🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

934. حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَي عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21136
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَجْلَحَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَعْرِضَ الْقُرْآنَ عَلَيْكَ"، قَالَ: وَسَمَّانِي لَكَ رَبِّي؟ قَالَ: 0 بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْتَفْرَحُوا 0 هَكَذَا قَرَأَهَا أُبَيٌّ .
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا میرے پروردگار نے میرا نام لیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے سو تمہیں اس پر خوش ہونا چاہئے حضرت ابی رضی اللہ عنہ قرآن کریم کی اس آیت " فبذلک فلتفرحوا " کو " فلتفرحوا " پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21136]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أجلح بن عبدالله، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21137
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَسْلَمُ الْمِنْقَرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أُبَيُّ، أُمِرْتُ أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ سُورَةَ كَذَا وَكَذَا"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَقَدْ ذُكِرْتُ هُنَاكَ؟! قَالَ:" نَعَمْ"، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، فَفَرِحْتَ بِذَلِكَ؟ قَالَ: وَمَا يَمْنَعُنِي وَاللَّهُ، يَقُولُ: 0 قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْتَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا تَجْمَعُونَ 0، قَالَ مُؤَمَّلٌ، قُلْتُ لِسُفْيَانَ: هَذِهِ الْقِرَاءَةُ فِي الْحَدِيثِ؟ قَالَ: نَعَمْ .
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا میرے پروردگار نے میرا نام لیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے سو تمہیں اس پر خوش ہونا چاہئے حضرت ابی رضی اللہ عنہ قرآن کریم کی اس آیت " فبذلک فلتفرحوا " کو " فلتفرحوا " پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21137]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل ابن إسماعيل، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21138
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّي ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَسُبُّوا الرِّيحَ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا مَا تَكْرَهُونَ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ، وَمِنْ خَيْرِ مَا فِيهَا، وَمِنْ خَيْرِ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ الرِّيحِ، وَمِنْ شَرِّ مَا فِيهَا، وَمِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ" .
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہوا کو برا بھلا مت کہا کرو اور جب تمہیں اس میں کوئی ایسی چیز دکھائی دے جو تمہاری طبیعت کو ناگوار محسوس ہو تو یوں کہہ لیا کرو اے اللہ ہم تجھ سے اس ہوا اور اس میں موجود چیزوں کی اور جو پیغام دے کر اسے بھیجا گیا ہے اس کی خیر کا سوال کرتے ہیں اور اس ہوا اور اس میں موجود چیزوں اور جو پیغام دے کر اسے بھیجا گیا ہے، اس کے شر سے پناہ مانگتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21138]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، حبيب بن أبى ثابت لم يسمعه من سعيد بن عبدالرحمن، وقد اختلف فى رفع هذا الحديث ووقفه، ولعل الصواب وقفه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21139
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسُبُّوا الرِّيحَ، فَإِنَّهَا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ، وَسَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا، وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا، وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ" .
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہوا کو برا بھلا مت کہا کرو البتہ اللہ سے اس ہوا اور اس میں موجود چیزوں کی اور جو پیغام دے کر اسے بھیجا گیا ہے اس کی خیر کا سوال کیا کرو اور اس ہوا اور اس میں موجود چیزوں اور جو پیغام دے کر اسے بھیجا گیا ہے، اس کے شر سے پناہ مانگا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21139]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل محمد بن يزيد، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21140
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ وَتَرَكَ آيَةً، فَجَاءَ أُبَيٌّ وَقَدْ فَاتَهُ بَعْضُ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُسِخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أَوْ أُنْسِيتَهَا؟ قَالَ:" لَا، بَلْ أُنْسِيتُهَا" .
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی تو دوران تلاوت ایک آیت چھوڑ دی، حضرت ابی اس وقت آئے تھے جب نماز کا کچھ حصہ گذر چکا تھا، نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! کیا یہ آیت منسوخ ہوگئی ہے، یا آپ بھول گئے تھے،؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، بلکہ میں بھول گیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21140]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21141
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ طَلْحَةَ ، وَزُبَيْدٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُوتِرُ ب ِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ" .
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں سبح اسم ربک الاعلی اور قل یا ایہا الکافرون اور قل ہو اللہ احد کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21141]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21142
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ طَلْحَةَ الإِيَامِيِّ ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْوَتْرِ ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، فَإِذَا سَلَّمَ، قَالَ:" سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ" ..
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں سبح اسم ربک الاعلی اور قل یا ایہا الکافرون اور قل ہو اللہ احد کی تلاوت فرماتے تھے اور سلام پھیر کر تین مرتبہ سبحان الملک القدوس کہتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21142]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21143
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21143]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21144
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا إِذَا أَصْبَحْنَا" أَصْبَحْنَا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ وَكَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ، وَسُنَّةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا مُسْلِمًا، وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَإِذَا أَمْسَيْنَا مِثْلَ ذَلِكَ" .
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صبح کے وقت پڑھنے کے لئے یہ دعاء سکھاتے تھے " ہم نے صبح کی فطرت اسلام پر، کلمہ اخلاص پر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر اور اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت پر جو سب سے یکسو تھے اور مشرکین میں سے نہ تھے اور یہی دعاء شام کے وقت پڑھنے کی تلقین فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21144]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا، إبراهيم بن إسماعيل ضعيف وأبوه وجده متروكان، وقد سلف برقم: 15360 بإسناد صحيح من حديث عبدالرحمن بن أبزي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21145
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ ، سَمِعَ ابْنَ أَبْزَى ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ ، سَمِعَ أُبَيًّا يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: " إِحْدَى عَيْنَيْهِ، كَأَنَّهَا زُجَاجَةٌ خَضْرَاءُ، وَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ" .
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا اس کی ایک آنکھ سبز شیشے کی طرح محسوس ہوگی اور عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21145]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں