🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1105. حَدِيثُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23740
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ كُهَيْلٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ: لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا، فَقَالَ لَهُ أَبِي : اقْتَصَّ، ثُمَّ قَالَ: كُنَّا مَعْشَرَ بَنِي مُقَرِّنٍ سَبْعَةً، لَيْسَ لَنَا خَادِمٌ إِلَّا وَاحِدَةٌ فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْتِقُوهَا"، فَقِيلَ لَهُ: لَيْسَ لَهُمْ خَادِمٌ غَيْرُهَا، قَالَ:" لِتَخْدُمَنَّهُمْ، فَإِذَا اسْتَغْنَوْا عَنْهَا فَلْيُعْتِقُوهَا" .
حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آل سوید کی ایک باندی کو تھپڑ مار دیا حضرت سوید رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ چہرے پر مارنا حرام ہے ہم لوگ سات بھائی تھے ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا ہم میں سے کسی نے ایک مرتبہ اسے تھپڑ مار دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اسے آزاد کردیں بھائیوں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس تو اس کے علاوہ کوئی اور خادم نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اس سے خدمت لیتے رہیں اور جب اس سے بےنیاز ہوجائیں تو اس کا راستہ چھوڑ دیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23740]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23741
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ يِسَافٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ: كُنَّا نَبِيعُ البَزَّ فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، قَالَ: فَخَرَجَتْ جَارِيَةٌ لِسُوَيْدٍ، فَكَلَّمَتْ رَجُلًا مِنَّا فَسَبَّتْهُ، فَلَطَمَ وَجْهَهَا، فَقَالَ سُوَيْدٌ:" لَطَمْتَهَا! لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَسَابِعُ سَبْعَةٍ مِنْ إِخْوَتِي مَا لَنَا إِلَّا خَادِمٌ، فَعَمَدَ أَحَدُنَا فَلَطَمَهَا، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعِتْقِهَا" .
حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آل سوید کی ایک باندی کو تھپڑ مار دیا حضرت سوید رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ چہرے پر مارنا حرام ہے ہم لوگ سات بھائی تھے ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا ہم میں سے کسی نے ایک مرتبہ اسے تھپڑ مار دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اسے آزاد کردیں بھائیوں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس تو اس کے علاوہ کوئی اور خادم نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اس سے خدمت لیتے رہیں اور جب اس سے بےنیاز ہوجائیں تو اس کا راستہ چھوڑ دیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23741]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1685
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23742
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أخبرنا حُصَيْنٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ نَازِلًا فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، قَالَ: فَلَطَمَ خَادِمًا، قَالَ: فَغَضِبَ سُوَيْدٌ ، فَقَالَ:" أَمَا وَجَدْتَ إِلَّا حُرَّ وَجْهِهِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي وَنَحْنُ سَابِعُ سَبْعَةٍ مِنْ وَلَدِ مُقَرِّنٍ، وَمَا لَنَا خَادِمٌ إِلَّا وَاحِدٌ عَمَدَ إِلَيْهِ وَاحِدٌ فَلَطَمَهُ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَجَعْنَا أَنْ نُعْتِقَهُ، فَأَعْتَقْنَاهُ" .
حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آل سوید کی ایک باندی کو تھپڑ مار دیا حضرت سوید رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ چہرے پر مارنا حرام ہے ہم لوگ سات بھائی تھے ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا ہم میں سے کسی نے ایک مرتبہ اسے تھپڑ مار دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اسے آزاد کردیں بھائیوں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس تو اس کے علاوہ کوئی اور خادم نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اس سے خدمت لیتے رہیں اور جب اس سے بےنیاز ہوجائیں تو اس کا راستہ چھوڑ دیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23742]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23743
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ هِلَالًا ، رَجُلًا مِنْ بَنِي مَازِنٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ:" أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَبِيذٍ فِي جَرَّةٍ فَسَأَلْتُهُ، فَنَهَانِي عَنْهَا فَكَسَرْتُهَا" .
حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مٹکے میں نبیذ لے کر آیا اور اس کے متعلق حکم دریافت کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس سے منع فرما دیا چناچہ میں نے وہ مٹکا پکڑا اور توڑ ڈالا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23743]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة هلال المازني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں