صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
623. (390) بَابُ إِبَاحَةِ تَرْكِ الْأَذَانِ لِلصَّلَاةِ إِذَا فَاتَ وَقْتُهَا وَإِنْ صُلِّيَتْ جَمَاعَةً
جب نماز کا وقت فوت ہوجائے تو اس کے لئے اذان نہ کہنا جائز ہے اگرچہ نماز باجماعت ادا کی جائے
حدیث نمبر: 974
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ، حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الصَّلَاةِ، حَتَّى كَانَ هَوِيٌّ مِنَ اللَّيْلِ قَدْ خَرَّجْتُهُ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ، وَفِي الْخَبَرِ أَنَّهُ أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ، ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَقَامَ الْعِشَاءَ.
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس بارے میں عبدالرحمن بن ابی سعید خدری کی اپنے والد گرامی سے یہ روایت ہے کہ ہمیں خندق والے دن نماز سے روک دیا گیا حتیٰ کہ رات ہو گئی ـ میں نے یہ حدیث ایک اور مقام پر بیان کر دی ہے۔ (دیکھیے حدیث نمبر 996) - اور اس حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حُکم دیا تو اُنہوں نے نماز ظہر کی اقامت کہی (وہ ادا کی گئی) پھر اُنہوں نے عصر کی اقامت کہی (تو وہ پڑھی گئی) پھر اُنہوں نے مغرب کی اقامت کہی، پھر اُنہوں نے عشاء کی اقامت کہی (تو وہ ادا کی گئی) ـ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْفَرِيضَةِ فِي السَّفَرِ/حدیث: 974]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 974، 996، 1703، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2890، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 660، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1922، 6086، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11368»