صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا ”میرے بعد ایک دوسرے کی گردن مار کر کافر نہ بن جانا“۔
حدیث نمبر: 7076
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ".
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے بیان کیا، کہا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس کو قتل کرنا کفر ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7076]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کو گالی دینا گناہ اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7076]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7077
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا مجھ کو واقد نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7077]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگ جاؤ۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7077]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7078
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، وَعَنْ رَجُلٍ آخَرَ هُوَ أَفْضَلُ فِي نَفْسِي مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: أَلَا تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، فَقَالَ: أَلَيْسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ؟، قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ أَلَيْسَتْ بِالْبَلْدَةِ الْحَرَامِ؟، قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ، وَأَعْرَاضَكُمْ، وَأَبْشَارَكُمْ، عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟، قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَإِنَّهُ رُبَّ مُبَلِّغٍ يُبَلِّغُهُ لِمَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ فَكَانَ كَذَلِكَ، قَالَ: لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ حُرِّقَ ابْنُ الْحَضْرَمِيِّ حِينَ حَرَّقَهُ جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: أَشْرِفُوا عَلَى أَبِي بَكْرَةَ، فَقَالُوا: هَذَا أَبُو بَكْرَةَ يَرَاكَ، قَالَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَحَدَّثَتْنِي أُمِّي، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: لَوْ دَخَلُوا عَلَيَّ مَا بَهَشْتُ بِقَصَبَةٍ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن سیرین نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے بیان کیا اور ایک دوسرے شخص (حمید بن عبدالرحمٰن) سے بھی سنا جو میری نظر میں عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے اچھے ہیں اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یوم النحر کو خطبہ دیا اور فرمایا ”تمہیں معلوم ہے یہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ بیان کیا کہ (اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی سے) ہم یہ سمجھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا یہ قربانی کا دن (یوم النحر) نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ نے پھر پوچھا ”یہ کون سا شہر ہے؟ کیا یہ البلدہ (مکہ مکرمہ) نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر تمہارا خون، تمہارے مال، تمہاری عزت اور تمہاری کھال تم پر اسی طرح حرمت والے ہیں جس طرح اس دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے۔ کیا میں نے پہنچا دیا؟“ ہم نے کہا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! گواہ رہنا۔ پس میرا یہ پیغام موجود لوگ غیر موجود لوگوں کو پہنچا دیں کیونکہ بہت سے پہنچانے والے اس پیغام کو اس تک پہنچائیں گے جو اس کو زیادہ محفوظ رکھنے والا ہو گا۔“ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ بعض بعض کی گردن مارنے لگو۔“ پھر جب وہ دن آیا جب عبداللہ عمرو بن حضرمی کو جاریہ بن قدامہ نے ایک مکان میں گھیر کر جلا دیا تو جاریہ نے اپنے لشکر والوں سے کہا زرا ابوبکرہ کو تو جھانکو وہ کس خیال میں ہے۔ انہوں نے کہا یہ ابوبکرہ موجود ہیں تم کو دیکھ رہے ہیں۔ عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے ہیں مجھ سے میری والدہ ہالہ بنت غلیظ نے کہا کہ ابوبکرہ نے کہا اگر یہ لوگ (تین جاریہ کے لشکر والے) میرے گھر میں بھی گھس آئیں اور مجھ کو مارنے لگیں تو میں ان پر ایک بانس کی چھڑی بھی نہیں چلاؤں گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7078]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ آج کون سا دن ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ”اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔“ ہم نے سمجھا شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ قربانی کا دن نہیں؟“ ہم نے کہا: ”اللہ کے رسول! کیوں نہیں!“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون سا شہر ہے؟ کیا یہ حرمت والا شہر نہیں؟“ ہم نے کہا: ”اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک تمہارے خون، تمہارے مال، تمہاری عزت اور تمہارے بدن تم پر حرام ہیں جس طرح اس دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے۔ خبردار! کیا میں نے اللہ کا حکم پہنچا دیا ہے؟“ ہم نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ» ”اے اللہ! تو گواہ رہنا۔ یہاں موجود لوگ میرا یہ پیغام غیر لوگوں کو پہنچا دیں کیونکہ بسا اوقات سننے والے سے وہ شخص زیادہ یاد رکھتا ہے جسے حکم پہنچایا جائے۔“ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“ پھر جب وہ دن آیا جب حضرت عبداللہ بن عمرو بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو جلا دیا گیا تھا، انہیں جاریہ بن قدامہ نے جلا دیا تو اس (جاریہ) نے کہا: ”ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھو (وہ کس خیال میں ہے؟)“ لوگوں نے کہا: ”یہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہے: اگر وہ لوگ (جاریہ کے لشکر والے) میرے گھر میں گھس آئیں تو میں انہیں بانس کی چھڑی بھی نہ ماروں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7078]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7079
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِشْكَابٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَال: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَرْتَدُّوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
ہم سے احمد بن اشکاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم میں بعض بعض کی گردن مارنے لگے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7079]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میرے بعد الٹے پاؤں پھر کر کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7079]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7080
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَدِّهِ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:" اسْتَنْصِتِ النَّاسَ، ثُمَّ قَالَ: لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے علی بن مدرک نے بیان کیا، کہا میں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے سنا، ان سے ان کے دادا جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا کہ لوگوں کو خاموش کر دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن مارنے لگ جاؤ۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7080]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ”لوگوں کو خاموش کراؤ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7080]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة