🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

حدیث نمبر 722
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 722
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ:" اشْتَرَى ابْنُ عُمَرَ مِنْ شَرِيكٍ لَنَوَّاسٍ إِبِلا هِيمًا، فَلَمَّا جَاءَ نَوَّاسٌ، قَالَ لِشَرِيكِهِ: مِمَّنْ بِعْتَهَا، فَوَصَفَ لَهُ صِفَةَ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: وَيْحَكَ، ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ، فَأَتَى نَوَّاسٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ: أَنَّ شَرِيكِي بَاعَكَ إِبِلا هِيمًا، وَإِنَّهُ لَمْ يَعْرِفْكَ، قَالَ: خُذْهَا إِذَا، فَلَمَّا ذَهَبَ لأَخْذِهَا، قَالَ: دَعْهَا , رَضِينَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا عَدْوَى" . قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ عَمْرٌو: وَكَانَ نَوَّاسٌ يُجَالِسُ ابْنَ عُمَرَ، وَكَانَ يُضْحِكُهُ، فَقَالَ يَوْمًا: وَدِدْتُ أَنَّ لِي أَبَا قُبَيْسٍ ذَهَبًا، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: مَا تَصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: أَمُوتُ عَلَيْهِ، فَضَحِكَ ابْنُ عُمَرَ.
عمر و بن دینار بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نواس کے شراکت دار سے ایک ایسا اونٹ خریدا جسے شدید پیاس لگنے کی بیماری تھی۔ جب نواس آئے، تو انہوں نے اپنے شراکت دار سے کہا: تم نے اسے کس کو فروخت کیا ہے، تو اس نے ان کے سامنے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا حلیہ بیان کیا، تو نواس بولے: تمہارا ستیاناس ہو وہ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے۔ نواس سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور بولے: میرے شراکت دار نے آپ کو ایک ایسا اونٹ فروخت کیا ہے، جسے شدید پیاس لگنے کی بیماری ہے، وہ آپ کو پہچانتا نہیں تھا۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بولے: تم اسے لے جاؤ۔ جب میں اسے لے کر جانے لگا، تو انہوں نے فرمایا: تم اسے رہنے دو! ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے سے راضی ہیں کہ عدویٰ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ سفیان کہتے ہیں: عمرو بن دینار نے یہ بات بیان کی ہے نواس سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بیٹھا کرتے تھے اور انہیں ہنسایا کرتے تھے۔ ایک دن انہوں نے کہا: میری یہ خواہش ہے کہ میرے پاس ابوقبیس پہاڑ جتنا سونا ہوتا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم اس کے ساتھ کیا کرتے؟ تو نواس بولے: میں اس پر مر جاتا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہنسنے لگے۔ [مسند الحميدي/أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 722]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2099، 2858، 5093، 5094، 5753، 5772، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2225، ومالك فى «الموطأ» برقم: 3566، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3570، 3571، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3922، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2824 م 1، 2824 م 2، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 86، 1995، 3540، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10849، 10850، 14346، 16620، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4633 برقم: 4867 برقم: 5022»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں