صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. بَابُ بَيْعَةِ الأَعْرَابِ:
باب: دیہاتیوں کا اسلام اور جہاد پر بیعت کرنا۔
حدیث نمبر: 7209
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَأَصَابَهُ وَعْكٌ، فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى، ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى، فَخَرَجَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طِيبُهَا".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے، ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ ایک دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی پھر اسے بخار ہو گیا تو اس نے کہا کہ میری بیعت فسخ کر دیجئیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت فسخ کر دیجئیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا آخر وہ (خود ہی مدینہ سے) چلا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے اپنی میل کچیل دور کر دیتا ہے اور صاف مال کو رکھ لیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7209]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، پھر اسے بخار ہو گیا تو اس نے کہا: ”میری بیعت مجھے واپس کر دیں۔“ یعنی فسخ کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا۔ وہ پھر آیا اور کہا: ”میری بیعت مجھے واپس کر دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی انکار کر دیا۔ آخر وہ خود ہی (مدینہ طیبہ سے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ طیبہ بھٹی کی طرح ہے، یہ میل کچیل دور کر دیتا ہے اور خالص کو رکھ لیتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7209]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة