🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بَابُ الْقَضَاءِ فِي شَهَادَةِ الْمَحْدُودِ
جس کو حد قذف پڑی ہو اس کی گواہی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1417
قَالَ يَحْيَى: عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، وَغَيْرِهِ، أَنَّهُمْ سُئِلُوا عَنْ رَجُلٍ جُلِدَ الْحَدَّ، أَتَجُوزُ شَهَادَتُهُ؟ فَقَالُوا:" نَعَمْ، إِذَا ظَهَرَتْ مِنْهُ التَّوْبَةُ"
حضرت سلیمان بن یسار وغیرہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص کو حدِ قذف پڑی، پھر اس کی گواہی درست ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، جب وہ توبہ کر لے، اور اس کی توبہ کی سچائی اس کے اعمال سے معلوم ہو جائے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 1417]
تخریج الحدیث: «مقطوع ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 20556، فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 4ق1»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1418
وَحَدَّثَنِي مَالِك، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ
حضرت ابن شہاب سے بھی یہی سوال ہوا، انہوں نے بھی ایسا ہی کہا جیسا حضرت سلیمان بن یسار نے کہا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 1418]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» تحت الحديث برقم: 20556، فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 4ق2»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1418B1
يُسْأَلُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ. قَالَ مَالِك: وَذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا، وَذَلِكَ لِقَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ {4} إِلا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 4-5. قَالَ مَالِك: فَالْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا، أَنَّ الَّذِي يُجْلَدُ الْحَدَّ ثُمَّ تَابَ وَأَصْلَحَ تَجُوزُ شَهَادَتُهُ، وَهُوَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہی حکم ہے، کیونکہ اللہ جل جلالہُ نے فرمایا: جو لوگ تہمت لگاتے ہیں نیک بخت بیبیوں کو، پھر چار گواہ نہیں لاتے، ان کو اسّی (80) کوڑے مارو، پھر کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو، وہی گنہگار ہیں، مگر جو لوگ توبہ کریں بعد اس کے، اور نیک ہو جائیں، تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: پس جو شخص حدِ قذف لگایا جائے، پھر توبہ کرے اور نیک ہو جائے، اس کی گواہی درست ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 1418B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح:4ق3»