🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

912. (679) بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الدَّالِّ عَلَى أَنَّ تَرْكَ الْأَكْلِ يَوْمَ النَّحْرِ حَتَّى يَذْبَحَ الْمَرْءُ فَضِيلَةٌ،
اس بات کی دلیل بننے والی روایت کا بیان کہ عید الاضحٰی والے دن قربانی کرنے تک آدمی کا کچھ نہ کھانا افضل کام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1247
وَإِنْ كَانَ الْأَكْلُ مُبَاحًا قَبْلَ الْغُدُوِّ إِلَى الْمُصَلَّى، وَالْآكِلُ غَيْرَ حَارِجٍ وَلَا آثِمٍ
اگرچہ عیدگاہ کی طرف جانے سے پہلے کھانا جائز ہے اور کھانے والے پر کوئی حرج اور گناہ نہیں ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ، الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى، وَمَا يُحْتَاجُ فِيهِمَا مِنَ السُّنَنِ/حدیث: Q1247]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1427
نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأَضْحَى بَعْدَ الصَّلاةِ، فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ: ذَبَحْتُ شَاتِي وَتَغَدَّيْتُ قَبْلَ أَنْ آتِيَ الصَّلاةَ، فَقَالَ:" شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ" ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَرَّجْتُهُ فِي كِتَابِ الأَضَاحِي
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عید الاضحٰی والے دن نماز کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا، تو سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ (اے اللہ کے رسول) میں نے اپنی بکری نماز کے آنے سے پہلے ہی ذبح کرلی تھی اور کھانا بھی کھا لیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری بکری تو گوشت کی بکری ہے۔ (قربانی نہیں ہوئی) اور بقیہ حدیث بیان کی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو کتاب الاضاحی میں بیان کیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ، الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى، وَمَا يُحْتَاجُ فِيهِمَا مِنَ السُّنَنِ/حدیث: 1427]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 951، 955، 965، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1961، وابن الجارود فى "المنتقى"، 976، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1427، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5906، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1562، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2800، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1508، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6249، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18773»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں