صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ الإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي السَّفَرِ:
باب: اس بارے میں کہ سفر میں ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنا۔
حدیث نمبر: 539
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُهَاجِرٌ أَبُو الْحَسَنِ مَوْلَى لِبَنِي تَيْمِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ لِلظُّهْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْرِدْ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ، فَقَالَ لَهُ: أَبْرِدْ حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ"، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تَتَفَيَّأُ تَتَمَيَّلُ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے بنی تیم اللہ کے غلام مہاجر ابوالحسن نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زید بن وہب جہنی سے سنا، وہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے تھے کہ انہوں نے کہا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ مؤذن نے چاہا کہ ظہر کی اذان دے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وقت کو ٹھنڈا ہونے دو، مؤذن نے (تھوڑی دیر بعد) پھر چاہا کہ اذان دے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھنڈا ہونے دو۔ جب ہم نے ٹیلے کا سایہ ڈھلا ہوا دیکھ لیا۔ (تب اذان کہی گئی) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ کی تیزی سے ہے۔ اس لیے جب گرمی سخت ہو جایا کرے تو ظہر کی نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا «يتفيئو» (کا لفظ جو سورۃ النحل میں ہے) کے معنے «تتميل» (جھکنا، مائل ہونا) ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 539]
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر میں تھے کہ مؤذن نے نماز ظہر کے لیے اذان دینے کا ارادہ کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی ٹھنڈے وقت کا انتظار کرو۔“ اس نے کچھ دیر بعد پھر اذان دینے کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”ابھی ٹھنڈے وقت کا انتظار کرو۔“ تاآنکہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھا۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہوتی ہے، اس لیے جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو۔“ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے «تَتَفَيَّأُ» کے معنی بایں الفاظ بیان کیے: ”جب ان کے سائے جھک جاتے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 539]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة