مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 662
حدیث نمبر: 662
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالا: حَدَّثنا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيُّ ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ ، فَقَلَّبْتُ الْحَصَى، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" لا تُقَلِّبِ الْحَصَى، فَإِنَّ تَقْلِيبَ الْحَصَى مِنَ الشَّيْطَانِ، وَافْعَلْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ، قُلْتُ: وَكَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ؟ فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَضَمَّ أَبُو بَكْرٍ ثَلاثَ أَصَابِعَ وَنَصَبَ السَّبَّابَةَ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَبَسَطَهَا" .
علی بن عبدالرحمٰن معاوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں نماز ادا کی۔ (نماز کے دوران) میں نے کنکریوں کو الٹا پلٹا۔ جب میں نے نماز مکمل کی، تو انہوں نے فرمایا: تم (نماز کے دوران) کنکریاں نہ الٹایا کرو، کیونکہ کنکریاں الٹانا شیطان کا کام ہے۔ تم ویسا ہی کرو جس طرح میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے میں نے دریافت کیا: آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں زانو پر رکھا۔ پھر
امام حمیدی رحمہ اللہ نے اپنی تین انگلیاں ملا کر اور اپنی شہادت کی انگلی کو کھڑا کیا اور انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں زانو پر رکھا اور اسے پھیلایا۔ [مسند الحميدي/أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 662]
امام حمیدی رحمہ اللہ نے اپنی تین انگلیاں ملا کر اور اپنی شہادت کی انگلی کو کھڑا کیا اور انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں زانو پر رکھا اور اسے پھیلایا۔ [مسند الحميدي/أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 662]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 580، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1942، 1947، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1159، 1265، 1266، 1268، وأبو داود فى «سننه» برقم: 987، والترمذي فى «جامعه» برقم: 294، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1378، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 913، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2823، 2824، 2825، 2834، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4665»