🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

512. مَا نُزِعَتِ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ
رحمت کسی بد بخت ہی سے چھینی جاتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 772
772 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، أبنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ بُنْدَارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الدَّقَّاقُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا نُزِعَتِ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رحمت کسی بدبخت ہی سے چھینی جاتی ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 772]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 462، 466، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7727، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4942، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1923، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16740، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8116»
وضاحت: تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ صفت رحمت سے وہی لوگ متصف ہوتے ہیں جو اپنا دامن گناہوں سے محفوظ رکھیں، اللہ تعالیٰ ٰ ایسے لوگوں کے دل نرم فرما دیتا ہے لہٰذا وہ اس کی مخلوق پر رحم کرنے لگتے ہیں جبکہ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو گناہوں کی دلدل میں پھنسے ہوں، ان کے دل سے رحمت کا مادہ چھین لیا جاتا ہے۔ شقاوت اور بدبختی ان کا مقدر بن جاتی ہے لہٰذا وہ رحم سے دور ہو جاتے ہیں، ان کے اندر سے وہ جذ بہ ختم بلکہ مر جاتا ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ ٰ کی مخلوق پر رحم اور شفقت کرنے پر مائل کرتا ہے گویا دل کا سخت ہوتا بدبختی اور دل کا نرم ہونا نیک بختی کی علامت ہے

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں