🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1028. حَدِيثُ أَبِي مَالِكٍ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22846
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , وَإِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ" .
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت اس وقت تک خیر پر قائم رہے گی جب تک وہ افطاری میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتی رہے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22846]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1957، م: 1098
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22847
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: " كُنَّا نَقِيلُ وَنَتَغَدَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ جمعہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھنے کے بعد قیلولہ کرتے اور کھانا کھاتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22847]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 939، م: 859
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22848
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فِي لِحَاءٍ أَيْ خِصَامٍ كَانَ بَيْنَهُمْ، لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، فَحَانَتْ الصَّلَاةُ، فَقَالَ بِلَالٌ لِأَبِي بَكْرٍ: أُقِيمُ وَتُصَلِّي بِالنَّاسِ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: نَعَمْ , فَأَقَامَ بِلَالٌ، وَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ لِيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرِقُ الصُّفُوفَ، فَصَفَّحَ الْقَوْمُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَكَادُ يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا الْتَفَتَ أَبُو بَكْرٍ، فَإِذَا هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرِقُ الصُّفُوفَ، فَتَأَخَّرَ أَبُو بَكْرٍ وَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَكَانَكَ، فَتَأَخَّرَ أَبُو بَكْرٍ، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا بَالُكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ لَمْ تَقُمْ؟" قَالَ: مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا لَكُمْ إِذَا نَابَكُمْ أَمْرٌ صَفَّحْتُمْ، سَبِّحُوا، فَإِنَّ التَّصْفِيحَ لِلنِّسَاءِ" .
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ انصاری لوگوں کے درمیان کچھ رنجش ہوگئی تھی جن کے درمیان صلح کرانے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے نماز کا وقت آیا تو حضرت بلال سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا اے ابوبکر! نماز کا وقت ہوچکا ہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں موجود نہیں ہیں کیا میں اذان دے کر اقامت کہوں تو آپ آگے بڑھ کر نماز پڑھا دیں گے؟ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہاری مرضی چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان و اقامت کہی اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر نماز شروع کردی۔ اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے لوگ تالیاں بجانے لگے جسے محسوس کر کے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارے سے فرمایا کہ اپنی ہی جگہ رہو لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے آگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر نماز پڑھا دی نماز سے فارغ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکر! تمہیں اپنی جگہ ٹھہرنے سے کس چیز نے منع کیا؟ انہوں نے عرض کیا کہ ابن ابی قحافہ کی یہ جرأت کہاں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا تم لوگوں نے تالیاں کیوں بجائیں؟ انہوں نے عرض کیا تاکہ ابوبکر کو مطلع کرسکیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تالیاں بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے اور سبحان اللہ کہنے کا حکم مردوں کے لئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22848]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1201، م: 421
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22849
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعُوا الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ" , قَالَ أَبُو حَازِمٍ: وَلَا أَعْلَمُ إِلَّا يُنْمِي ذَلِكَ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ:" يُنْمِي": يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دوران نماز لوگوں کو داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنے کا حکم دیا جاتا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22849]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22850
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٍ ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلًا، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ؟" فَقَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِزَارَكَ جَلَسْتَ لَا إِزَارَ لَكَ، فَالْتَمِسْ شَيْئًا" , فَقَالَ: مَا أَجِدُ شَيْئًا , فَقَالَ: الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ , فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟" قَالَ: نَعَمْ، سُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ يُسَمِّيهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ" .
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں لوگوں کے ساتھ تھا کہ ایک عورت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے اپنے آپ کو آپ کے لئے ہبہ کردیا ہے اب جو آپ کی رائے ہو (وہ کافی دیر تک کھڑی رہی) پھر ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ! (اگر آپ کو اس کی ضرورت نہ ہو تو) مجھ سے ہی اس کا نکاح کرا دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ تین مرتبہ وہ عورت کھڑی ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس اسے مہر میں دینے کے لئے کچھ ہے؟ اس نے کہا کچھ نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور کچھ تلاش کر کے لاؤ اس نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی ملے تو وہی لے آؤ وہ کہنے لگا کہ مجھے تو لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہیں قرآن بھی کچھ آتا ہے؟ اس نے کہا جی ہاں! فلاں فلاں سورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اس عورت کے ساتھ تمہارا نکاح قرآن کریم کی ان سورتوں کی وجہ سے کردیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22850]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2310، م: 1425
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22851
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ سَلْ لِي عَنْ ذَلِكَ يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَاصِمٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، " فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مِمَّا يَسْمَعُ، قَالَ إِسْحَاقُ: مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ، جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، مَاذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا , فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا , فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَ النَّاسِ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا" , قَالَ سَهْلُ ابْنُ سَعْدٍ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا , فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ..
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عویمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھئے کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور آدمی کو پائے اور اسے قتل کر دے تو کیا بدلے میں اسے بھی قتل کردیا جائے گا یا اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو اچھا نہیں سمجھا۔ پھر عویمر رضی اللہ عنہ کی عاصم رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو عویمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا بنا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا بننا کیا تھا؟ تم نے مجھے اچھا کام نہیں بتایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو ہی اچھا نہیں سمجھا عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ بخدا! میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور ان سے یہ سوال پوچھ کر رہوں گا چنانچہ وہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تو اس وقت تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس سلسلے میں وحی نازل ہوچکی تھی اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میاں بیوی کو بلا کر ان کے درمیان لعان کرا دیا پھر عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! اگر میں اسے اپنے ساتھ لے گیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں نے اس پر ظلم کیا ہے چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اپنی بیوی کو جدا کردیا (طلاق دے دی) اور یہ چیز لعان کرنے والوں کے درمیان رائج ہوگی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22851]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5259، م: 1492
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22852
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ امْكُثْ مَكَانَكَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى، فَذَكَرَ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ.
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ انصاری لوگوں کے درمیان کچھ رنجش ہوگئی تھی جن کے درمیان صلح کرانے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارے سے فرمایا کہ اپنی ہی جگہ رہو لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے آگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر نماز پڑھا دی۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22852]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 684، م: 421
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22853
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَهْلٍ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ؟ قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي شَأْنِهِ مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنَ التَّلَاعُنِ، فَقَالَ:" قَدْ قُضِيَ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ" , قَالَ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ، ثُمَّ فَارَقَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری صحابی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! اگر ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور آدمی کو پائے اور اسے قتل کر دے تو کیا بدلے میں اسے بھی قتل کردیا جائے گا یا اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ اس پر اللہ نے لعان کا حکم نازل کردیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے متعلق اپنا حکم نازل کردیا ہے چنانچہ میرے سامنے ان دونوں نے لعان کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جدا کردیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22853]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 423، م: 1492
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22854
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَنِدُ إِلَى جِذْعٍ، فَقَالَ:" قَدْ كَثُرَ النَّاسُ وَلَوْ كَانَ لِي شَيْءٌ" , يَعْنِي: أَقْعُدُ عَلَيْهِ , قَالَ عَبَّاسٌ: فَذَهَبَ أَبِي فَقَطَعَ عِيدَانَ الْمِنْبَرِ مِنَ الْغَابَةِ، قَالَ: فَمَا أَدْرِي عَمِلَهَا أَبِي أَوْ اسْتَعْمَلَهَا؟.
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے ایک تنے کے ساتھ ٹیک لگایا کرتے تھے ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی تعداد اب زیادہ ہوگئی ہے اگر کوئی چیز ہوتی تو میں اس پر بیٹھ جایا کرتا حضرت سہل رضی اللہ عنہ کے بیٹھے عباس کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب گئے اور غابہ نامی جگہ سے منبر کے لئے لکڑیاں کاٹیں اب مجھے یاد نہیں کہ اسے والد صاحب نے خود بنایا تھا یا کسی سے مزدوری پر بنوایا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22854]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن عمر العمري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22855
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِرًا يَدَيْهِ قَطُّ يَدْعُو عَلَى مِنْبَرٍ وَلَا غَيْرِهِ، مَا كَانَ يَدْعُو إِلَّا يَضَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَيُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ إِشَارَةً" ..
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر یا کسی اور جگہ ہاتھ پھیلا کر دعا کرتے ہوئے نہیں دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی دعاء فرماتے تو اپنے ہاتھ کندھوں کے سامنے برابر رکھتے اور انگلی سے اشارہ فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22855]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبدالرحمن بن معاوية
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں