🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

حدیث نمبر 675
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 675
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ , لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ , لا شَرِيكَ لَكَ" . قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَزِيدُ، فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، لَبَّيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، أَوْ فِي يَدَيْكَ، كَذَا كَانَ يَقُولُ سُفْيَانُ: لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پڑھتے ہوئے سنا ہے: میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ میں حاضر ہوں، بے شک حمد اور نعمت تیرے لیے مخصوص ہے اور بادشاہی بھی، تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس میں ان الفاظ کا اضافہ کرتے تھے: میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، سعادت تیری طرف سے ہی نصیب ہو سکتی ہے۔ میں حاضر ہوں۔ بھلائی تیرے دست قدرت میں ہے۔ میں حاضر ہوں۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تیرے دونوں ہاتھوں میں ہے۔ سفیان بھی اسی طرح کہا کرتے تھے: میں حاضر ہوں رغبت تیری طرف کی جا سکتی ہے اور عمل تیری توفیق سے کیا جا سکتا ہے یا تیری ہی طرف لوٹتا ہے۔ [مسند الحميدي/أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 675]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1540، 1549، 1554، 5914، 5915، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1184، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3799، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1657، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2682، 2746، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1747، 1748، 1812، والترمذي فى «جامعه» برقم: 825، 826، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1849، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2918، 3047، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9067، 9068، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4543 برقم: 4914، وأبو يعلى فى «مسنده» ، برقم: 5692»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں