🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

28. بَابُ بَيْعِ اللَّحْمِ بِاللَّحْمِ
گوشت کو گو شت کے بدلے میں بیچنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1369Q1
قَالَ مَالِكٌ: الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي لَحْمِ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ، وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الْوُحُوشِ، أَنَّهُ لَا يُشْتَرَى بَعْضُهُ بِبَعْضٍ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَزْنًا بِوَزْنٍ، يَدًا بِيَدٍ، وَلَا بَأْسَ بِهِ وَإِنْ لَمْ يُوزَنْ، إِذَا تَحَرَّى أَنْ يَكُونَ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ گوشت اونٹ کا ہو یا بکری کا یا اور کسی جانور کا، اس کا گوشت، گوشت سے بدلنا درست نہیں، مگر برابر تول کر نقداً نقد، اگر اٹکل سے برابری کرے تو بھی کافی ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1369Q1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 66»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1369Q2
قَالَ مَالِكٌ: وَلَا بَأْسَ بِلَحْمِ الْحِيتَانِ، بِلَحْمِ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ، وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الْوُحُوشِ كُلِّهَا، اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ وَأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ يَدًا بِيَدٍ، فَإِنْ دَخَلَ ذَلِكَ الْأَجَلُ فَلَا خَيْرَ فِيهِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مچھلیوں کا گوشت اگر اونٹ یا گائے یا بکری کے گوشت کے بدلے میں بیچے، کم وبیش تو بھی کچھ قباحت نہیں ہے، مگر یہ ضروری ہے کہ نقداً نقد ہو، میعاد نہ ہو۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1369Q2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 66»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1369Q3
قَالَ مَالِكٌ: وَأَرَى لُحُومَ الطَّيْرِ كُلَّهَا مُخَالِفَةً لِلُحُومِ الْأَنْعَامِ، وَالْحِيتَانِ، فَلَا أَرَى بَأْسًا بِأَنْ يُشْتَرَى بَعْضُ ذَلِكَ بِبَعْضٍ مُتَفَاضِلًا يَدًا بِيَدٍ، وَلَا يُبَاعُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ إِلَى أَجَلٍ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ پرندوں کا گوشت میرے نزدیک چرندوں اور مچھلیوں کے گوشت سے بڑا فرق رکھتا ہے، اگر یہ کم وبیش بیچے جائیں تو کچھ قباحت نہیں ہے، مگر یہ ضروری ہے کہ نقداً نقد ہو، میعاد نہ ہو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1369Q3]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 66»