🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. بَابُ إِذَا مَاتَ فِي الزِّحَامِ أَوْ قُتِلَ:
باب: جب کوئی ہجوم میں مر جائے یا مارا جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6890
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: هِشَامٌ أَخْبَرَنَا، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ، هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ، فَصَاحَ إِبْلِيسُ: أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ، فَرَجَعَتْ أُولَاهُمْ، فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ"، فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ الْيَمَانِ، فَقَالَ: أَيْ عِبَادَ اللَّهِ: أَبِي أَبِي، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ مَا احْتَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ، قَالَ حُذَيْفَةُ: غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ، قَالَ عُرْوَةُ: فَمَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ.
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو ابواسامہ نے خبر دی، انہیں ہشام نے خبر دی، کہا ہم کو ہمارے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی میں مشرکین کو پہلے شکست ہو گئی تھی لیکن ابلیس نے چلا کر کہا اے اللہ کے بندو! پیچھے کی طرف والوں سے بچو! چنانچہ آگے کے لوگ پلٹ پڑے اور آگے والے پیچھے والوں سے (جو مسلمان ہی تھے) بھڑ گئے۔ اچانک حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو ان کے والد یمان رضی اللہ عنہ تھے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے بندو! یہ تو میرے والد ہیں، میرے والد۔ بیان کیا کہ اللہ کی قسم مسلمان انہیں قتل کر کے ہی ہٹے۔ اس پر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ عروہ نے بیان کیا کہ اس واقعہ کا صدمہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کو آخر وقت تک رہا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 6890]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب احد کے دن مشرکین شکست کھا گئے تو ابلیس بلند آواز سے چلایا: اللہ کے بندو! پچھلے لوگوں کی طرف سے اپنا بچاؤ کرو۔ چنانچہ آگے والے، پیچھے والوں کی طرف پلٹے، پھر ابلیس نے پکارا: آگے والے، پیچھے لوگوں کی طرف سے اپنا بچاؤ کرو۔ چنانچہ آگے والے پیچھے والوں کی طرف پلٹے پھر آگے والے پیچھے والوں سے بھڑ گئے، اس دوران میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اچانک اپنے والد کو دیکھا تو انہوں نے کہا: اللہ کے بندو! یہ تو میرے والد ہیں، یہ تو میرے باپ ہیں۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: اللہ کی قسم! مسلمانوں نے انہیں قتل کر کے ہی دم لیا۔ اس پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: «يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ» اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے۔ حضرت عروہ رحمہ اللہ نے کہا: آخر وقت تک حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے یہی جذبات رہے، یعنی مسلمانوں سے محبت میں کمی نہ آئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 6890]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں