صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
نماز کے ناپسندیدہ ہونے کا بیان جبکہ نمازی کے سامنے تصاویر والے کپڑے ہوں۔
حدیث نمبر: 844
نَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُ كَانَ لَهَا ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ مَمْدُودَةٌ إِلَى سَهْوَةٍ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهِ، فَقَالَ:" أَخِّرِيهِ عَنِّي، فَأَخَذَتْهُ، فَجَعَلَتْهُ وَسَائِدَ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ اُن کے پاس تصویروں والا کپڑا تھا جو دریچے پر پھیلا ہوا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے سُترہ بنا کرنماز پڑھا کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کپڑا مجھ سے دور کردو، لہٰذا میں نے اُسکے تکیے بنا لئے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي/حدیث: 844]
تخریج الحدیث: صحيح مسلم