🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. بَابُ الْقَسَامَةِ:
باب: قسامت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6898
وَقَالَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: لَمْ يُقِدْ بِهَا مُعَاوِيَةُ، وَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى عَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ، وَكَانَ أَمَّرَهُ عَلَى الْبَصْرَةِ، فِي قَتِيلٍ وُجِدَ عِنْدَ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ السَّمَّانِينَ، إِنْ وَجَدَ أَصْحَابُهُ بَيِّنَةً، وَإِلَّا فَلَا تَظْلِمِ النَّاسَ، فَإِنَّ هَذَا لَا يُقْضَى فِيهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
اور اشعث بن قیس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے دو گواہ لاؤ ورنہ اس (مدعیٰ علیہ) کی قسم (پر فیصلہ ہو گا) ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا قسامت میں معاویہ رضی اللہ عنہ نے قصاص نہیں لیا (صرف دیت دلائی) اور عمر بن عبدالعزیز نے عدی بن ارطاۃ کو جنہیں انہوں نے بصرہ کا امیر بنایا تھا ایک مقتول کے بارے میں جو تیل بیچنے والوں کے محلہ کے ایک گھر کے پاس پایا گیا تھا لکھا کہ اگر مقتول کے اولیاء کے پاس کوئی گواہی ہو (تو فیصلہ کیا جا سکتا ہے) ورنہ خلق اللہ پر ظلم نہ کرو کیونکہ ایسے معاملہ کا جس پر گواہ نہ ہوں قیامت تک فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: Q6898]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6898
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، زَعَمَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ:" أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ، فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، وَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا، وَقَالُوا لِلَّذِي وُجِدَ فِيهِمْ: قَدْ قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا، قَالُوا: مَا قَتَلْنَا وَلَا عَلِمْنَا قَاتِلًا، فَانْطَلَقُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ انْطَلَقْنَا إِلَى خَيْبَرَ، فَوَجَدْنَا أَحَدَنَا قَتِيلًا، فَقَالَ:" الْكُبْرَ الْكُبْرَ، فَقَالَ: لَهُمْ تَأْتُونَ بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ، قَالُوا: مَا لَنَا بَيِّنَةٌ، قَالَ: فَيَحْلِفُونَ، قَالُوا: لَا نَرْضَى بِأَيْمَانِ الْيَهُودِ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن عبید نے بیان کیا، ان سے بشیر بن یسار نے، وہ کہتے تھے کہ قبیلہ انصار کے ایک صاحب سہل بن ابی حثمہ نے انہیں خبر دی کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ خیبر گئے اور (اپنے اپنے کاموں کے لیے) مختلف جگہوں میں الگ الگ گئے پھر اپنے میں کے ایک شخص کو مقتول پایا۔ جنہیں وہ مقتول ملے تھے، ان سے ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے ساتھی کو تم نے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ ہم نے قتل کیا اور نہ ہمیں قاتل کا پتہ معلوم ہے؟ پھر یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: یا رسول اللہ! ہم خیبر گئے اور پھر ہم نے وہاں اپنے ایک ساتھی کو مقتول پایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں جو بڑا ہے وہ بات کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قاتل کے خلاف گواہی لاؤ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی گواہی نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یہ (یہودی) قسم کھائیں گے (اور ان کی قسم پر فیصلہ ہو گا) انہوں نے کہا کہ یہودیوں کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسند نہیں فرمایا کہ مقتول کا خون رائیگاں جائے چنانچہ آپ نے صدقہ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ (خود ہی) دیت میں دیئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 6898]
حضرت بشیر بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ انصار کے ایک صاحب حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ان کی قوم کے چند لوگ خیبر گئے اور وہاں انہوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو مقتول پایا۔ جہاں مقتول ملا تھا وہاں کے لوگوں سے انہوں نے کہا: تم نے ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: ہم نے قتل نہیں کیا اور نہ ہم قاتل ہی کو جانتے ہیں۔ پھر یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم خیبر گئے تھے، وہاں ہم نے اپنے میں سے ایک مقتول کو پایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو بڑا ہے وہ بات کرے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس پر گواہ پیش کرو جس نے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: ہمارے پاس اس کے متعلق کوئی گواہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اگر تمہارے پاس گواہ نہیں) تو وہ (یہودی) قسم کھائیں گے۔ انہوں نے کہا: ان (یہود) کی قسم پر ہمیں اعتماد نہیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پسند نہ فرمایا کہ مقتول کا خون رائیگاں جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقے کے اونٹوں میں سے اونٹ دیت میں دیے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 6898]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6899
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ مِنْ آلِ أَبِي قِلَابَةَ،حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَبْرَزَ سَرِيرَهُ يَوْمًا لِلنَّاسِ، ثُمَّ أَذِنَ لَهُمْ، فَدَخَلُوا، فَقَالَ: مَا تَقُولُونَ فِي الْقَسَامَةِ؟، قَالَ: نَقُولُ: الْقَسَامَةُ الْقَوَدُ بِهَا حَقٌّ، وَقَدْ أَقَادَتْ بِهَا الْخُلَفَاءُ، قَالَ لِي: مَا تَقُولُ يَا أَبَا قِلَابَةَ؟، وَنَصَبَنِي لِلنَّاسِ، فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ: عِنْدَكَ رُءُوسُ الْأَجْنَادِ وَأَشْرَافُ الْعَرَبِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ خَمْسِينَ مِنْهُمْ شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ مُحْصَنٍ بِدِمَشْقَ أَنَّهُ قَدْ زَنَى لَمْ يَرَوْهُ، أَكُنْتَ تَرْجُمُهُ؟، قَالَ: لَا، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ خَمْسِينَ مِنْهُمْ شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ بِحِمْصَ أَنَّهُ سَرَقَ، أَكُنْتَ تَقْطَعُهُ وَلَمْ يَرَوْهُ؟، قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَوَاللَّهِ" مَا قَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ: رَجُلٌ قَتَلَ بِجَرِيرَةِ نَفْسِهِ فَقُتِلَ، أَوْ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانٍ، أَوْ رَجُلٌ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ"، فَقَالَ الْقَوْمُ: أَوَلَيْسَ قَدْ حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَطَعَ فِي السَّرَقِ، وَسَمَرَ الْأَعْيُنَ، ثُمَّ نَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ، فَقُلْتُ: أَنَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثَ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ: أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعُوهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَاسْتَوْخَمُوا الْأَرْضَ، فَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَفَلَا تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِبِلِهِ فَتُصِيبُونَ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، قَالُوا: بَلَى، فَخَرَجُوا، فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَصَحُّوا، فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَطْرَدُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُدْرِكُوا، فَجِيءَ بِهِمْ، فَأَمَرَ بِهِمْ، فَقُطِّعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، ثُمَّ نَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا، قُلْتُ: وَأَيُّ شَيْءٍ أَشَدُّ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ، ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، وَقَتَلُوا، وَسَرَقُوا، فَقَالَ عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ: وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ، فَقُلْتُ: أَتَرُدُّ عَلَيَّ حَدِيثِي يَا عَنْبَسَةُ، قَالَ، لَا، وَلَكِنْ جِئْتَ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ، وَاللَّهِ لَا يَزَالُ هَذَا الْجُنْدُ بِخَيْرٍ مَا عَاشَ هَذَا الشَّيْخُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ، قُلْتُ: وَقَدْ كَانَ فِي هَذَا سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَتَحَدَّثُوا عِنْدَهُ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنْهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، فَقُتِلَ، فَخَرَجُوا بَعْدَهُ، فَإِذَا هُمْ بِصَاحِبِهِمْ يَتَشَحَّطُ فِي الدَّمِ، فَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَاحِبُنَا كَانَ تَحَدَّثَ مَعَنَا، فَخَرَجَ بَيْنَ أَيْدِينَا فَإِذَا نَحْنُ بِهِ يَتَشَحَّطُ فِي الدَّمِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بِمَنْ تَظُنُّونَ أَوْ مَنْ تَرَوْنَ قَتَلَهُ؟ قَالُوا: نَرَى أَنَّ الْيَهُودَ قَتَلَتْهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِ فَدَعَاهُمْ، فَقَالَ: أَنْتُمْ قَتَلْتُمْ هَذَا؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: أَتَرْضَوْنَ نَفَلَ خَمْسِينَ مِنَ الْيَهُودِ مَا قَتَلُوهُ؟، فَقَالُوا: مَا يُبَالُونَ أَنْ يَقْتُلُونَا أَجْمَعِينَ ثُمَّ يَنْتَفِلُونَ، قَالَ: أَفَتَسْتَحِقُّونَ الدِّيَةَ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ؟"، قَالُوا: مَا كُنَّا لِنَحْلِفَ، فَوَدَاهُ مِنْ عِنْدِهِ، قُلْتُ: وَقَدْ كَانَتْ هُذَيْلٌ خَلَعُوا خَلِيعًا لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَطَرَقَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْيَمَنِ بِالْبَطْحَاءِ، فَانْتَبَهَ لَهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَحَذَفَهُ بِالسَّيْفِ، فَقَتَلَهُ، فَجَاءَتْ هُذَيْلٌ، فَأَخَذُوا الْيَمَانِيَّ، فَرَفَعُوهُ إِلَى عُمَرَ بِالْمَوْسِمِ، وَقَالُوا: قَتَلَ صَاحِبَنَا، فَقَالَ: إِنَّهُمْ قَدْ خَلَعُوهُ، فَقَالَ: يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْ هُذَيْلٍ مَا خَلَعُوهُ، قَالَ: فَأَقْسَمَ مِنْهُمْ تِسْعَةٌ وَأَرْبَعُونَ رَجُلًا، وَقَدِمَ رَجُلٌ مِنْهُمْ مِنَ الشَّأْمِ فَسَأَلُوهُ أَنْ يُقْسِمَ، فَافْتَدَى يَمِينَهُ مِنْهُمْ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، فَأَدْخَلُوا مَكَانَهُ رَجُلًا آخَرَ، فَدَفَعَهُ إِلَى أَخِي الْمَقْتُولِ، فَقُرِنَتْ يَدُهُ بِيَدِهِ، قَالُوا: فَانْطَلَقَا وَالْخَمْسُونَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِنَخْلَةَ أَخَذَتْهُمُ السَّمَاءُ، فَدَخَلُوا فِي غَارٍ فِي الْجَبَلِ، فَانْهَجَمَ الْغَارُ عَلَى الْخَمْسِينَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا، فَمَاتُوا جَمِيعًا، وَأَفْلَتَ الْقَرِينَانِ وَاتَّبَعَهُمَا حَجَرٌ، فَكَسَرَ رِجْلَ أَخِي الْمَقْتُولِ، فَعَاشَ حَوْلًا ثُمَّ مَاتَ، قُلْتُ: وَقَدْ كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ أَقَادَ رَجُلًا بِالْقَسَامَةِ، ثُمَّ نَدِمَ بَعْدَ مَا صَنَعَ، فَأَمَرَ بِالْخَمْسِينَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا، فَمُحُوا مِنَ الدِّيوَانِ وَسَيَّرَهُمْ إِلَى الشَّأْمِ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبشر اسماعیل بن ابراہیم الاسدی نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن ابی عثمان نے بیان کیا، ان سے آل ابوقلابہ کے غلام ابورجاء نے بیان کیا اس نے کہا کہ مجھ سے ابوقلابہ نے بیان کیا کہ عمر بن عبدالعزیز نے ایک دن دربار عام کیا اور سب کو اجازت دی۔ لوگ داخل ہوئے تو انہوں نے پوچھا: قسامہ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ کسی نے کہا کہ قسامہ کے ذریعہ قصاص لینا حق ہے اور خلفاء نے اس کے ذریعہ قصاص لیا ہے۔ اس پر انہوں نے مجھ سے پوچھا: ابوقلابہ! تمہاری کیا رائے ہے؟ اور مجھے عوام کے ساتھ لا کھڑا کر دیا۔ میں نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! آپ کے پاس عرب کے سردار اور شریف لوگ رہتے ہیں آپ کی کیا رائے ہو گی اگر ان میں سے پچاس آدمی کسی دمشقی کے شادی شدہ شخص کے بارے میں زنا کی گواہی دیں جبکہ ان لوگوں نے اس شخص کو دیکھا بھی نہ ہو کیا آپ ان کی گواہی پر اس شخص کو رجم کر دیں گے۔ امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے اگر انہیں (اشراف عرب) میں سے پچاس افراد حمص کے کسی شخص کے متعلق چوری کی گواہی دے دیں اس کو بغیر دیکھے تو کیا آپ اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے؟ فرمایا کہ نہیں۔ پھر میں نے کہا، پس اللہ کی قسم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو تین حالتوں کے سوا قتل نہیں کرایا۔ ایک وہ شخص جس نے کسی کو ظلماً قتل کیا ہو اور اس کے بدلے میں قتل کیا گیا ہو۔ دوسرا وہ شخص جس نے شادی کے بعد زنا کیا ہو۔ تیسرا وہ شخص جس نے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی ہو اور اسلام سے پھر گیا ہو۔ لوگوں نے اس پر کہا، کیا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نہیں بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چوری کے معاملہ میں ہاتھ پیر کاٹ دئیے تھے اور آنکھوں میں سلائی پھروائی تھی اور پھر انہیں دھوپ میں ڈلوا دیا تھا۔ میں نے کہا کہ میں آپ لوگوں کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث سناتا ہوں۔ مجھ سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل کے آٹھ افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اسلام پر بیعت کی، پھر مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں ناموافق ہوئی اور وہ بیمار پڑ گئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر کیوں نہیں تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اس کے اونٹوں میں چلے جاتے اور اونٹوں کا دودھ اور ان کا پیشاب پیتے۔ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں۔ چنانچہ وہ نکل گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا اور صحت مند ہو گئے۔ پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہنکا لے گئے۔ اس کی اطلاع جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے، پھر وہ پکڑے گئے اور لائے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ان کے بھی ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی پھر انہیں دھوپ میں ڈلوا دیا اور آخر وہ مر گئے۔ میں نے کہا کہ ان کے عمل سے بڑھ کر اور کیا جرم ہو سکتا ہے اسلام سے پھر گئے اور قتل کیا اور چوری کی۔ عنبہ بن سعید نے کہا میں نے آج جیسی بات کبھی نہیں سنی تھی۔ میں نے کہا: عنبہ! کیا تم میری حدیث رد کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں آپ نے یہ حدیث واقعہ کے مطابق بیان کر دی ہے۔ واللہ! اہل شام کے ساتھ اس وقت تک خیر و بھلائی رہے گی جب تک یہ شیخ (ابوقلابہ) ان میں موجود رہیں گے۔ میں نے کہا کہ اس قسامہ کے سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت ہے۔ انصار کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی پھر ان میں سے ایک صاحب ان کے سامنے ہی نکلے (خیبر کے ارادہ سے) اور وہاں قتل کر دئیے گئے۔ اس کے بعد دوسرے صحابہ بھی گئے اور دیکھا کہ ان کے ساتھ خون میں تڑپ رہے ہیں۔ ان لوگوں نے واپس آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی اور کہا: یا رسول اللہ! ہمارے ساتھ گفتگو کر رہے تھے اور اچانک وہ ہمیں (خیبر میں) خون میں تڑپتے ملے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور پوچھا کہ تمہارا کس پر شبہ ہے کہ انہوں نے ان کو قتل کیا ہے۔ صحابہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہودیوں نے ہی قتل کیا ہے پھر آپ نے یہودیوں کو بلا بھیجا اور ان سے پوچھا کیا تم نے انہیں قتل کیا ہے؟ انہوں نے انکار کر دیا تو آپ نے فرمایا، کیا تم مان جاؤ گے اگر پچاس یہودی اس کی قسم لیں کہ انہوں نے مقتول کو قتل نہیں کیا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یہ لوگ ذرا بھی پرواہ نہیں کریں گے کہ ہم سب کو قتل کرنے کے بعد پھر قسم کھا لیں (کہ قتل انہوں نے نہیں کیا ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم میں سے پچاس آدمی قسم کھا لیں اور خون بہا کے مستحق ہو جائیں۔ صحابہ نے عرض کیا: ہم بھی قسم کھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پاس سے خون بہا دیا (ابوقلابہ نے کہا کہ) میں نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں قبیلہ ہذیل کے لوگوں نے اپنے ایک آدمی کو اپنے میں سے نکال دیا تھا پھر وہ شخص بطحاء میں یمن کے ایک شخص کے گھر رات کو آیا۔ اتنے میں ان میں سے کوئی شخص بیدار ہو گیا اور اس نے اس پر تلوار سے حملہ کر کے قتل کر دیا۔ اس کے بعد ہذیل کے لوگ آئے اور انہوں نے یمنی کو (جس نے قتل کیا تھا) پکڑا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے حج کے زمانہ میں اور کہا کہ اس نے ہمارے آدمی کو قتل کر دیا ہے۔ یمنی نے کہا کہ انہوں نے اسے اپنی برادری سے نکال دیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب ہذیل کے پچاس آدمی اس کی قسم کھائیں کہ انہوں نے اسے نکالا نہیں تھا۔ بیان کیا کہ پھر ان میں سے انچاس آدمیوں نے قسم کھائی پھر انہیں کے قبیلہ کا ایک شخص شام سے آیا تو انہوں نے اس سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ قسم کھائے لیکن اس نے اپنی قسم کے بدلہ میں ایک ہزار درہم دے کر اپنا پیچھا قسم سے چھڑا لیا۔ ہذلیوں نے اس کی جگہ ایک دوسرے آدمی کو تیار کر لیا پھر وہ مقتول کے بھائی کے پاس گیا اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے ملایا۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم پچاس جنہوں نے قسم کھائی تھی روانہ ہوئے۔ جب مقام نخلہ پر پہنچے تو بارش نے انہیں آیا۔ سب لوگ پہاڑ کے ایک غار میں گھس گئے اور غار ان پچاسوں کے اوپر گر پڑا۔ جنہوں نے قسم کھائی تھی اور سب کے سب مر گئے۔ البتہ دونوں ہاتھ ملانے والے بچ گئے۔ لیکن ان کے پیچھے سے ایک پتھر لڑھک کر گرا اور اس سے مقتول کے بھائی کی ٹانگ ٹوٹ گئی اس کے بعد وہ ایک سال اور زندہ رہا پھر مر گیا۔ میں نے کہا کہ عبدالملک بن مروان نے قسامہ پر ایک شخص سے قصاص لی تھی پھر اسے اپنے کئے ہوئے پر ندامت ہوئی اور اس نے ان پچاسوں کے متعلق جنہوں نے قسم کھائی تھی حکم دیا اور ان کے نام رجسٹر سے کاٹ دئیے گئے پھر انہوں نے شام بھیج دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 6899]
حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ایک دن دربارِ عام منعقد کیا اور سب لوگوں کو شامل ہونے کی اجازت دی۔ جب لوگ آئے تو انہوں نے پوچھا: قسامت کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ لوگوں نے کہا: قسامت کے ذریعے سے قصاص لیا گیا ہے۔ ابو قلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے کہا: اے قلابہ! تمہاری کیا رائے ہے؟ مجھے انہوں نے عوام کے سامنے لا کھڑا کیا۔ میں نے کہا: اے امیر المومنین! آپ کے پاس عرب کے بڑے بڑے لوگ اور سردار موجود ہیں، آپ ہی بتائیں اگر ان میں سے پچاس آدمی دمشق میں رہنے والے کسی شادی شدہ شخص کے متعلق گواہی دیں کہ اس نے زنا کیا ہے جبکہ ان لوگوں نے اسے دیکھا ہی نہیں تو کیا ان کی گواہی پر آپ اس شخص کو سنگسار کر دیں گے؟ امیر المومنین نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: آپ ہی بتائیں اگر ان میں سے پچاس آدمی حمص میں رہنے والے کسی شخص کے متعلق گواہی دیں کہ اس نے چوری کی ہے، حالانکہ انہوں نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا تو کیا آپ اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے؟ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: نہیں (ایسا تو نہیں ہوسکتا)۔ پھر میں نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو تین حالتوں کے علاوہ قتل نہیں کیا: ایک وہ شخص جس نے کسی دوسرے کو ناحق قتل کیا ہو تو اسے قصاص میں قتل کیا جائے گا، دوسرا وہ جس نے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کیا ہو، تیسرا وہ جس نے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی اور دین اسلام سے برگشتہ ہو گیا (انہیں قتل کر دیا جائے گا)۔ یہ بات سن کر لوگوں نے کہا: کیا حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان نہیں کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوری کے معاملے میں ہاتھ پاؤں کاٹ دیے تھے اور مجرموں کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر کر انہیں دھوپ میں ڈال دیا تھا؟ حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ نے کہا: میں تمہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث سناتا ہوں: مجھ سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل کے آٹھ افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی۔ انہیں مدینہ طیبہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی اور وہ بیمار ہو گئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اونٹوں کے باڑے میں نہیں چلے جاتے پھر تم وہاں ان کا دودھ اور پیشاب پیتے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ چنانچہ وہ گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا تو صحت یاب ہو گئے۔ اس کے بعد انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے، چنانچہ انہیں گرفتار کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ، پاؤں کاٹنے کا حکم دیا اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھروا دیں، پھر انہیں دھوپ میں پھینک دیا حتیٰ کہ وہ مرگئے۔ میں نے کہا: ان کے عمل سے بڑھ کر اور کیا جرم ہو سکتا ہے؟ وہ اسلام سے پھر گئے، انہوں نے قتل کیا اور چوری کے مرتکب ہوئے۔ حضرت عنبسہ بن سعید رحمہ اللہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آج جیسی بات کبھی نہیں سنی تھی۔ میں نے کہا: اے عنبسہ! کیا تو میری بیان کردہ حدیث مسترد کرتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ تم نے یہ حدیث حقیقتِ حال کے مطابق بیان کی ہے۔ اللہ کی قسم! یہ لشکر اس وقت تک خیر و عافیت سے رہے گا جب تک یہ شیخ ان میں موجود رہیں گے۔ میں نے کہا: قسامت کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کے کچھ لوگ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرتے رہے، پھر ان کے سامنے سے ان کا ایک شخص باہر نکلا اور وہاں قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد دوسرے لوگ باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کا ساتھی خون میں تڑپ رہا ہے۔ ان لوگوں نے واپس آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی خبر دی اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا ساتھی ابھی ابھی ہمارے ساتھ گفتگو کر رہا تھا، وہ ہمارے سامنے (مقتول پڑا) ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور پوچھا: تمہیں کس پر شبہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا: ہمارے خیال کے مطابق اسے یہودیوں نے قتل کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ یہودیوں میں سے پچاس آدمی قسم کھائیں کہ انہوں نے قتل نہیں کیا؟ انہوں نے کہا: وہ تو اس کی بھی پروا نہیں کرتے کہ ہم سب کو قتل کر دیں، پھر قسمیں کھا جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے پچاس آدمی قسم اٹھائیں اور خون بہا کے مستحق ہو جائیں۔ انہوں نے کہا: ہم بھی قسم اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا کر دی۔ (ابو قلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:) میں نے کہا: زمانہ جاہلیت میں قبیلہ ہذیل کے لوگوں نے اپنے ایک آدمی کو قبیلے سے نکال دیا تھا، پھر وہ رات کے وقت وادی بطحاء میں ایک یمنی کے گھر آیا، اس دوران ان میں سے ایک شخص بیدار ہوا اور اس نے تلوار سے وار کر دیا (جس سے وہ مر گیا)، پھر قبیلہ ہذیل کے لوگ آئے اور قاتل یمنی کو گرفتار کر کے حج کے موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں پیش کر دیا اور کہا: اس نے ہمارے آدمی کو قتل کر دیا ہے۔ یمنی نے کہا: انہوں نے اسے اپنی برادری سے نکال دیا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اب قبیلہ ہذیل کے پچاس آدمی قسم اٹھائیں کہ اسے انہوں نے نہیں نکالا تھا۔ چنانچہ ان میں سے انچاس آدمیوں نے قسمیں کھائیں، پھر اس قبیلے کا ایک شخص شام سے آیا تو انہوں نے اس سے بھی قسم لینے کا مطالبہ کیا لیکن اس نے اپنی قسم کے عوض ایک ہزار درہم ادا کر کے قسم سے اپنا پیچھا چھڑا لیا۔ قبیلہ ہذیل کے لوگوں نے اس کی جگہ ایک دوسرے آدمی کو تیار کر لیا، پھر انہوں نے قاتل کو مقتول کے بھائی کے حوالے کر دیا اور اس کا ہاتھ اس کے ہاتھ کے ساتھ باندھ دیا گیا۔ انہوں نے بیان کیا: پھر ہم اور وہ پچاس آدمی جنہوں نے قسم اٹھائی تھی روانہ ہوئے۔ جب مقام نخلہ پر پہنچے تو وہاں انہیں بارش نے آ لیا۔ چنانچہ سب لوگ پہاڑ کی ایک غار میں گھس گئے، غار ان پچاس آدمیوں کے اوپر گر پڑی جنہوں نے قسمیں اٹھائی تھیں اور وہ سب کے سب مر گئے، البتہ جن دو آدمیوں نے ہاتھ باندھے تھے وہ بچ گئے۔ ان کے پیچھے بھی ایک پتھر لڑھک کر گرا اور اس نے مقتول کے بھائی کا ٹخنا توڑ دیا۔ اس کے بعد وہ ایک سال زندہ رہا، پھر مر گیا۔ میں نے کہا: حضرت عبدالملک بن مروان رحمہ اللہ نے ایک آدمی سے قسامت کی بنیاد پر قصاص لیا تھا، پھر انہیں اپنے کیے پر ندامت ہوئی تو انہوں نے ان پچاس آدمیوں کے متعلق جنہوں نے قسم اٹھائی تھی حکم دیا کہ ان کے نام رجسٹر سے کاٹ دیے جائیں، پھر انہیں شام کی طرف جلاوطن کر دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 6899]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں