🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ سَعْيِ الْمُكَاتَبِ
مکاتب کی محنت مزدوری کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1297
عَنْ مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، سُئِلَا عَنْ رَجُلٍ كَاتَبَ عَلَى نَفْسِهِ وَعَلَى بَنِيهِ ثُمَّ مَاتَ. هَلْ يَسْعَى بَنُو الْمُكَاتَبِ فِي كِتَابَةِ أَبِيهِمْ أَمْ هُمْ عَبِيدٌ؟ فَقَالَا: بَلْ يَسْعَوْنَ فِي كِتَابَةِ أَبِيهِمْ وَلَا يُوضَعُ عَنْهُمْ لِمَوْتِ أَبِيهِمْ شَيْءٌ.
عروہ بن زبیر اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا: جو شخص اپنے تئیں اور اپنے بیٹوں کو مکاتب کرے اور پھر مر جائے تو اس کے بیٹے بدل کتابت کے ادا کرنے میں محنت مزدوری کریں گے یا غلام رہیں گے؟ انہوں نے کہا: سعی کریں گے اپنے باپ کی کتابت میں، اور اُن کے باپ کے مر جانے کی وجہ سے بدل کتابت میں کچھ کمی نہ ہو گی۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1297]
تخریج الحدیث: «مقطوع ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21669، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 15764، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 20518، 20520، فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 8»

الحكم على الحديث:
مقطوع ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1297B1
قَالَ مَالِكٌ: وَإِنْ كَانُوا صِغَارًا لَا يُطِيقُونَ السَّعْيَ. لَمْ يُنْتَظَرْ بِهِمْ أَنْ يَكْبَرُوا، وَكَانُوا رَقِيقًا لِسَيِّدِ أَبِيهِمْ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْمُكَاتَبُ تَرَكَ مَا يُؤَدَّى بِهِ عَنْهُمْ نُجُومُهُمْ. إِلَى أَنْ يَتَكَلَّفُوا السَّعْيَ. فَإِنْ كَانَ فِيمَا تَرَكَ مَا يُؤَدَّى عَنْهُمْ، أُدِّيَ ذَلِكَ عَنْهُمْ. وَتُرِكُوا عَلَى حَالِهِمْ. حَتَّى يَبْلُغُوا السَّعْيَ. فَإِنْ أَدَّوْا عَتَقُوا وَإِنْ عَجَزُوا رَقُّوا.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مکاتب کے بیٹے کمسن ہوں، محنت مزدوری نہ کر سکیں، تو ان کے بڑے ہونے کا انتظار نہ کیا جائے گا، اور اپنے باپ کے مولیٰ کے غلام ہو جائیں گے، مگر جس صورت میں مکاتب اس قدر مال چھوڑ جائے جو ان کے بلوغ تک کی قسطوں کو کافی ہو، اس صورت میں بلوغ تک انتظار کیا جائے گا، بعد بلوغ کے اگر بدل کتابت کو ادا کر دیں تو آزاد ہو جائیں گے، اور اگر عاجز ہو جائیں تو غلام ہو جائیں گے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1297B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 8»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1297B2
قَالَ مَالِكٌ فِي الْمُكَاتَبِ يَمُوتُ وَيَتْرُكُ مَالًا لَيْسَ فِيهِ وَفَاءُ الْكِتَابَةِ. وَيَتْرُكُ وَلَدًا مَعَهُ فِي كِتَابَتِهِ وَأُمَّ وَلَدٍ. فَأَرَادَتْ أُمُّ وَلَدِهِ أَنْ تَسْعَى عَلَيْهِمْ: إِنَّهُ يُدْفَعُ إِلَيْهَا الْمَالُ إِذَا كَانَتْ مَأْمُونَةً عَلَى ذَلِكَ قَوِيَّةً عَلَى السَّعْيِ. وَإِنْ لَمْ تَكُنْ قَوِيَّةً عَلَى السَّعْيِ. وَلَا مَأْمُونَةً عَلَى الْمَالِ لَمْ تُعْطَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ. وَرَجَعَتْ هِيَ وَوَلَدُ الْمُكَاتَبِ رَقِيقًا لِسَيِّدِ الْمُكَاتَبِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مکاتب مر جائے اور اس قدر مال چھوڑ جائے جو بدل کتابت کو مکتفی نہ ہو اور اپنی اولاد اور اُم ولد کو جو کتابت میں داخل ہو چھوڑ جائے، پھر اُم ولد یہ چاہے وہ مال لے کر اولاد کے اور اپنے آزاد کرنے میں محنت مزدوری کرے، تو اگر وہ اُم ولد معتبر اور مشقت محنت پر قادر ہو تو وہ مال اس کے حوالے کیا جائے گا، ورنہ وہ مال مولیٰ لے لے گا اور اُم ولد اور مکاتب کی اولاد غلام ہو جائیں گے مولیٰ کے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1297B2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 8»