🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: «إِنَّ ابْنِي هَذَا لَسَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمانا ”میرا یہ بیٹا سردار ہے اور یقیناً اللہ پاک اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7109
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ أَبُو مُوسَى، وَلَقِيتُهُ بِالْكُوفَةِ وَجَاءَ إِلَى ابْنِ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ: أَدْخِلْنِي عَلَى عِيسَى فَأَعِظَهُ، فَكَأَنَّ ابْنَ شُبْرُمَةَ خَافَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَفْعَلْ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، قَالَ: لَمَّا سَارَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالْكَتَائِبِ، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِمُعَاوِيَةَ: أَرَى كَتِيبَةً لَا تُوَلِّي حَتَّى تُدْبِرَ أُخْرَاهَا، قَالَ مُعَاوِيَةُ: مَنْ لِذَرَارِيِّ الْمُسْلِمِينَ؟، فَقَالَ: أَنَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ: نَلْقَاهُ، فَنَقُولُ لَهُ: الصُّلْحَ، قَالَ الْحَسَنُ: وَلَقَدْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ، قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَخْطُبُ جَاءَ الْحَسَنُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل ابوموسیٰ نے بیان کیا اور میری ان سے ملاقات کوفہ میں ہوئی تھی۔ وہ ابن شبرمہ کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے عیسیٰ (منصور کے بھائی اور کوفہ کے والی) کے پاس لے چلو تاکہ میں اسے نصیحت کروں۔ غالباً ابن شبرمہ نے خوف محسوس کیا اور نہیں لے گئے۔ انہوں نے اس پر بیان کیا کہ ہم سے حسن بصری نے بیان کیا کہ جب حسن بن علی، امیر معاویہ رضی اللہ عنہم کے خلاف لشکر لے کر نکلے تو عمرو بن العاص نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں ایسا لشکر دیکھتا ہوں جو اس وقت تک واپس نہیں جا سکتا جب تک اپنے مقابل کو بھگا نہ لے۔ پھر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مسلمانوں کے اہل و عیال کا کون کفیل ہو گا؟ جواب دیا کہ میں، پھر عبداللہ بن عامر اور عبدالرحمٰن بن سمرہ نے کہا کہ ہم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے ملتے ہیں (اور ان سے صلح کے لیے کہتے ہیں)، حسن بصری نے کہا کہ میں نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ حسن رضی اللہ عنہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سید ہے اور امید ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرا دے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7109]
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اپنے لشکر لے کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف لڑنے کے لیے نکلے تو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں ایسا لشکر دیکھ رہا ہوں جو واپس نہیں ہو گا یہاں تک کہ اپنے مقابل کو بھگا نہ دے۔ اس پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسے حالات میں مسلمانوں کے اہل و عیال کی کون کفالت کرے گا؟ انہوں نے کہا: ان کی کفالت میں کروں گا۔ پھر حضرت عبداللہ بن عامر اور حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات کرتے ہیں اور انہیں صلح پر آمادہ کرتے ہیں۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: میں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک یہ میرا بیٹا سید ہے اور یقیناً اللہ تعالیٰ اس کے سبب مسلمانوں کے دو بڑے لشکروں کے درمیان صلح کرا دے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7109]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7110
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: قَالَ عَمْرٌو، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، أَنَّ حَرْمَلَةَ مَوْلَى أُسَامَةَ أَخْبَرَهُ، قَالَ عَمْرٌو: قَدْ رَأَيْتُ حَرْمَلَةَ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أُسَامَةُ إِلَى عَلِيٍّ، وَقَالَ: إِنَّهُ سَيَسْأَلُكَ الْآنَ، فَيَقُولُ: مَا خَلَّفَ صَاحِبَكَ، فَقُلْ لَهُ: يَقُولُ لَكَ: لَوْ كُنْتَ فِي شِدْقِ الْأَسَدِ لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ مَعَكَ فِيهِ، وَلَكِنَّ هَذَا أَمْرٌ لَمْ أَرَهُ، فَلَمْ يُعْطِنِي شَيْئًا، فَذَهَبْتُ إِلَى حَسَنٍ، وَحُسَيْنٍ، وَابْنِ جَعْفَرٍ فَأَوْقَرُوا لِي رَاحِلَتِي.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، کہا کہ عمرو نے بیان کیا، انہیں محمد بن علی نے خبر دی، انہیں اسامہ رضی اللہ عنہ کے غلام حرملہ نے خبر دی، عمرو نے بیان کیا کہ میں نے حرملہ کو دیکھا تھا۔ حرملہ نے بیان کیا کہ مجھے اسامہ نے علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور مجھ سے کہا، اس وقت تم سے علی رضی اللہ عنہ پوچھیں گے کہ تمہارے ساتھی (اسامہ رضی اللہ عنہ) جنگ جمل و صفین سے کیوں پیچھے رہ گئے تھے تو ان سے کہنا کہ انہوں نے آپ سے کہا ہے کہ اگر آپ شیر کے منہ میں ہوں تب بھی میں اس میں بھی آپ کے ساتھ رہوں لیکن یہ معاملہ ہی ایسا ہے یعنی مسلمانوں کی آپس کی جنگ تو (اس میں شرکت صحیح) نہیں معلوم ہوئی (حرملہ کہتے ہیں کہ) چنانچہ انہوں نے کوئی چیز نہیں دی۔ پھر میں حسن، حسین اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم کے پاس گیا تو انہوں نے میری سواری پر اتنا مال لدوا دیا جتنا کہ اونٹ اٹھا نہ سکتا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7110]
حضرت حرملہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور فرمایا: حضرت علی رضی اللہ عنہ تم سے میرے متعلق ضرور پوچھیں گے کہ تیرا ساتھی کیوں پیچھے رہا ہے؟ تو انہیں کہنا: اسامہ آپ کے متعلق کہتے ہیں: اگر آپ شیر کی ڈاڑھوں میں پھنسے ہوتے تو ضرور میں آپ کی رفاقت کو پسند کرتا لیکن مسلمانوں کے باہمی جنگ و قتال کو میں پسند نہیں کرتا۔ حضرت حرملہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھے کچھ نہ دیا۔ پھر میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے ساز و سامان سے میری سواری خوب لدوا دی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7110]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں