موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. بَابُ عِدَّةِ الْأَمَةِ إِذَا تُوُفِّيَ سَيِّدُهَا أَوْ زَوْجُهَا
لونڈی کا جب مولیٰ یا خاوند مر جائے اس کی عدت کا بیان
حدیث نمبر: 1235
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا سَيِّدُهَا حَيْضَةٌ" . قَالَ مَالِكٌ: وَهُوَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا. قَالَ مَالِكٌ: وَإِنْ لَمْ تَكُنْ مِمَّنْ تَحِيضُ، فَعِدَّتُهَا ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ. حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، كَانَا يَقُولَانِ: " عِدَّةُ الْأَمَةِ إِذَا هَلَكَ عَنْهَا زَوْجُهَا شَهْرَانِ وَخَمْسُ لَيَالٍ"
حضرت سعید بن مسیّب اور سلیمان بن یسار کہتے تھے کہ لونڈی کا خاوند جب مر جائے تو اس کی عدت دو مہینے پانچ دن ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1235]
تخریج الحدیث: «مقطوع ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15458، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18880، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 93»
حدیث نمبر: 1236
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، مِثْلَ ذَلِكَ. قَالَ مَالِكٌ فِي الْعَبْدِ يُطَلِّقُ الْأَمَةَ طَلَاقًا لَمْ يَبُتَّهَا فِيهِ: لَهُ عَلَيْهَا فِيهِ الرَّجْعَةُ، ثُمَّ يَمُوتُ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا مِنْ طَلَاقِهِ، إِنَّهَا تَعْتَدُّ عِدَّةَ الْأَمَةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا، شَهْرَيْنِ وَخَمْسَ لَيَالٍ، وَإِنَّهَا إِنْ عَتَقَتْ وَلَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ، ثُمَّ لَمْ تَخْتَرْ فِرَاقَهُ بَعْدَ الْعِتْقِ حَتَّى يَمُوتَ، وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا مِنْ طَلَاقِهِ، اعْتَدَّتْ عِدَّةَ الْحُرَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَذَلِكَ أَنَّهَا إِنَّمَا وَقَعَتْ عَلَيْهَا عِدَّةُ الْوَفَاةِ بَعْدَ مَا عَتَقَتْ، فَعِدَّتُهَا عِدَّةُ الْحُرَّةِ. قَالَ مَالِكٌ: وَهَذَا الْأَمْرُ عِنْدَنَا
ابن شہاب نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو غلام لونڈی کو طلاقِ رجعی دے، پھر مرجائے اور اس کی عورت عدت میں ہو، تو اب دو مہینے پانچ دن تک عدت کرے۔ اگر وہ لونڈی آزاد ہو جائے اور اپنے خاوند سے جدا نہ ہونا چاہے یہاں تک کہ خاوند اس کا عدت میں مرجائے، تو اب وہ لونڈی مثل آزاد عورت کے چار مہینے دس دن تک عدت کرے، کیونکہ عدت وفات کے بعد آزادی کے اس پر لازم ہوئی، تو مثل آزاد عورت کے کرنا چاہیے۔ کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1236]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو غلام لونڈی کو طلاقِ رجعی دے، پھر مرجائے اور اس کی عورت عدت میں ہو، تو اب دو مہینے پانچ دن تک عدت کرے۔ اگر وہ لونڈی آزاد ہو جائے اور اپنے خاوند سے جدا نہ ہونا چاہے یہاں تک کہ خاوند اس کا عدت میں مرجائے، تو اب وہ لونڈی مثل آزاد عورت کے چار مہینے دس دن تک عدت کرے، کیونکہ عدت وفات کے بعد آزادی کے اس پر لازم ہوئی، تو مثل آزاد عورت کے کرنا چاہیے۔ کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1236]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15459، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12924، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 94»