🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

292. مَنْ أَحَبِّ دُنْيَاهُ أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ، وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ
جس نے اپنی دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے اپنی آخرت سے محبت کی اس نے اپنی دنیا کو نقصان پہنچایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 418
418 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ مُلَاقٍ، ثنا خَيْرُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ , عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ، وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ، فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى»
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنی دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے اپنی آخرت سے محبت کی اس نے اپنی دنیا کو نقصان پہنچایا، پس تم باقی رہنے والی (آخرت) کو فنا ہونے والی (دنیا) پر ترجیح دو۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 418]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 709، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7948، 7992، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6612، وأحمد فى «مسنده» برقم: 20010» مطلب بن عبد اللہ بن حنطب کا سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں۔
وضاحت: فائدہ: -
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے دنیا طلب کی اس نے آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے آخرت طلب کی اس نے دنیا کو نقصان پہنچایا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس تم فنا ہونے والی (دنیا) کو باقی رہنے والی (آخرت) کی خاطر نقصان دو۔“ [الزهد لابن ابي عاصم: 161، وسنده حسن]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں