🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. بَابُ مَنْ بَايَعَ ثُمَّ اسْتَقَالَ الْبَيْعَةَ:
باب: بیعت کرنے کے بعد اس کا فسخ کرانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7211
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،" أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَع رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ، فَأَتَى الْأَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى، ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى، فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طِيبُهَا".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں محمد بن منکدر نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی پھر اسے مدینہ میں بخار ہو گیا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ! میری بیعت فسخ کر دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا پھر وہ دوبارہ آیا اور کہا کہ میری بیعت فسخ کر دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی انکار کیا پھر وہ آیا اور بیعت فسخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی انکار کیا۔ اس کے بعد وہ خود ہی (مدینہ سے) چلا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے اپنی میل کچیل کو دور کر دیتا ہے اور خالص مال رکھ لیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7211]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر قائم رہنے کی بیعت کی۔ پھر اسے مدینہ طیبہ میں سخت بخار آگیا تو وہ دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میری بیعت ختم کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا۔ وہ پھر آیا اور کہنے لگا: میری بیعت واپس لے لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی انکار کر دیا۔ پھر وہ آخر خود باہر نکل گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ بھٹی کی مانند ہے، میل کچیل کو دور کر دیتا ہے اور خالص مال کو رکھ لیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7211]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں