🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. بَابُ مَا جَاءَ فِي جِرَاحِ أُمِّ الْوَلَدِ
اُم ولد کسی شخص کو زخمی کرے تو کیا کرنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1303Q1
قَالَ مَالِكٌ فِي أُمِّ الْوَلَدِ تَجْرَحُ: إِنَّ عَقْلَ ذَلِكَ الْجَرْحِ ضَامِنٌ عَلَى سَيِّدِهَا فِي مَالِهِ. إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَقْلُ ذَلِكَ الْجَرْحِ أَكْثَرَ مِنْ قِيمَةِ أُمِّ الْوَلَدِ. فَلَيْسَ عَلَى سَيِّدِهَا أَنْ يُخْرِجَ أَكْثَرَ مِنْ قِيمَتِهَا. وَذَلِكَ أَنَّ رَبَّ الْعَبْدِ أَوِ الْوَلِيدَةِ. إِذَا أَسْلَمَ غُلَامَهُ أَوْ وَلِيدَتَهُ، بِجُرْحٍ أَصَابَهُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا. فَلَيْسَ عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، وَإِنْ كَثُرَ الْعَقْلُ. فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ سَيِّدُ أُمِّ الْوَلَدِ أَنْ يُسَلِّمَهَا، لِمَا مَضَى فِي ذَلِكَ مِنَ السُّنَّةِ، فَإِنَّهُ إِذَا أَخْرَجَ قِيمَتَهَا فَكَأَنَّهُ أَسْلَمَهَا. فَلَيْسَ عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ. وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ. وَلَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يَحْمِلَ مِنْ جِنَايَتِهَا أَكْثَرَ مِنْ قِيمَتِهَا.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر اُم ولد کسی شخص کو زخمی کرے تو دیت اس کے مولیٰ کو دینا ہوگی، مگر جس صورت میں دیت اُم ولد کی قیمت سے زیادہ ہو تو مولیٰ پر لازم نہیں کہ اس لونڈٰی یا غلام کو صاحب جنایت کے حوالے کرے، اگرچہ دیت کتنی ہو اس لونڈی یا غلام کی قیمت سے زیادہ ہو، اب یہاں پر اُم ولد کا مولیٰ یہ تو نہیں کر سکتا کہ اُم ولد کو صاحب جنایت کے حوالے کرے، اس لیے کہ اُم ولد کی بیع یا ہبہ اور کسی طور سے نقل ملک درست نہیں، بلکہ خلاف ہے سنتِ قدیمہ کے۔ جب ایسا ہوا تو قیمت اُم ولد کی خود اُم ولد کے قائم مقام ہے، اس سے زیادہ مولیٰ پر لازم نہیں، یہ میں نے بہت اچھا سنا کہ مولیٰ پر اُم ولد کی قیمت سے زیادہ جنایت میں دینا لازم نہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُدَبَّرِ/حدیث: 1303Q1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 40 - كِتَابُ الْمُدَبَّرِ-ح: 6ق1»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1303Q2
عَنْ مَّالِكٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَضَىٰ أَحَدُهُمَا فِي امْرَأَةٍ غَرَّتْ رَجُلًا بِنَفْسِهَا وَذَكَرَتْ أَنَّهَا هُرَّةٌ، فَوَلَدَتْ لَهُ أَوْلَادًا فَقَضَىٰ أَنْ يُّفْدِيَ وَلَدَهُ بِمِثْلِهِمْ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یا سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے حکم کیا: جو عورت دھوکا دے کر کسی سے کہے: میں آزاد ہوں، پھر نکاح کرے اور اولاد پیدا ہو، بعد اس کے وہ کسی کی لونڈی نکلے، تو اپنی اولاد کی مثل غلام لونڈی دے کر اپنی اولاد کو چھڑا سکتا ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میرے نزدیک قیمت دینا بہتر ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُدَبَّرِ/حدیث: 1303Q2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 40 - كِتَابُ الْمُدَبَّرِ-ح: 6ق1»