🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1117. حَدِيثُ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23818
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلْنَا الْمَدِينَةَ عَشَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةً عَشَرَةً يَعْنِي: فِي كُلِّ بَيْتٍ، قَالَ: فَكُنْتُ فِي الْعَشَرَةِ الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ، قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ لَنَا إِلَّا شَاةٌ نَتَحَرَّى لَبَنَهَا، قَالَ: فَكُنَّا إِذَا أَبْطَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبْنَا وَبَقَّيْنَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصِيبَهُ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ أَبْطَأَ عَلَيْنَا، قَالَ: وَنِمْنَا، فَقَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ: لَقَدْ أَطَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أُرَاهُ يَجِيءُ اللَّيْلَةَ، لَعَلَّ إِنْسَانًا دَعَاهُ، قَالَ: فَشَرِبْتُهُ، فَلَمَّا ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ جَاءَ فَدَخَلَ الْبَيْتَ، قَالَ: فَلَمَّا شَرِبْتُهُ لَمْ أَنَمْ أَنَا، قَالَ: فَلَمَّا دَخَلَ سَلَّمَ وَلَمْ يَشُدَّ، ثُمَّ مَالَ إِلَى الْقَدَحِ، فَلَمَّا لَمْ يَرَ شَيْئًا أَسْكَتَ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنَا اللَّيْلَةَ"، قَالَ: وَثَبْتُ وَأَخَذْتُ السِّكِّينَ، وَقُمْتُ إِلَى الشَّاةِ، قَالَ:" مَا لَكَ؟" قُلْتُ: أَذْبَحُ، قَالَ:" لَا، ائْتِنِي بِالشَّاةِ" فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَمَسَحَ ضَرْعَهَا فَخَرَجَ شَيْئًا، ثُمَّ شَرِبَ وَنَامَ .
حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ مدینہ منورہ میں آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایک گھر میں دس دس آدمیوں میں تقسیم کردیا میں ان دس لوگوں میں شامل تھا جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے ہمارے پاس صرف ایک ہی بکری تھی جس سے ہم دودھ حاصل کرتے تھے اگر کسی دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس آنے پر تاخیر ہوجاتی تو ہم اس کا دودھ پی لیتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بچا کر رکھ لیتے۔ ایک مرتبہ رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تاخیر سے واپس تشریف لائے ہم اس وقت تک سو چکے تھے چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تاخیر زیادہ ہوگئی تھی اور میرا خیال نہیں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئیں گے ہوسکتا ہے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت پر بلا لیا ہو یہ سوچ کر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے رکھا ہوا دودھ بھی پی لیا لیکن رات کا کچھ حصہ گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ادھر مجھے بھی نیند نہیں آرہی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آ کر آہستہ سے سلام کیا اور پیالے کی طرف بڑھے لیکن جب اس میں کچھ نظر نہ آیا تو خاموش ہوگئے پھر فرمایا اے اللہ! جو شخص آج رات ہمیں کھلائے تو اسے کھلا یہ سن کر میں اٹھا چھری پکڑی اور بکری کی طرف بڑھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ہوا میں نے عرض کیا کہ اسے ذبح کرنے جا رہا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے ذبح نہ کرو بلکہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے لے کر آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا تھوڑا سا دودھ نکلا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نوش فرما کر لیٹ گئے اور سوگئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23818]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23819
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أخبرنا مَالِكٌ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَدْنُو مِنَ امْرَأَتِهِ فَيُمْذِي، قَالَ: " إِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أحَدُكم، فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ" قَالَ: يَعْنِي: يَغْسِلُهُ" وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ" .
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کا حکم پوچھو جو اپنی بیوی سے " کھیلتا ہے " اور اس کی شرمگاہ سے مذی کا خروج ہوتا ہے جو " آب حیات " نہیں ہوتی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا وہ اپنی شرمگاہ کو دھوئے اور نماز والا وضو کرلے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23819]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، سليمان بن يسار لم يدرك المقداد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23820
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْوَلِيدُ بْنُ كَامِلٍ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنِي الْمُهَلَّبُ بْنُ حُجْرٍ الْبَهْرَانِيُّ ، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهَا ، أَنَّهُ قَالَ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِلَى عَمُودٍ وَلَا عُودٍ وَلَا شَجَرَةٍ إِلَّا جَعَلَهُ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ وَالْأَيْسَرِ، وَلَا يَصْمُدُ لَهُ صَمْدًا" .
حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کسی ستون، لکڑی یا درخت کو سترہ بنا کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی دائیں یا بائیں بھوؤں کی جانب رکھا ہوتا تھا عین سامنے نہیں رکھتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23820]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، الوليد بن كامل لين الحديث، والمهلب بن حجر وضباعة مجهولان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23821
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَامِلٍ ، عَنِ الْحُجْرِ أَوْ أَبِي الْحُجْرِ بْنِ الْمُهَلَّبِ الْبَهْرَانِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي ضُبَيْعَةُ بِنْتُ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، عَنْ أَبِيهَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا صَلَّى إِلَى عَمُودٍ أَوْ خَشَبَةٍ أَوْ شِبْهِ ذَلِكَ، لَا يَجْعَلُهُ نُصْبَ عَيْنَيْهِ، وَلَكِنَّهُ يَجْعَلُهُ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْسَرِ" .
حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کسی ستون، لکڑی یا درخت کو سترہ بنا کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی دائیں یا بائیں بھوؤں کی جانب رکھا ہوتا تھا عین سامنے نہیں رکھتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23821]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف الوليد بن كامل، والمهلب بن حجر وضباعة مجهولان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23822
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي، فَتَعَرَّضْنَا لِلنَّاسِ فَلَمْ يُضِفْنَا أَحَدٌ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا لَهُ، فَذَهَبَ بِنَا إِلَى مَنْزِلِهِ وَعِنْدَهُ أَرْبَعُ أَعْنُزٍ، فَقَالَ: " احْتَلِبْهُنَّ يَا مِقْدَادُ وَجَزِّئْهُنَّ أَرْبَعَةَ أَجْزَاءٍ، وَأَعْطِ كُلَّ إِنْسَانٍ جُزْأَهُ"، فَكُنْتُ أَفْعَلُ ذَلِكَ، فَرَفَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُزْأَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَاحْتَبَسَ وَاضْطَجَعْتُ عَلَى فِرَاشِي، فَقَالَتْ لِي نَفْسِي: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَتَى أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَوْ قُمْتَ فَشَرِبْتَ هَذِهِ الشَّرْبَةَ، فَلَمْ تَزَلْ بِي حَتَّى قُمْتُ فَشَرِبْتُ جُزْأَهُ، فَلَمَّا دَخَلَ فِي بَطْنِي وَتَقَارَّ أَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ، فَقُلْتُ: يَجِيءُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائِعًا ظَمْآنًا وَلَا يَرَى فِي الْقَدَحِ شَيْئًا، فَتَسَجَّيْتُ ثَوْبًا عَلَى وَجْهِي، وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ تَسْلِيمًا يُسْمِعُ الْيَقْظَانَ، وَلَا يُوقِظُ النَّائِمَ، فَكَشَفَ عَنْهُ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَال:" اللَّهُمَّ اسْقِ مَنْ سَقَانِي، وَأَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِي" فَاغْتَنَمْتُ دَعْوَتَهُ، وَقُمْتُ فَأَخَذْتُ الشَّفْرَةَ، فَدَنَوْتُ مِنَ الْأَعْنُزِ، فَجَعَلْتُ أَجُسُّهُنَّ أَيُّهُنَّ أَسْمَنُ لِأَذْبَحَهَا، فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى ضَرْعِ إِحْدَاهُنَّ، فَإِذَا هِيَ حَافِلٌ، ونَظَرْتُ إِلَى الْأُخْرَى فَإِذَا هِيَ حَافِلٌ، ونَظَرْتُ كُلَّهُنَّ فَإِذَا هُنَّ حُفَّلٌ، فَحَلَبْتُ فِي الْإِنَاءِ فَأَتَيْتُهُ بِهِ، فَقُلْتُ: اشْرَبْ، فَقَالَ:" الْخَبَرَ يَا مِقْدَادُ"، فَقُلْتُ: اشْرَبْ ثُمَّ الْخَبَرَ، فَقَالَ:" بَعْضُ سَوْآتِكَ يَا مِقْدَادُ"، فَشَرِبَ ثُمَّ قَالَ:" اشْرَبْ"، فَقُلْتُ: اشْرَبْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَشَرِبَ حَتَّى تَضَلَّعَ، ثُمَّ أَخَذْتُهُ فَشَرِبْتُه، ثُمَّ أَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هِيهْ"، فَقُلْتُ: كَانَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذِهِ بَرَكَةٌ نَزَلَتْ مِنَ السَّمَاءِ، أَفَلَا أَخْبَرْتَنِي حَتَّى أَسْقِيَ صَاحِبَيْكَ"، فَقُلْتُ: إِذَا شَرِبْتُ الْبَرَكَةَ أَنَا وَأَنْتَ، فَلَا أُبَالِي مَنْ أَخْطَأَتْ .
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور میرے دو ساتھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہمیں سخت بھوک لگ رہی تھی، ہم نے اپنے آپ کو صحابہ رضی اللہ عنہ پر پیش کیا تو ان میں سے کسی نے بھی ہمیں قبول نہیں کیا پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے گھر کی طرف لے گئے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں) چار بکریاں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا مقداد! ان بکریوں کا دودھ نکالو، اسے چار حصوں میں تقسیم کرلو چناچہ میں نے ایسا ہی کیا ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رات واپسی میں تاخیر ہوگئی میرے دل میں خیال آیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی انصاری کے پاس جا کر کھا پی لیا ہوگا اور سیراب ہوگئے ہوں گے اگر میں نے ان کے حصے کا دودھ پی لیا تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ میں اسی طرح سوچتا رہا حتٰی کہ کھڑے ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے کا دودھ پی گیا اور پیالہ ڈھک دیا جب میں دودھ پی چکا تو میرے دل میں طرح طرح کے خیالات ابھرنے لگے اور میں سوچنے لگا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھوک کی حالت میں تشریف لائے اور انہیں کچھ نہ ملا تو کیا ہوگا؟ میں نے اپنی چادر اوڑھ لی اور اپنے ذہن میں یہ خیالات سوچنے لگا ابھی میں انہی خیالات میں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آہستہ سے سلام کیا جو جاگنے والا تو سن لے لیکن سونے والا نہ جاگے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دودھ کی طرف آئے برتن کھولا تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! تو اسے کھلا جو مجھے کھلائے اور تو اسے پلا جو مجھے پلائے (میں نے اس دعاء کو غنیمت سمجھا اور چھری پکڑ کر بکریوں کی طرف چل پڑا کہ ان بکریوں میں سے جو موٹی بکری ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ذبح کر ڈالوں میں نے دیکھا کہ سب بکریوں کے تھن دودھ سے بھرے پڑے تھے پھر میں نے ایک برتن میں دودھ نکالا یہاں تک کہ وہ بھر گیا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے رات کو اپنے حصہ کا دودھ پی لیا تھا؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ دودھ پئیں پھر آپ کو واقعہ بتاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا پھر آپ نے مجھے دیا پھر جب مجھے معلوم ہوگیا کہ آپ سیر ہوگئے ہیں تو میں نے بھی اسے پی لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب وہ واقعہ بتاؤ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وہ واقعہ ذکر کردیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت کا دودھ سوائے رحمت کے اور کچھ نہ تھا تم نے مجھے پہلے ہی کیوں نہ بتادیا تاکہ ہم اپنے ساتھیوں کو بھی جگا دیتے وہ بھی اس میں سے دودھ پی لیتے میں نے عرض کیا جب آپ کو اور مجھے یہ برکت حاصل ہوگئی ہے اب مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ کسے اس کا حصہ نہیں ملا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23822]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23823
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، قَالَ: جَعَلَ رجلُ يَمْدَحُ عَامِلًا لِعُثْمَانَ، فَعَمَدَ الْمِقْدَادُ ، فَجَعَلَ يَحْثُو التُّرَابَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمْ الْمَدَّاحِينَ، فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمْ التُّرَابَ" .
میمون بن ابی شبیب کہتے ہیں کہ ایک عامل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف کرنے لگا تو حضرت مقداد رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اس کے منہ پر مٹی پھینکنے لگے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا یہ کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جب تم کسی کو تعریف کرتے ہوئے دیکھا کرو تو اس کے چہرے پر مٹی پھینکا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23823]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، و يغلب على الظن أن ميمون بن أبى شبيب لم يدرك عثمان، ولم يحضر هذه القصة، لكنه متابع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23824
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ بَعَثَ وَفْدًا مِنَ الْعِرَاقِ إِلَى عُثْمَانَ، فَجَاءُوا يُثْنُونَ عَلَيْهِ، فَجَعَلَ الْمِقْدَادُ يَحْثُو فِي وُجُوهِهِمْ التُّرَابَ، وَقَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْثُوَ فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: فَقَامَ الْمِقْدَادُ ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " احْثُوا فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ" ، قَالَ الزُّبَيْرُ: أَمَّا الْمِقْدَادُ فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ.
میمون بن ابی شبیب کہتے ہیں کہ ایک عامل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف کرنے لگا تو حضرت مقداد رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اس کے منہ پر مٹی پھینکنے لگے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا یہ کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جب تم کسی کو تعریف کرتے ہوئے دیکھا کرو تو اس کے چہرے پر مٹی پھینکا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23824]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، إسناده مرسل، مجاهد ابن جبر لم يسمع من المقداد بن الأسود
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23825
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْحٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ عَائِشِ بْنِ أَنَسٍ الْبَكْرِيِّ ، قَالَ: تَذَاكَرَ عَلِيٌّ ، وَعَمَّارٌ ، وَالْمِقْدَادُ الْمَذْيَ، فقال علي: إني رجل مذاء، وإني أستحي أن أسأله من أجل ابنته تحتي، فقال لأحدهما لعمار أو للمقداد، قَالَ عَطَاءٌ: سَمَّاهُ لِي عَائِشٌ فَنَسِيتُهُ: سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " ذَاكَ الْمَذْيُ، لِيَغْسِلْ ذَاكَ مِنْهُ"، قُلْتُ: مَا ذَاكَ مِنْهُ؟ قَالَ: ذَكَرَهُ" وَيَتَوَضَّأْ فَيُحْسِنْ وُضُوءَهُ أَوْ يَتَوَضَّأْ مِثْلَ وُضُوئِهِ لِلصَّلَاةِ وَيَنْضَحْ فِي فَرْجِهِ" أَوْ" فَرْجَهُ" .
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کا حکم پوچھو جو اپنی بیوی سے " کھیلتا " ہے اور اس کی شرمگاہ سے مذی کا خروج ہوتا ہے جو " آب حیات " نہیں ہوتی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا وہ اپنی شرمگاہ کو دھوئے اور نماز والا وضو کرلے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23825]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عائش بن أنس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23826
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ الْبَهِيَّ ، أَنَّ رَكْبًا وَقَفُوا عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَمَدَحُوهُ وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ، وَثَمَّ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنَ الْأَرْضِ، فَحَثَاهَا فِي وُجُوهِ الرَّكْبِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَمِعْتُمْ الْمَدَّاحِينَ، فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمْ التُّرَابَ" .
میمون بن ابی شبیب کہتے ہیں کہ ایک عامل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف کرنے لگا تو حضرت مقداد رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اس کے منہ پر مٹی پھینکنے لگے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا یہ کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جب تم کسی کو تعریف کرتے ہوئے دیکھا کرو تو اس کے چہرے پر مٹی پھینکا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23826]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد مرسل، عبدالله البهي لم يدرك عثمان ولا المقداد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23827
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُثْمَانَ فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي وَجْهِهِ، قَالَ: فَجَعَلَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ يَحْثُو فِي وَجْهِهِ التُّرَابَ، ويَقُولُ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَقِينَا الْمَدَّاحِينَ أَنْ نَحْثُوَ فِي وُجُوهِهِمْ التُّرَابَ" .
میمون بن ابی شبیب کہتے ہیں کہ ایک عامل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف کرنے لگا تو حضرت مقداد رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اس کے منہ پر مٹی پھینکنے لگے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا یہ کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جب تم کسی کو تعریف کرتے ہوئے دیکھا کرو تو اس کے چہرے پر مٹی پھینکا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23827]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 3002
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں