صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
57. (57) بَابُ الْأَمْرِ بِالِاسْتِطَابَةِ بِالْأَحْجَارِ،
پتھروں (ڈھیلوں) سے استنجا کرنے کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: Q74
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الِاسْتِطَابَةَ بِالْأَحْجَارِ يُجْزِي دُونَ الْمَاءِ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ پانی استعمال کیے بغیر صرف ڈھیلوں سے استنجا کرنا بھی کافی ہے. [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْأَحْجَارِ/حدیث: Q74]
حدیث نمبر: 74
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ لَهُ بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانُوا يَسْتَهْزِئُونَ بِهِ: إِنِّي أَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى الْخِرَاءَةَ، قَالَ سَلْمَانُ :" أَجَلْ أُمِرْنَا أَنْ لا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، وَلا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا، وَلا نَكْتَفِيَ بِدُونِ ثَلاثَةِ أَحْجَارٍ، لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ وَلا عَظْمٌ" . غَيْرُ أَنَّ الدَّوْرَقِيَّ، قَالَ: قَالَ بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ لِسَلْمَانَ
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اُن سے کسی مُشرک نے کہا، اور مُشرک ان سے مذاق کیا کرتے تھے، میں تمہارے ساتھی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھتا ہوں کہ وہ تمہیں (ہر چیز) سکھاتے ہیں حتیٰ کہ قضائےحاجت کا طریقہ کار بھی۔ سیدنا سلمان نے فرمایا کہ جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حُکم دیا ہے کہ (قضائے حاجت کرتے وقت) ہم قبلہ کی طرف مُنہ نہ کریں، نہ اپنے دائیں ہا تھ سے استنجا کر یں،اور نہ تین ڈھیلوں سے کم پر اکتفا کر یں، اُن میں گوبر اور ہڈی نہ ہو۔ دورقی کی روا یت میں الفاظ اس طرح ہیں «قَالَ بَعضُ المُشرِکِینَ لِسَلمَانَ» ”کسی مشرک نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے کہا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْأَحْجَارِ/حدیث: 74]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 262، وابن الجارود فى "المنتقى"، 32، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 74، 81، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 41، وأبو داود فى (سننه) برقم: 7، والترمذي فى (جامعه) برقم: 16، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 316، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 433، والدارقطني فى (سننه) برقم: 144، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24199»