صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
154. (153) بَابُ ذِكْرِ أَخْبَارٍ رُوِيَتْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْحِ عَلَى النَّعْلَيْنِ مُجْمَلَةً،
جوتوں پر مسح کرنے کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی مجمل روایات کا بیان
حدیث نمبر: Q199
غَلِطَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهَا بَعْضُ مَنْ أَجَازَ الْمَسْحَ عَلَى النَّعْلَيْنِ فِي الْوُضُوءِ الْوَاجِبِ مِنَ الْحَدَثِ.
ان سے دلیل لینے میں ان علماء سے غلطی ہوئی ہے جنہوں نے حدث سے واجب ہونے والے وضو میں جوتوں پر مسح کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ/حدیث: Q199]
حدیث نمبر: 199
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نا سُفْيَانُ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قِيلَ لابْنِ عُمَرَ : رَأَيْنَاكَ تَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ نَرَ أَحَدًا يَفْعَلُهُ غَيْرَكَ، قَالَ:" وَمَا هُوَ؟" قَالُوا: رَأَيْنَاكَ تَلْبَسُ هَذِهِ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، قَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، وَيَمْسَحُ عَلَيْهَا" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَوْسِ بْنِ أَوْسٍ مِنْ هَذَا الْبَابِ
حضرت عبید بن جریج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کی گئی، ہم نے آپ کو ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ آپ کے علاوہ کسی اور کو کرتے ہوئے ہم نے نہیں دیکھا، اُنہوں نے پوچھا کہ وہ کیا ہے؟ اُنہوں نے عرض کی کہ ہم نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ یہ سبتی جوتے پہنتے ہیں۔ اُنہوں نے فرمایا کہ بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ جوتے پہنتے ہوئے اُن میں وضو کرتے ہوئے اور اُس پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس اور اوس بن اوس رضی اللہ عنہم کی حدیث اسی باب سے ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ/حدیث: 199]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 166، 1606، 1609، 5851، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1187، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1195، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 199، 2696، 2725، 2729، 2730، 2753، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3697، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1805، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 117، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1772، 1874، 1876، والترمذي فى (جامعه) برقم: 959، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1880، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2946، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1383، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2581، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4548»