صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابُ نَهْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى التَّحْرِيمِ إِلاَّ مَا تُعْرَفُ إِبَاحَتُهُ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے لوگوں کو منع کریں تو وہ حرام ہو گا مگر یہ کہ اس کی اباحت دلائل سے معلوم ہو جائے۔
حدیث نمبر: Q7367
وَكَذَلِكَ أَمْرُهُ نَحْوَ قَوْلِهِ حِينَ أَحَلُّوا أَصِيبُوا مِنَ النِّسَاءِ، وَقَالَ جَابِرٌ وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ وَلَكِنْ أَحَلَّهُنَّ لَهُمْ، وَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا.
اسی طرح آپ جس کام کا حکم کریں۔ مثلاً جب لوگ حج سے فارغ ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ اپنی بیویوں کے پاس جاؤ۔ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ صحابہ پر آپ نے اس کا کرنا ضروری نہیں قرار دیا بلکہ صرف اسے حلال کیا تھا۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ہمیں جنازے کے ساتھ چلنے سے منع کیا گیا ہے لیکن حرام نہیں ہوا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ/حدیث: Q7367]
حدیث نمبر: 7367
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ عَطَاءٌ، قَالَ جَابِرٌ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ البُرْسَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فِي أُنَاسٍ مَعَهُ، قَالَ:" أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ عُمْرَةٌ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحِلَّ، وَقَالَ: أَحِلُّوا وَأَصِيبُوا مِنَ النِّسَاءِ، قَالَ عَطَاءٌ، قَالَ جَابِرٌ: وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ وَلَكِنْ أَحَلَّهُنَّ لَهُمْ، فَبَلَغَهُ أَنَّا نَقُولُ: لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْن عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ إِلَى نِسَائِنَا، فَنَأْتِي عَرَفَةَ تَقْطُرُ مَذَاكِيرُنَا الْمَذْيَ، قَالَ: وَيَقُولُ جَابِرٌ بِيَدِهِ هَكَذَا وَحَرَّكَهَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ، وَأَصْدَقُكُمْ وَأَبَرُّكُمْ، وَلَوْلَا هَدْيِي لَحَلَلْتُ كَمَا تَحِلُّونَ، فَحِلُّوا، فَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ، فَحَلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا".
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے عطاء نے بیان کیا، ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے (دوسری سند) امام ابوعبداللہ بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ محمد بن بکر برقی نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عطاء نے خبر دی، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، اس وقت اور لوگ بھی ان کے ساتھ تھے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خالص حج کا احرام باندھا اس کے ساتھ عمرہ کا نہیں باندھا۔ عطاء نے بیان کیا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم 4 ذی الحجہ کی صبح کو آئے اور جب ہم بھی حاضر ہوئے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم حلال ہو جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حلال ہو جاؤ اور اپنی بیویوں کے پاس جاؤ۔ عطاء نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ ان پر یہ ضروری نہیں قرار دیا بلکہ صرف حلال کیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ ہم میں یہ بات ہو رہی ہے کہ عرفہ پہنچنے میں صرف پانچ دن رہ گئے ہیں اور پھر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنی عورتوں کے پاس جانے کا حکم دیا ہے، کیا ہم عرفات اس حالت میں جائیں کہ مذی یا منی ہمارے ذکر سے ٹپک رہی ہو۔ عطاء نے کہا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اس طرح مذی ٹپک رہی ہو، اس کو ہلایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا، تمہیں معلوم ہے کہ میں تم میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں، تم میں سب سے زیادہ سچا ہوں اور سب سے زیادہ نیک ہوں اور اگر میرے پاس ہدی (قربانی کا جانور) نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہو جاتا، پس تم بھی حلال ہو جاؤ۔ اگر مجھے وہ بات پہلے سے معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا۔ چنانچہ ہم حلال ہو گئے اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی اور آپ کی اطاعت کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ/حدیث: 7367]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نے صرف حج کا احرام باندھا، اس کے ساتھ عمرے کی نیت نہ تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کی چار تاریخ کو مکہ مکرمہ تشریف لائے تو ہمیں آپ نے حکم دیا کہ ہم حج کا احرام کھول دیں اور فرمایا: ”تم حج کا احرام کھول دو اور اپنی بیویوں کے پاس جاؤ۔““ حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ نے بیویوں سے جماع کرنا ان پر واجب نہیں کیا تھا صرف عورتوں کو ان پر حلال کیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ ہم لوگ کہتے ہیں: ”جب ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن باقی رہ گئے ہیں تو آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اپنی عورتوں کے پاس جائیں اس حالت میں جب ہم عرفہ جائیں گے تو ہماری شرم گاہوں سے منی ٹپک رہی ہوگی۔““ حضرت جابر رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے تھے اور اسے حرکت دیتے تھے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”تمہیں معلوم ہے کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ سچا اور نیک ہوں۔ اگر میرے پاس قربانی نہ ہوتی تو میں بھی احرام کھول دیتا جیسا کہ تم نے کھول دیے ہیں، لہذا تم مکمل طور پر حلال ہو جاؤ۔ اگر مجھے وہ بات پہلے معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی ہے تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا۔“ پھر ہم احرام کھول کر (پوری طرح) حلال ہوگئے، ہم نے آپ کی بات سنی اور آپ کی اطاعت کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ/حدیث: 7367]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7368
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ الْحُسَيْنِ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" صَلُّوا قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، قَالَ: فِي الثَّالِثَةِ لِمَنْ شَاءَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةً".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے حسین بن ذکوان معلم نے، ان سے عبیداللہ بن بریدہ نے، کہا مجھ سے عبداللہ بن مغفل مزنی نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مغرب کی نماز سے پہلے بھی نماز پڑھو اور تیسری مرتبہ میں فرمایا کہ جس کا جی چاہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند نہیں کرتے تھے کہ اسے لوگ لازمی سنت بنا لیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ/حدیث: 7368]
حضرت عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”نماز مغرب سے پہلے نماز پڑھو۔“ تیسری مرتبہ فرمایا: ”یہ اس کے لیے جو پڑھنا چاہے۔“ کیونکہ آپ اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ لوگ اسے لازمی سنت بنا لیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ/حدیث: 7368]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة