مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
795. أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيِّنِ
افضل صدقہ آپس کے تعلقات کو درست رکھنا ہے
حدیث نمبر: 1280
1280 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ الْخَطِيبُ، أبنا أَبُو أَحْمَدَ الْقَيْسَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْخَرَائِطِيُّ، ثنا عَبَّاسٌ التَّرْقُفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيِّنِ»
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افضل صدقہ آپس کے تعلقات کو درست رکھنا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1280]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه عبد بن حميد: 335، مكارم الاخلاق للخرائطى: 445»
عبدالرحمٰن بن زیاد ضعیف ہے۔
عبدالرحمٰن بن زیاد ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1281
1281 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَعْرَابِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، ثنا الْإِفْرِيقِيُّ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ الشَّعْبَانِيُّ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيِّنِ»
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک افضل صدقہ آپس کے تعلقات کو درست رکھنا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1281]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه عبد بن حميد: 335، مكارم الاخلاق للخرائطى: 445»
عبدالرحمٰن بن زیاد ضعیف ہے۔
عبدالرحمٰن بن زیاد ضعیف ہے۔
وضاحت: فائدہ: -
سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: کیا میں تمہیں بہت زیادہ نمازوں اور صدقے سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں (بتائیں)۔ فرمایا: وہ آپس کے تعلقات کو درست رکھنا ہے اور تم بغض سے بچو کیونکہ یہ نیکیوں کو مونڈ دینے والی چیز ہے۔ [السوط الامام مالك: 1976، وسنده صحيح]
سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: کیا میں تمہیں بہت زیادہ نمازوں اور صدقے سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں (بتائیں)۔ فرمایا: وہ آپس کے تعلقات کو درست رکھنا ہے اور تم بغض سے بچو کیونکہ یہ نیکیوں کو مونڈ دینے والی چیز ہے۔ [السوط الامام مالك: 1976، وسنده صحيح]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف