🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ صَاعِ الْمَدِينَةِ:
باب: مدینہ منورہ کا صاع (ایک پیمانہ)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6712
وَمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَرَكَتِهِ وَمَا تَوَارَثَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذَلِكَ قَرْنًا بَعْدَ قَرْنٍ.
‏‏‏‏ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مد (ایک پیمانہ) اور اس میں برکت، اور بعد میں بھی اہل مدینہ کو نسلاً بعد نسل جَو صاع اور مد ورثہ میں ملا اس کا بیان۔ [صحيح البخاري/كِتَاب كَفَّارَاتِ الْأَيْمَانِ/حدیث: Q6712]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6712
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ:" كَانَ الصَّاعُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُدًّا وَثُلُثًا بِمُدِّكُمُ الْيَوْمَ"، فَزِيدَ فِيهِ: فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے قاسم بن مالک مزنی نے بیان کیا، کہا ہم سے جعید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک صاع تمہارے زمانہ کے مد سے ایک مد اور تہائی کے برابر ہوتا تھا۔ بعد میں عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں اس میں زیادتی کی گئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب كَفَّارَاتِ الْأَيْمَانِ/حدیث: 6712]
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں ایک صاع تمہارے ہاں رائج الوقت $1 \frac{1}{3}$ (ایک مد اور تہائی) مد کے برابر ہوتا تھا، پھر حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں اس کے اندر اضافہ کر دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب كَفَّارَاتِ الْأَيْمَانِ/حدیث: 6712]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6713
حَدَّثَنَا مُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْجَارُودِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ وَهْوَ سَلْمٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ:" كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي زَكَاةَ رَمَضَانَ، بِمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْمُدِّ الْأَوَّلِ، وَفِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ، بِمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ أَبُو قُتَيْبَةَ: قَالَ لَنَا مَالِكٌ: مُدُّنَا أَعْظَمُ مِنْ مُدِّكُمْ، وَلَا نَرَى الْفَضْلَ إِلَّا فِي مُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ لِي مَالِكٌ: لَوْ جَاءَكُمْ أَمِيرٌ فَضَرَبَ مُدًّا أَصْغَرَ مِنْ مُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تُعْطُونَ؟ قُلْتُ: كُنَّا نُعْطِي بِمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَفَلَا تَرَى أَنَّ الْأَمْرَ إِنَّمَا يَعُودُ إِلَى مُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے منذر بن الولید الجارودی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوقتیبہ، سلم شعیری نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما رمضان کا فطرانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے پہلے مد کے وزن سے دیتے تھے اور قسم کا کفارہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے ہی دیتے تھے۔ ابوقتیبہ نے اسی سند سے بیان کیا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا کہ ہمارا مد تمہارے مد سے بڑا ہے اور ہمارے نزدیک ترجیح صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کو ہے۔ اور مجھ سے امام مالک نے بیان کیا کہ اگر ایسا کوئی حاکم آیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے چھوٹا مد مقرر کر دے تو تم کس حساب سے (صدقہ فطر وغیرہ) نکا لو گے؟ میں نے عرض کیا کہ ایسی صورت میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کے حساب سے فطرہ نکالا کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ معاملہ ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کی طرف لوٹتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب كَفَّارَاتِ الْأَيْمَانِ/حدیث: 6713]
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما رمضان المبارک کا فطرانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے پہلے «مُدّ» پیمانے سے دیتے تھے اور قسم کا کفارہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے «مُدّ» سے دیا کرتے تھے۔ ابو قتیبہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے ہم سے کہا: ہمارا اہل مدینہ کا «مُدّ» تمہارے «مُدّ» سے زیادہ باعظمت ہے اور ہم تو اسی «مُدّ» کو افضل جانتے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا «مُدّ» ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے مجھ سے (دوبارہ) کہا: (فرض کرو) اگر ایک حاکم آ جائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے «مُدّ» سے چھوٹا «مُدّ» رائج کر دے تو تم فطرانہ وغیرہ کس «مُدّ» سے ادا کرو گے؟ میں نے کہا: ایسے حالات میں تو ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے «مُدّ» ہی سے ادا کریں گے۔ تو انہوں نے فرمایا: آخر کار نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے «مُدّ» کا اعتبار کیا جائے گا (تو اب بھی اسی «مُدّ» کا حساب رکھو، تمہیں بنو امیہ کے «مُدّ» سے کیا غرض ہے؟)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب كَفَّارَاتِ الْأَيْمَانِ/حدیث: 6713]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6714
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ، وَصَاعِهِمْ، وَمُدِّهِمْ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! ان کے «كيل» پیمانے میں ان کے صاع اور ان کے مد میں برکت عطا فرما۔ [صحيح البخاري/كِتَاب كَفَّارَاتِ الْأَيْمَانِ/حدیث: 6714]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بایں الفاظ میں دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ، وَمُدِّهِمْ» اے اللہ! ان کے پیمانے، ان کے صاع اور ان کے مد میں برکت عطا فرما۔ [صحيح البخاري/كِتَاب كَفَّارَاتِ الْأَيْمَانِ/حدیث: 6714]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں