موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. بَابُ جَامِعِ الْبُيُوعِ
بیع کے مختلف مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 1395
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا بَايَعْتَ، فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ" . قَالَ: فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا بَايَعَ، يَقُولُ: لَا خِلَابَةَ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ مجھ کو لوگ فریب دیتے ہیں خرید وفروخت میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو خرید و فروخت کیا کرے تو کہہ دیا کر کہ فریب نہیں ہے۔“ وہ شخص جب معاملہ کرتا تو یہی کہا کرتا کہ فریب نہیں ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1395]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2117، 2407، 2414، 6964، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1533، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5051، 5052، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2214، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4489، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6032، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3500، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10568، وأحمد فى «مسنده» برقم: 5036، والحميدي فى «مسنده» برقم: 677، والبزار فى «مسنده» برقم: 5957، 5958، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 15337، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 98»
حدیث نمبر: 1396
مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ يَقُولُ: أَحَبَّ اللهُ عَبْدًا، سَمْحًا إِنْ بَاعَ، سَمْحًا إِنِ ابْتَاعَ، سَمْحًا إِنْ قَضَى، سَمْحًا إِنِ اقْتَضَى.
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ محمد بن منکدر کہتے تھے: اللہ اس بندے کو چاہتا ہے جو بیچتے وقت نرمی کرتا ہے، اور خریدتے وقت بھی نرمی کرتا ہے، قرض ادا کرتے وقت بھی نرمی کرتا ہے، اور قرض وصول کرتے وقت بھی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1396]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 99»
حدیث نمبر: 1396B1
قَالَ يَحْيَى: قَالَ مَالِكٌ، فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي الْإِبِلَ أَوِ الْغَنَمَ أَوِ الْبَزَّ أَوِ الرَّقِيقَ، أَوْ شَيْئًا مِنَ الْعُرُوضِ جِزَافًا: إِنَّهُ لَا يَكُونُ الْجِزَافُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يُعَدُّ عَدًّا.
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 99»
حدیث نمبر: 1396B2
قَالَ يَحْيَى: قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يُعْطِي الرَّجُلَ السِّلْعَةَ يَبِيعُهَا لَهُ، وَقَدْ قَوَّمَهَا صَاحِبُهَا قِيمَةً، فَقَالَ: إِنْ بِعْتَهَا بِهَذَا الثَّمَنِ الَّذِي أَمَرْتُكَ بِهِ، فَلَكَ دِينَارٌ، أَوْ شَيْءٌ يُسَمِّيهِ لَهُ، يَتَرَاضَيَانِ عَلَيْهِ، فَإِنْ لَمْ تَبِعْهَا، فَلَيْسَ لَكَ شَيْءٌ: إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ، إِذَا سَمَّى ثَمَنًا يَبِيعُهَا بِهِ، وَسَمَّى أَجْرًا مَعْلُومًا، إِذَا بَاعَ أَخَذَهُ، وَإِنْ لَمْ يَبِعْ فَلَا شَيْءَ لَهُ.
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 99»
حدیث نمبر: 1396B3
قَالَ مَالِكٌ: وَمِثْلُ ذَلِكَ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: إِنْ قَدَرْتَ عَلَى غُلَامِي الْآبِقِ أَوْ جِئْتَ بِجَمَلِي الشَّارِدِ، فَلَكَ كَذَا وَكَذَا، فَهَذَا مِنْ بَابِ الْجُعْلِ، وَلَيْسَ مِنْ بَابِ الْإِجَارَةِ، وَلَوْ كَانَ مِنْ بَابِ الْإِجَارَةِ لَمْ يَصْلُحْ.
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 99»
حدیث نمبر: 1396B4
قَالَ مَالِكٌ: فَأَمَّا الرَّجُلُ يُعْطَى السِّلْعَةَ، فَيُقَالُ لَهُ: بِعْهَا وَلَكَ كَذَا وَكَذَا فِي كُلِّ دِينَارٍ، لِشَيْءٍ يُسَمِّيهِ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ، لِأَنَّهُ كُلَّمَا نَقَصَ دِينَارٌ مِنْ ثَمَنِ السِّلْعَةِ نَقَصَ مِنْ حَقِّهِ الَّذِي سُمِّيَ لَهُ، فَهَذَا غَرَرٌ لَا يَدْرِي كَمْ جَعَلَ لَهُ.
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 99»
حدیث نمبر: 1397
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ، يَقُولُ: " أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا سَمْحًا إِنْ بَاعَ، سَمْحًا إِنِ ابْتَاعَ، سَمْحًا إِنْ قَضَى، سَمْحًا إِنِ اقْتَضَى" . قَالَ مَالِك، فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي الْإِبِلَ أَوِ الْغَنَمَ أَوِ الْبَزَّ أَوِ الرَّقِيقَ أَوْ شَيْئًا مِنَ الْعُرُوضِ جِزَافًا: إِنَّهُ لَا يَكُونُ الْجِزَافُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يُعَدُّ عَدًّا. قَالَ مَالِك، فِي الرَّجُلِ يُعْطِي الرَّجُلَ السِّلْعَةَ يَبِيعُهَا لَهُ وَقَدْ قَوَّمَهَا صَاحِبُهَا قِيمَةً، فَقَالَ: إِنْ بِعْتَهَا بِهَذَا الثَّمَنِ الَّذِي أَمَرْتُكَ بِهِ فَلَكَ دِينَارٌ أَوْ شَيْءٌ يُسَمِّيهِ لَهُ، يَتَرَاضَيَانِ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ تَبِعْهَا فَلَيْسَ لَكَ شَيْءٌ، إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ إِذَا سَمَّى ثَمَنًا يَبِيعُهَا بِهِ، وَسَمَّى أَجْرًا مَعْلُومًا إِذَا بَاعَ أَخَذَهُ وَإِنْ لَمْ يَبِعْ فَلَا شَيْءَ لَهُ. قَالَ مَالِك: وَمِثْلُ ذَلِكَ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: إِنْ قَدَرْتَ عَلَى غُلَامِي الْآبِقِ أَوْ جِئْتَ بِجَمَلِي الشَّارِدِ فَلَكَ كَذَا وَكَذَا، فَهَذَا مِنْ بَاب الْجُعْلِ وَلَيْسَ مِنْ بَاب الْإِجَارَةِ، وَلَوْ كَانَ مِنْ بَاب الْإِجَارَةِ لَمْ يَصْلُحْ. قَالَ مَالِك: فَأَمَّا الرَّجُلُ يُعْطَى السِّلْعَةَ، فَيُقَالُ لَهُ: بِعْهَا وَلَكَ كَذَا وَكَذَا فِي كُلِّ دِينَارٍ لِشَيْءٍ يُسَمِّيهِ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ، لِأَنَّهُ كُلَّمَا نَقَصَ دِينَارٌ مِنْ ثَمَنِ السِّلْعَةِ، نَقَصَ مِنْ حَقِّهِ الَّذِي سَمَّى لَهُ، فَهَذَا غَرَرٌ لَا يَدْرِي كَمْ جَعَلَ لَهُ
حضرت سعید بن مسیّب کہتے تھے: جب تو ایسے ملک میں آئے جہاں کے لوگ پورا پورا ناپتے اور تولتے ہوں تو وہاں زیادہ رہ، جب ایسے ملک میں آئے جہاں کے لوگ ناپ تول میں کمی کر تے ہوں تو وہاں کم رہ۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ کوئی شخص اونٹ، یا بکریاں، یا کپڑا، یا غلام لونڈی بے گنے جھنڈ کے جھنڈ خریدے اچھا نہیں، جو چیزیں گنتی سے بکتی ہیں ان کو گن لینا بہترہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کوئی چیز اپنی کسی کو دے اس شرط پر کہ اگر تو اس کو اس داموں پر بیچ دے گا تو میں تجھ کو ایک دینار دوں گا، اگر نہ بیچے گا تو کچھ نہ ملے گا، اس میں کچھ قباحت نہیں۔ کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: اس کی نظیر یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص سے کہے: اگر تو میرے بھاگے ہوئے غلام کو، یا بھاگے ہوئے اونٹ کو پکڑ لائے گا تو میں اس قدر دوں گا، یہ ایک مزدور کی قسم سے ہے اجارہ نہیں، اگر اجارہ ہوتا تو درست نہ ہوتا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنی چیز کسی کو اس شرط پر دے کہ جتنے دینار کو بیچے گا فی دینار اس قدر دوں، یہ درست نہیں، کیونکہ اس میں اُجرت معین نہیں، معلوم نہیں کہ کتنے دینار میں بکتی ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1397]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ کوئی شخص اونٹ، یا بکریاں، یا کپڑا، یا غلام لونڈی بے گنے جھنڈ کے جھنڈ خریدے اچھا نہیں، جو چیزیں گنتی سے بکتی ہیں ان کو گن لینا بہترہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کوئی چیز اپنی کسی کو دے اس شرط پر کہ اگر تو اس کو اس داموں پر بیچ دے گا تو میں تجھ کو ایک دینار دوں گا، اگر نہ بیچے گا تو کچھ نہ ملے گا، اس میں کچھ قباحت نہیں۔ کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: اس کی نظیر یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص سے کہے: اگر تو میرے بھاگے ہوئے غلام کو، یا بھاگے ہوئے اونٹ کو پکڑ لائے گا تو میں اس قدر دوں گا، یہ ایک مزدور کی قسم سے ہے اجارہ نہیں، اگر اجارہ ہوتا تو درست نہ ہوتا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنی چیز کسی کو اس شرط پر دے کہ جتنے دینار کو بیچے گا فی دینار اس قدر دوں، یہ درست نہیں، کیونکہ اس میں اُجرت معین نہیں، معلوم نہیں کہ کتنے دینار میں بکتی ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1397]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 100»
حدیث نمبر: 1398
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَأَلَهُ" عَنِ الرَّجُلِ يَتَكَارَى الدَّابَّةَ ثُمَ يُكْرِيهَا بِأَكْثَرَ مِمَّا تَكَرَاها بِهِ، فَقَالَ: لا بَأْسَ بِذَلِكَ"
ابن شہاب سے سوال ہوا: کوئی شخص ایک جانور کو لے، پھر دوسرے شخص کو اس سے زیادہ پر کرایہ کو دے؟ انہوں نے کہا: کچھ قباحت نہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1398]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 15039، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 101»