میں تخفیف رہے گی۔ اور ان دونوں کو عذاب صرف پیشاب اور غیبت کے معاملے میں ہورہا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20373]
حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 20374
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، وَوَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ ، وَيَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عُيَيْنَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ ذَنْبٍ أَحْرَى أَنْ يُعَجِّلَ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ، مَعَ مَا يُؤَخَّرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ، مِنْ بَغْيٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ"، قَالَ وَكِيعٌ:" أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ"، وَقَالَ يَزِيدُ:" يُعَجِّلُ اللَّهُ"، وَقَالَ:" مَعَ مَا يُدَّخَرُ لَهُ" .
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سرکشی اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی ایسا گناہ نہیں ہے کہ آخرت کے عذاب کے ساتھ اس گناہ گار کو دنیا میں بھی فوری سزا دی جائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20374]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20375
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُيَيْنَةَ ، وَوَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا لَنَكَادُ أَنْ نَرْمُلَ بِهَا"، قَالَ وَكِيعٌ:" أَنْ نَرْمُلَ بِالْجِنَازَةِ رَمَلًا" .
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے وہ وقت دیکھا ہے کہ جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنازے میں تیز تیز چل رہے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20375]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20376
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، لِتِسْعٍ يَبْقَيْنَ، أَوْ لِسَبْعٍ يَبْقَيْنَ، أَوْ لِخَمْسٍ، أَوْ لِثَلَاثٍ، أَوْ آخِرِ لَيْلَةٍ" .
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کیا کرو اکیسویں شب، تئیسویں شب، پچیس ویں شب یا ستائیسویں شب یا آخری رات میں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20376]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20377
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ" ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: كُنْهُهُ حَقٌّ.
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی معاہد کو ناحق قتل کردے اللہ اس پر جنت حرام قرار دے دیتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20377]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20378
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا أَبُو عِمْرَانَ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ، قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَجَمَ امْرَأَةً فَحَفَرَ لَهَا إِلَى الثَّنْدُوَةِ" .
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت پر رجم کی سزا جاری فرمائی تو اس کے لئے سینے تک گڑھا کھدوایا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20378]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الشيخ الراوي عن ابن أبى بكرة
حدیث نمبر: 20379
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَتَبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَقْضِي الْحَاكِمُ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ" .
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی حاکم دو آدمیوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20379]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7158، م: 1717
حدیث نمبر: 20380
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرَّاسِبِيُّ ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَنْبَانِ مُعَجَّلَانِ لَا يُؤَخَّرَانِ: الْبَغْيُ، وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ" .
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دو گناہ ایسے ہیں جن کی سزا فوری دی جاتی ہے اس میں تاخیر نہیں کی جاتی سرکشی اور قطع رحمی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20380]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، مولى أبى بكرة - هو سعد - مجهول، وقد اختلف فيه على محمد بن عبدالعزيز
حدیث نمبر: 20381
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِِنَ الْكُفْرِ، وَالْفَقْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ" .
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے کہ اے اللہ میں کفر، فقر اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20381]
حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 20382
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ أَبُو سَلَمَةَ الشَّحَّامُ ، حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَيَخْرُجُ قَوْمٌ أَحْدَاثٌ أَحِدَّاءُ أَشِدَّاءُ، ذَلِيقَةٌ أَلْسِنَتُهُمْ بِالْقُرْآنِ، يَقْرَءُونَهُ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ، فَأَنِيمُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّهُ يُؤْجَرُ قَاتِلُهُمْ" .
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے بعد میری امت میں ایک قوم ایسی بھی آئے گی جو بہت تیز اور سخت ہوگی قرآن تو پڑھے گی لیکن وہ حلق سے نیچے نہیں اترے گا جب تمہارا ان سے سامنا ہوگا تب تب تم انہیں قتل کرنا۔ کہ ان کے قاتل کو اجروثواب دیا جائے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20382]
حکم دارالسلام: إسناده قوي