مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
854. حَدِيثُ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 20593
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْفَرَزْدَقِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ" فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ سورة الزلزلة آية 7 - 7"، قَالَ: حَسْبِي لَا أُبَالِي أَنْ لَا أَسْمَعَ غَيْرَهَا ..
حضرت صعصعہ جو فرزدق کے چچا تھے کہتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے یہ آیت پڑھی جو ایک ذرہ کے برابر بھی نیکی کرے گا وہ اسے اپنے دیکھ لے گا اور جو ایک ذرہ کے برابر برائی کرے گا وہ اسے بھی دیکھ لے گا تو کہنے لگا کہ میرے لئے اتنا ہی کافی ہے اگر میں اس کے علاوہ کچھ بھی نہ سنو تب بھی مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20593]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20594
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، قَال: َحَدَّثَنَا صَعْصَعَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَمُّ الْفَرَزْدَقِ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20594]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20595
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، قَالَ: قَدِمَ عَمُّ الْفَرَزْدَقِ صَعْصَعَةُ الْمَدِينَةَ، لَمَّا سَمِعَ مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ سورة الزلزلة آية 5 - 7، قَالَ: حَسْبِي لَا أُبَالِي أَنْ لَا أَسْمَعَ غَيْرَ هَذَا .
حضرت صعصعہ جو فرزدق کے چچا تھے کہتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے یہ آیت پڑھی جو ایک ذرہ کے برابر بھی نیکی کرے گا وہ اسے اپنے سامنے دیکھ لے گا اور جو ایک ذرہ کے برابر برائی کرے گا وہ اس بھی دیکھ لے گا تو کہنے لگا کہ میرے لئے اتنا ہی کافی ہے اگر میں اس کے علاوہ کچھ بھی نہ سنوں تب بھی مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20595]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، والحسن البصري قد صرح فى الحديث السابق بأنه سمعه من صعصعة نفسه