🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

حدیث نمبر 956
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 956
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فِي شَيْءٍ وَقَعَ بَيْنَهُمْ حَتَّى تَرَامَوْا بِالْحِجَارَةِ، فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ، فَأَذَّنَ بِلالٌ، وَاحْتُبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَتَخَلَّلُ الصُّفُوفَ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ الَّذِي يَلِي أَبَا بَكْرٍ أَخَذَ النَّاسُ فِي التَّصْفِيحِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلا لا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلاةِ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْتَفَتَ، فَأَبْصَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اثْبُتْ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَشَكَرَ اللَّهَ وَرَجَعَ الْقَهْقَرَى، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاتَهُ، فَقَالَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ حِينَ أَشَرْتُ إِلَيْكَ؟"، فَقَالَ: مَا كَانَ اللَّهُ لِيَرَى ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ انْحَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ , مَا لَكَمْ حِينَ نَابَكُمْ فِي صَلاتِكُمْ شَيْءٌ أَخَذْتُمْ فِي التَّصْفِيحِ؟ إِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ، وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلاتِهِ، فَلْيَقُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ" .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کروانے کے لیے تشریف لے گئے کیونکہ ان کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، یہاں تک کہ انہوں نے ایک دوسرے کو پتھر بھی مارے تھے۔ اس دوران نماز کا وقت ہو گیا، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہیں رکے رہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھ گئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کے درمیان میں سے گزرتے ہوئے تشریف لائے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے والی صف تک پہنچے، تو لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک ایسے فرد تھے، جو نماز کے دوران ادھر ادھر توجہ نہیں کرتے تھے، جب انہوں نے تالیوں کی آواز سنی اور توجہ کی، تو انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نظر آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ تم اپنی جگہ پر رہو۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور الٹے قدموں پیچھے ہٹ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں اشارہ کیا پھر تم کو کس بات نے روکا؟ (کہ تم میرے حکم پر عمل کرو) تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ تعالیٰ، ابوقحافہ کے بیٹے کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے نہیں دیکھے گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! کیا وجہ ہے کہ جب نماز کے دوران تمہیں ضرورت پیش آئی تو تم نے تالیاں بجانا شروع کر دیں؟ تالیاں بجانے کا حکم خواتین کے لیے ہے، مردوں کے لیے سبحان اللہ کہنے کا حکم ہے۔ جس شخص کو نماز کے دوران (امام کو متوجہ کرنے کے لئے) کوئی ضرورت پیش آ جائے، تو وہ سبحان اللہ کہے۔ [مسند الحميدي/أَحَادِيثُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 956]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 684، 1201، 1204، 1218، 1234، 2690، 2693، 7190، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 421، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2260، 2261، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 4485، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 783، 792، 1182، وأبو داود فى «سننه» برقم: 940، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1035، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3380، وأحمد فى «مسنده» برقم: 23264، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 7513، 7517، 7524، 7545»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں