مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
353. مَنْ مَشَى إِلَى طَعَامٍ لَمْ يَدَعَ إِلَيْهِ فَقَدْ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِيرًا
جو شخص کسی دعوت طعام کی طرف چلا حالانکہ اسے اس کی طرف بلایا نہیں گیا تھا تو بے شک وہ چور بن کر داخل ہوا اور لٹیرا بن کر باہر آیا
حدیث نمبر: 527
527 - أَخْبَرَنَا أَبُو ذَرٍّ عَبْدُ بْنُ أَحْمَدَ الْهَرَوِيُّ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الشِّيرَازِيُّ، عَنِ ابْنِ خَلَّادٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ أَحْمَدَ الْبَصْرِيِّ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيِّ، ثنا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ مَشَى إِلَى طَعَامٍ لَمْ يُدْعَ إِلَيْهِ فَقَدْ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِيرًا»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی دعوت طعام کی طرف چلا حالانکہ اسے اس کی طرف بلایا نہیں گیا تھا تو بے شک وہ چور بن کر داخل ہوا اور لٹیرا بن کر باہر آیا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 527]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، ابان بن طارق مجہول اور درست بن زیادہ ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 528
528 - أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ الْحَمَامِيِّ إِجَازَةً كَتَبَ إِلَيَّ بِهَا مِنْ بَغْدَادَ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدُ، ثنا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ طَارِقٍ قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ دُعِيَ فَلَمْ يُجِبْ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَى غَيْرِ دَعْوَةٍ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِيرًا»
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو دعوت دی گئی لیکن اس نے اسے قبول نہ کیا تو بے شک اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی اور جو شخص بن بلائے کسی دعوت میں گیا تو وہ چور بن کر داخل ہوا اور لٹیرا بن کر باہر آیا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 528]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود: 3741» ابان بن طارق مجہول اور درست بھی زیاد ضعيف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 529
529 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الشِّيرَازِيُّ، قَدِمَ عَلَيْنَا بِمِصْرَ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحَسَنِ الْبَكَّارِيُّ، ثنا الْقَاضِي أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَلَّادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَهْدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ثنا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ دَخَلَ دَارَ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِيرًا»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر داخل ہوا تو وہ (ان کے گھر میں) چور بن کر داخل ہوا اور لٹیرا بن کر باہر آیا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 529]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، ابان بن طارق مجہول اور درست بن زیادہ ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعیف