صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. بَابُ كِتَابِ الْحَاكِمِ إِلَى عُمَّالِهِ، وَالْقَاضِي إِلَى أُمَنَائِهِ:
باب: امام کا اپنے نائبوں کو اور قاضی کا اپنے عملہ کو لکھنا۔
حدیث نمبر: 7192
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي لَيْلَى. ح حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ هُوَ وَرِجَالٌ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ،" أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ، فَأُخْبِرَ مُحَيِّصَةُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ، فَأَتَى يَهُودَ، فَقَالَ: أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ، قَالُوا: مَا قَتَلْنَاهُ وَاللَّهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ لَهُمْ، وَأَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ، وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، فَذَهَبَ لِيَتَكَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ: كَبِّرْ كَبِّرْ، يُرِيدُ السِّنَّ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ، وَإِمَّا أَنْ يُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ، فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ بِهِ، فَكُتِبَ مَا قَتَلْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ، وَمُحَيِّصَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ؟، قَالُوا: لَا، قَالَ: أَفَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ؟، قَالُوا: لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ مِائَةَ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتِ الدَّارَ"، قَالَ سَهْلٌ: فَرَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن ابی لیلیٰ نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابولیلیٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن سہل نے، ان سے سہل بن ابی حثمہ نے، انہیں سہل اور ان کی قوم کے بعض دوسرے ذمہ داروں نے خبر دی کہ عبداللہ، سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہم خیبر کی طرف (کھجور لینے کے لیے) گئے۔ کیونکہ تنگ دستی میں مبتلا تھے۔ پھر محیصہ کو بتایا گیا کہ عبداللہ کو کسی نے قتل کر کے گڑھے یا کنویں میں ڈال دیا ہے۔ پھر وہ یہودیوں کے پاس گئے اور کہا کہ واللہ! تم نے ہی قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: واللہ! ہم نے انہیں نہیں قتل کیا۔ پھر وہ واپس آئے اور اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے ذکر کیا۔ اس کے بعد وہ اور ان کے بھائی حویصہ جو ان سے بڑے تھے اور عبدالرحمٰن بن سہل رضی اللہ عنہ آئے، پھر محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات کرنی چاہی کیونکہ آپ ہی خیبر میں موجود تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ بڑے کو آگے کرو، بڑے کو آپ کی مراد عمر کی بڑائی تھی۔ چنانچہ حویصہ نے بات کی، پھر محیصہ نے بھی بات کی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی تمہارے ساتھی کی دیت ادا کریں ورنہ لڑائی کے لیے تیار ہو جائیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس مقدمہ میں لکھا۔ انہوں نے جواب میں یہ لکھا کہ ہم نے انہیں نہیں قتل کیا ہے۔ پھر آپ نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا آپ لوگ قسم کھا کر اپنے شہید ساتھی کے خون کے مستحق ہو سکتے ہیں؟ ان لوگوں نے کہا کہ نہیں (کیونکہ جرم کرتے دیکھا نہیں تھا) پھر آپ نے فرمایا، کیا آپ لوگوں کے بجائے یہودی قسم کھائیں (کہ انہوں نے قتل نہیں کیا ہے)؟ انہوں نے کہا کہ وہ مسلمان نہیں ہیں اور وہ جھوٹی قسم کھا سکتے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے سو اونٹوں کی دیت ادا کی اور وہ اونٹ گھر میں لائے گئے۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات ماری۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7192]
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ اور ان کی قوم کے بڑے بڑے فضلاء سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما خیبر کی طرف گئے کیونکہ وہ ان دونوں تنگ دستی میں مبتلا تھے۔ محیصہ رضی اللہ عنہ کو بتایا گیا کہ عبداللہ کو قتل کر کے گڑھے یا پانی کے چشمے میں پھینک دیا گیا ہے۔ وہ یہودیوں کے پاس گئے اور کہا: ”اللہ کی قسم! تم نے عبداللہ کو قتل کیا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔“ پھر وہ واپس اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے اس بات کا ذکر کیا۔ اس کے بعد وہ، ان کے بڑے بھائی حویصہ اور عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہم آئے۔ محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات کرنا چاہی کیونکہ وہی خیبر میں موجود تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: «كَبِّرِ الْكُبْرَ» ”بڑے کو آگے کرو۔“ یعنی جو عمر میں تم سے بڑا ہے، چنانچہ حویصہ رضی اللہ عنہ نے بات کا آغاز کیا، پھر محیصہ رضی اللہ عنہ نے بھی گفتگو کی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے متعلق فرمایا: ”وہ تمہارے ساتھی کی دیت ادا کریں یا لڑائی کے لیے تیار ہو جائیں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف اس مضمون کا خط بھیجا تو انہوں نے جواب میں یہ لکھا: ”ہم نے اسے قتل نہیں کیا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمن رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”کیا تم قسمیں اٹھاتے ہو تاکہ تم اپنے ساتھی کی دیت کے حق دار بن سکو؟“ انہوں نے کہا: ”ہم قسم نہیں اٹھائیں گے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا آپ لوگوں کے لیے یہودی قسم اٹھائیں؟“ انہوں نے کہا: ”وہ تو مسلمان نہیں ہیں۔“ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے سو اونٹ بطور دیت ادا کر دیے، چنانچہ ان کو حویلی میں داخل کر دیا گیا۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ان میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7192]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة