🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

حدیث نمبر 464
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 464
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثنا كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الَّتِي أَهْدَاهَا لَهُ الْجُذَامِيُّ، فَلَمَّا وَلَّى الْمُسْلِمُونَ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَبَّاسُ نَادِ، قُلْ: يَا أَصْحَابَ السَّمُرَةِ، يَا أَصْحَابَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ! وَكُنْتُ رَجُلا صَيِّتًا، فَقُلْتُ: يَا أَصْحَابَ السَّمُرَةِ، يَا أَصْحَابَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ! فَرَجَعُوا عَطْفَةً كَعَطْفَةِ الْبَقَرَةِ عَلَى أَوْلادِهَا، وَارْتَفَعَتِ الأَصْوَاتُ وَهُمْ يَقُولُونَ: مَعْشَرَ الأَنْصَارِ! يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ! ثُمَّ قُصِرْتُ الدَّعْوَةُ عَلَى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: يَا بَنِي الْحَارِثِ، قَالَ: وَتَطَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ، فَقَالَ:" هَذَا حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ وَهُوَ يَقُولُ: قُدُمًا يَا عَبَّاسُ"، ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَيَاتٍ، فَرَمَى بِهِنَّ، ثُمَّ قَالَ:" انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ" ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: وَرَبِّ مُحَمَّدٍ. قَالَ سُفْيَانُ: حَدَّثَنَاهُ الزُّهْرِيُّ بِطُولِهِ، فَهَذَا الَّذِي حَفِظْتُ مِنْهُ.
کثیر بن عباس اپنے والد سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس خچر پر سوار تھے، جو جذامی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے کے طور پر دیا تھا۔ جب مسلمان پیچھے ہٹنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عباس! آپ بلند آواز میں پکاریں اور کہیں اے درخت! (کے نیچے بیعت کرنے والو) اے سورہ بقرہ (پر ایمان رکھنے والو)! سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ایک ایسا شخص تھا، جس کی آواز بلند تھی، تو میں نے بلند آواز میں پکارا، اے درخت (کے نیچے بیعت کرنے والو)! اے سورہ بقرہ (پر ایمان رکھنے والو)! تو وہ لوگ یکبارگی یوں پلٹے جس طرح گائے اپنی اولاد کی طرف پلٹتی ہے۔ آوزیں بلند ہوئیں اور وہ لوگ یہ کہہ رہے تھے، اے انصار کے گروہ! اے انصار کے گروہ! پھر دعوت کو مختصر کر کے بنو حارث بن خزرج کی طرف کیا گیا اور کہا گیا: اے بنو حارث! سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار رہتے ہوئے جنگ کا جائزہ لیتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اب جنگ اچھی طرح بھڑک اٹھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: اے عباس! آپ آگے بڑھیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند کنکریاں پکڑیں اور انہیں پھینکا اور یہ فرمایا: رب کعبہ کی قسم! یہ پسپا ہو جائیں گے۔ سفیان نامی راوی بعض اوقات یہ لفظ نقل کرتے ہیں: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار کی قسم! سفیان کہتے ہیں: زہری نے یہ طویل حدیث ہمیں سنائی تھی، لیکن اس کا یہ حصہ مجھے یاد رہ گیا ہے۔ [مسند الحميدي/أَحَادِيثُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 464]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1775، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7049، والحاكم فى «مستدركه» ، برقم: 5147، 5459، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8593، 8599، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 1800 برقم: 1801، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6708، والبزار فى «مسنده» برقم: 1301، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9741»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں