مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1258. حَدِيثُ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 27234
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ ذُهْلٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جَبْرٍ ، قَالَ: رَكِبْتُ مَعَ أَبِي بَصْرَةَ السَّفِينَةَ، وَهُوَ يُرِيدُ الْإِسْكَنْدَرِيَّةَ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27234]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة كليب بن ذهل، و عبيد بن جبر ، ولضعف عبدالله بن عياش
حدیث نمبر: 27235
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ يَوْمًا: " إِنِّي رَاكِبٌ إِلَى يَهُودَ، فَمَنْ انْطَلَقَ مَعِي، فَإِنْ سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ، فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ"، فَانْطَلَقْنَا , فَلَمَّا جِئْنَاهُمْ، وَسَلَّمُوا عَلَيْنَا، فَقُلْنَا وَعَلَيْكُمْ .
حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کل میں سوار ہو کر یہودیوں کے یہاں جاؤں گا، لہٰذا تم انہیں ابتداء سلام نہ کرنا اور جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم صرف «وعليكم» کہنا“، چنانچہ جب ہم وہاں پہنچے اور انہوں نے ہمیں سلام کیا تو ہم نے صرف «وعليكم» کہا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27235]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف فى هذا الإسناد على عبدالحميد بن جعفر
حدیث نمبر: 27236
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَصْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إنَّا غَادُونَ إِلَى يَهُودَ، فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ، فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ، فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ" .
حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”کل میں سوار ہو کر یہودیوں کے یہاں جاؤں گا، لہٰذا تم انہیں ابتداء سلام نہ کرنا اور جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم صرف «وعليكم» کہنا۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27236]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 27237
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّا غَادُونَ عَلَى يَهُودَ، فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ، فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ، فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ" .
حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کل میں سوار ہو کر یہودیوں کے یہاں جاؤں گا، لہٰذا تم انہیں ابتداء سلام نہ کرنا اور جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم صرف «وعليكم» کہنا۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27237]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد وهم فيه وكيع، فلم يذكر مرثدا بين يزيد و بين أبى بصرة