مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
862. حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 20616
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، وَيُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ،" إِذَا آلَيْتَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ" .
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ جب تم کسی بات پر قسم کھاؤ اور پھر کسی دوسری صورت میں خیر دیکھو تو خیر والے کام کو کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20616]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7147، م: 1652
حدیث نمبر: 20617
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَتَرَامَى بِأَسْهُمِي فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ إِذْ كُسِفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهُنَّ وَسَعَيْتُ أَنْظُرُ مَا حَدَثَ كُسُوفِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" وَإِذَا هُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يُسَبِّحُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَيَحْمَدُ، وَيُهَلِّلُ، وَيُكَبِّرُ، وَيَدْعُو، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى حُسِرَ عَنِ الشَّمْسِ، فَقَرَأَ سُورَتَيْنِ، وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ" .
حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں تیر اندازی کررہا تھا کہ سورج کو گہن لگ گیا میں نے اپنے تیروں کو ایک طرف پھینکا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑ پڑا تاکہ یہ دیکھ سکوں کہ کسوف شمس کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں جب میں وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اللہ کی تسبیح وتحمید اور تحمید اور تہلیل وتکبیر اور دعاء میں مصروف تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک اسی عمل میں مصروف رہے جب تک سورج روشن نہ ہوگیا پھر آپ نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعتیں پڑھائیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20617]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 913
حدیث نمبر: 20618
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ " لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ" .
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عبدالرحمن امارت (حکومت) کا سوال کبھی نہ کرنا اس لئے کہ اگر وہ تمہیں مانگ کر ملی تو تمہیں اس کے حوالے کردیا جائے گا اور اگر بن مانگے تمہیں مل جائے تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی بات پر قسم کھالو پھر کسی دوسری صورت میں خیر دیکھو تو خیر والے کام کو کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20618]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7147، م: 1652
حدیث نمبر: 20619
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ كَابُلَ، فَأَصَابَ النَّاسُ غَنَمًا فَانْتَهَبُوهَا، فَأَمَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مُنَادِيًا يُنَادِي إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ انْتَهَبَ نُهْبَةً، فَلَيْسَ مِنَّا"، فَرُدُّوا هَذِهِ الْغَنَمَ، فَرَدُّوهَا، فَقَسَمَهَا بِالسَّوِيَّةِ .
ابولبید کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کابل کے جہاد میں شرکت کی لوگوں کو ایک جگہ بکریاں نظر آئیں تو وہ انہیں لوٹ کرلے گئے یہ دیکھ کر حضرت عبدالرحمن نے ایک منادی کو یہ نداء لگانے کا حکم دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص لوٹ مار کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے اس لئے یہ بکریاں واپس کردو چنانچہ لوگوں نے وہ بکریاں واپس کردیں تو انہوں نے وہ بکریاں برابر برابر تقسیم کردیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20619]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20620
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ، وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا نَاصِحُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو الْعَلَاءِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ وَهُوَ عَلَى نَهَرِ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ يَسِيلُ الْمَاءُ مَعَ غِلْمَتِهِ وَمَوَالِيهِ، فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، الْجُمُعَةَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ مَطَرٍ وَابِلٍ، فَلْيُصَلِّ أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ" ..
عمار بن ابی عمار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کا گذر حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا وہ نہر ام عبداللہ پر تھے اور لڑکوں اور غلاموں کے ساتھ مل کر پانی بہا رہے تھے عمار نے ان سے کہا اے ابوسعید آج تو جمعہ کا دن ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے جس دن موسلا دھار بارش برس رہی ہو تو تمہیں چاہیے کہ اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20620]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20621
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا نَاصِحُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُ الْقَوَارِيرِيَّ يَقُولُ: كُنْتُ أَمُرُّ بِنَاصِحٍ فَيُحَدِّثُنِي، فَإِذَا سَأَلْتُهُ الزِّيَادَةَ قَالَ: لَيْسَ عِنْدِي غَيْرُ ذَا، وَكَانَ ضَرِيرًا.
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20622
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ " لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ، أُوكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ، أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ" ..
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عبدالرحمن امارت (حکومت) کا سوال کبھی نہ کرنا اس لئے کہ اگر وہ تمہیں مانگ کر ملی تو تمہیں اس کے حوالے کردیا جائے گا اور اگر بن مانگے تمہیں مل جائے تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی بات پر قسم کھالو پھر کسی دوسری صورت میں خیر دیکھو تو خیر والے کام کو کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20622]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 7147، م: 1652، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20623
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ عَطِيَّةَ ، وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام: إسناد صحيح، خ: 7147، م: 1652
حدیث نمبر: 20624
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، وَلَا بِالطَّوَاغِيتِ" ، وَقَالَ يَزِيدُ:" وَالطَّوَاغِي".
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے آباؤ اجداد یا بتوں کے نام کی قسم مت کھایا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20624]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1648
حدیث نمبر: 20625
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ: " لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ تُعْطَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ، تُعَنْ عَلَيْهَا، وَإِنْ تُعْطَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ، تُكَلْ إِلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ، وَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ" .
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عبدالرحمن امارت (حکومت) کا سوال کبھی نہ کرنا اس لئے کہ اگر وہ تمہیں مانگ کر ملی تو تمہیں اس کے حوالے کردیا جائے گا اور اگر بن مانگے تمہیں مل جائے تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی بات پر قسم کھالو پھر کسی دوسری صورت میں خیر دیکھو تو خیر والے کام کو کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20625]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6722 ، م: 1652